حصہ اول
معلم / استاد کے حقوق
شاگرد کے اپنے معلم کے بارے میں حقوق و فرائض،
حسب ذیل ہیں:
1- استاد کی تعظیم کرنا اور علم ودانش کے مقام کی تجلیل کر نا [ -اابو منصور ،معالم الدین وملاذ المجتهدین ،ص٤٣]
2- استاد کے مقابلے میں تواضح، انکساری اور فروتنی کا مظاہره کرنا
3- معلم کے ساتھـ آمرانه گفتگو کر نے سے پرہیز کرنا-
4- معلم کو احترام کے ساتھـ یاد کرنا-
5- استاد و معلم سے سر مشق حاصل کرنا-
6- معلم کے نصائح اور تنبیهات کا شکریه ادا کرنا-
7- استاد کی ممکنه تیزی کو برداشت کرنا-
8- معلم کی تشریف آوری کا انتظار کرنا-
9- استاد کے کام میں رکاوٹ ڈالنے سے پرہیز کرنا-
10-استاد کے کلاس میں داخل ہوتے وقت اپنے آپ کو منظم کرنا-
11- تدریس کے وقت کو استاد پر زبردستی عائد نه کرنا-
12- استاد کے آرام میں ایجاد نه کرنا-
13- استاد کے سامنے شائستگی اور ادب کے ساتھـ بیٹھنا-
14- استاد کے سامنے اپنے حالات اور برتاٶ کا خیال رکھنا-
15- معلم کے سامنے اپنی آواز بلند کر نے سے پرہیز کرنا-
16- معلم کی باتوں میں پائی جانے والی کمی کو اشاروں سے تلافی کرنا-
17- استاد کے سامنے سوالات کے جواب دینے میں سبقت حاصل نه کرنا-
18- استاد کی باتوں کو دقت اور غور سے سننا-
19- استاد کی وضاحتوں کا احترام کرنا-
20-فضول اور وقت ضائع کر نے والے سوالات کو دہرانے سے پرہیز کرنا-
21- استاد سے موقع پر سوال کرنا-
22- اچھے اور دلکش سوالات پیش کرنا-
23- شرم وحیا کی وجه سے سوال کر نے سے اجتناب نه کرنا-
24- مطالب کو نه سمجھنے کا جرات مندی سے اعتراف کرنا-
25- ہر حالت میں استاد کے احترام کا تحفظ کرنا-
26- استاد کی برائی کر نے سے پرہیز کرنا
27- استاد کے بارے میں ہر قسم کے ناروا الزام کا دفاع کرنا
28- استاد کے عیبوں کی پرده پوشی کرنا اور اس کی خوبیوں کو بیان کر نا
29- استاد کے دشمنوں سے نشست بر خاست نه کرنا اور اس کے دشمنوں سے دوستی نه کرنا
30- خدا کی رضا کے لئے اس سے علم سیکھنا
31- درس کے کلاس میں خاموشی کی رعایت کرنا
[ -اابو منصور ،معالم الدین وملاذ المجتهدین ،ص٤٣]
[- شهید ثانی، منیۃ المرید،ص١٩٠]
مزید معلو مات: ” آداب تعلیم وتربیت در اسلام ”
ترجمه ڈاکٹر سید محمد باقر حجتی
( باقی آئندہ )
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی”
