السلام علیکم
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
ایام فاطمیہ
بی بی سیدہ و طاہرہ و معصومہ و مظلومہ فاطمہ زہرا صلوات اللَّه علیہ کی شہادت کے موقع پر ہماری اور ہماری فیملی
رسول اللَّه، خانوادہ رسولْ اور خصوصاً وقت کے امام۔ امام زماں عج کی خدمت میں اور تمام مومنین و مومنات و مسلمین و مسلمات کو تعزیت پیش کرتے ہیں
حضرت فاطمہٌ سلام اللَّه علیہا سے افضل اور باشرافت نہ کوئی خاتون آئی ہیں نہ قیامت تک آئیں گی لہٰذا بی بیْ کا ہر عمل کردار و رفتار پوری بشریت کے لئے ہر امور میں نمونہ عمل ہے یہ قیامت تک خدا کی طرف سے اٹل فیصلہ ہے
دریائے علم اجرِ رسالت ہیں فاطمہ
قرآن اختصار، فصاحت ہیں فاطمہ
محرومِ عدل، روحِ عدالت ہیں فاطمہ
اللہ کے نبیٌ کی محبت ہیں فاطمہ
رازِ حیات بنتِ نبیٌ کی حیات میں
ماں ایسی ہم نے دیکھی نہیں کائنات میں
حضرت فاطمہ زہرا(س) نے خواتین کے لیے پردے کی اہمیت کو اس وقت بھی ظاہر کیا جب آپ دنیا سے رخصت ہونے والی تھیں . اس طرح کہ آپ ایک دن غیر معمولی فکر مند نظر آئیں . تو اسماء بنتِ عمیس نے سبب دریافت کیا تو آپْ نے فرمایا کہ مجھے جنازہ کے اٹھانے کا یہ دستور اچھا نہیں معلوم ہوتا کہ عورت کی میّت کو بھی تختہ پر اٹھایا جاتا ہے جس سے اس کا قدوقامت نظر اتا ہے . اسماْ نے کہا کہ میں نے ملک حبشہ میں ایک طریقہ جنازہ اٹھانے کا دیکھا ہے وہ غالباً آپ کو پسند ہو.
اسکے بعد انھوں نے تابوت کی ایک شکل بنا کر دکھائی اس پر سیّدہ عالم بہت خوش ہوئیں
پردے کو اہلبیت سے عظمت عطا ہوئی
اس گھر کو ہر قدم پہ شہادت عطا ہوئی
عصمت عطا ہوئی ہے طہارت عطا ہوئی
اس در پہ چاند تاروں کو عزت عطا ہوئی
احسان ہے حجاب یہ زہرا کی آل کا
چادر بھی کام دیتی ہے اِک رُخ سے ڈھال کا
اور پیغمبرْ کے بعد صرف ایک موقع ایسا تھا کہ آپ کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئی چنانچہ آپ نے وصیّت فرمائی کہ آپ کو اسی طرح کے تابوت میں اٹھایا جائے .
مورخین تصریح کرتے ہیں کہ سب سے پہلی لاش جو تابوت میں اٹھی ہے وہ حضرت فاطمہ زہراْ کی تھی۔
سیدہ عالمْ نے اپنے والد بزرگوار رسولِ اللَّه کی وفات کے 3 مہینے بعد تیسری جمادی الثانی ( ایک روایت کہ مطابق 13 جمادیالاول ) سن ۱۱ ہجری قمری میں وفات پائی
علماء کے مابین اختلاف ہے کچھ حضرات ١٣ جمادی الاول اور دوسرے کچھ مجتہدین ٣ جمادی الثانی کو حضرت زہراٌْ کی شہارت مناتے ہیں
لہٰذا حو زہ علمیہ قم میں ایام فاطمیہ کے نام سے دونوں مہینوں میں کچھ دنوں کے درس وبحث کو حضرت فاطمہ زہراٌْ کے غم میں تعطیل کر تے ہیں
آپ کی وصیّت کے مطابق آپ کا جنازہ رات کو اٹھایا گیا .حضرت علی علیہ السّلام نے تجہیز و تکفین کا انتظام کیا .
صرف بنی ہاشم اور سلیمان فارسی، مقداد و عمار جیسے مخلص و وفادار اصحاب کے ساتھ نماز جنازہ پڑھ کر خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا .
موضوع ملا ہے مادرِ حسنین سے ہمیں
عزت ملی ہے خالقِ کونین سے ہمیں
(صفدر)
اَلسَّلاَمُ عَلَیْکِ یَا مُمْتَحَنَۃُ، امْتَحَنَکِ الَّذِی خَلَقَکِ فَوَجَدَکِ لِمَا امْتَحَنَکِ صَابِرَۃً،
آپ پر سلام ہو اے آزمائی ہوئی ذات۔ آپ کے خالق نے آپ کا امتحان لیا تو اس نے آپ کو امتحان میں صبر کرنے والی پایا
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”