اصلاح

السلام علیکم

اصلاح!

ہم بحیثیت انسان غلطیوں کے پتلے ہیں اور یہ کہ انسان ہی سے غلطیاں ہوتی ہیں۔

رسول اللَّه ص کے سمجھانے کی عادت یہ تھی کہ جب کوئی عیب یا غلطی کسی شخص میں دیکھتے تو اس کا نام نہ لیتے بلکہ یوں فرماتے کہ (ما بال الناس) لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ ایسا کرتے ہیں

ایک اہم بات اور یہ ہے کہ دوسروں کے سامنے کبھی کسی کو نہ سمجھائیں نہ دوسروں کےسامنے ان کی توہین کریں

اس طرح کہنے سے اصلاح نہیں ہوا کرتی ۔

اصلاح کے لئے محبت ،اپنائیت ،نصیحت ، برداشت اور ہمدردی اور نرم کلامی ہونی چاہیے،

تلخ کلامی اور سخت بیانی سے وقت اصلاح اتنا ہی دور ہونا چاہیے جتنا مشرق ومغرب میں فاصلہ ہے ۔

خیرخواہی اور غم خواری ہوگی تو محاسبہ کرنے کا سلیقہ بھی آئے گا۔

ایک صحیح بات اگر غلط طریقے سے کی جاتی ہے تو نہ صرف اپنا اثر کھوتی ہے بلکہ ردعمل کے طور پر ضد اور ہٹ دھرمی بھی پیدا کردیتی ہے۔

اس لیے محاسبے کا ٹھیک طریقے کا سیکھنا بھی ضروری ہے۔

جب کسی شخص کی کوئی بات کھٹکے یا اسکی غلطی غلطی نظر آئے تو جلدی کرنے کے بجاے معاملے کو اچھی طرح سے سمجھنے کی کوشش کرنا چاہئے۔

صورت حال کا ہرپہلو سے جائزہ لینا چاہئے، پھر اکیلے میں اُس سے بات کرنا۔

اُس شخص کو اس بات کا احساس دلانا کہ اُس کے مقام اور مرتبے کی وجہ سے اُس کی یہ چھوٹی غلطی بھی کس قدر نقصان دہ ہے۔

اُس فرد کو اس بات کا یقین دلائیں کہ یہ بات ہم نے اُس سے کہی ہے کسی اور سے اس کا تذکرہ نہیں کیا، (اور نہ ہی کسی سے اسکا ذکر کریں)

ہم اُس سے اپنی اصلاح کا وعدہ لے لیں۔

احتساب کے اس عمل سے اُسے اپنی اہمیت کا احساس ہوگا، وہ اپنی تربیت کر کے ایک اچھا داعی بنے گا

تنقید کے لیے شرط لازم ہے کہ وہ عیب چینی کی نیت سے نہ ہو

بلکہ اخلاص کے ساتھ اصلاح کی نیت سے ہو۔

محاسبہ کرتے ہوئے ان اصولوں کو پیشِ نظر رکھیے:

وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ اِدْفَـعْ بِالَّتِىْ هِىَ اَحْسَنُ

"برائی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو‘‘۔ (سورہ فصلت / حم سجدہ 34 آیت کا ایک حصہ)

اگر ہم کسی فرد میں، کسی چیز کو قابلِ اصلاح سمجھتے ہیں تو سب سے پہلے یہی آیت ہمیں مجبور کرے گی کہ ہم بے ڈھنگے طریقے سے وہ کام نہ کریں۔

مجمع میں اصلاح کا بیڑا نہ اٹھائیں،

ہمارا لہجہ اور الفاظ کا چناؤ اس بات کے مظہر ہوں کہ ہم واقعی اصلاح کرنا چاہتے ہیں۔

دل میں اخلاص اور فرض سے عشق، احتساب کے عمل کو احسن اور فطری بنائے گا اور مجمع میں اصلاح اس وقت کریں جب وہ خود مطمئن ہو یا اس نے کوئی سوال کیا ہو۔

کسی کی غلطی معمولی ہو یا زیادہ اسکی اصلاح اکیلے میں کریں۔

لوگوں کے سامنے اسکی عزت نفس مجروح نہ کی جائے یا کسی کی خوشنودی کی خاطر کسی کا دل نا دکھایا جائے

میرا اس شہر ِعداوت میں بسیرا ہے جہاں

لوگ سجدوں میں بھی لوگوں کا برا چاہتے ہیں

‎وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

‎سورہ طہ /47

‎“روبی عابدی”

تبصرہ کریں