سائنس کہتی ہے کہ انسانی عقل انتہائی بلندیوں کو چھو رہی ہے
مگر ایک حساس انسان اس کوکچھ یوں پکا رتا ہے :
جہل خرد نے دن یہ دکھائے
گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے
(جگر مراد آبادی)
کیا ہم انسان ہیں؟
کیا ہمارے اندر انسانیت ہے؟
کیا ہم دوغلے ہیں ؟
بظاہر انسانیت کے حسین لبادے میں ملبوس،
درحقیقت انسانیت کی تمام حدود پھاند کر حیوانیت کی عملی تفسیر۔
بتائیں، ہمیں انسانیت کہاں دفن کردی گئی ہے؟
آج کے انسانوں کے اندر انسانیت کا فقدان نظر آرہا ہے۔ بظاہر انسان لیکن اصل میں خوفناک درندوں سے بھی بڑھ کر حیوانیت کے پیکر۔
جن کی رگ رگ میں حیوانیت اور بربریت کا خون دوڑتا ہے،
جن کی آنکھوں سے شیطانیت ٹپکتی نظر آتی ہے،
جب ظلم کرنے پر آتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کہ جن پر ہم ظُلم وبربریت کی داستانیں رقم کررہے ہیں وہ بھی ہماری ہی طرح کے انسان ہیں۔
آخیر صرف یہ کہ:
بہتر ہے کہ نہ ڈالو ستاروں پہ کمندیں
انسان کی خبر لو کہ وہ دم توڑ رہا ہے
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
” روبی عابدی”
