“ حصہ دوئم “
کل شاگرد کے فرائض پوسٹ کیئے تھے
آج کی پوسٹ میں شاگرد کے حقوق اور معلم کے فرائض
اوّل : معلم کے اپنے شاگرد کے بارے میں فرائض اور حقوق :
یه دو قسم کے ہوتے ہیں :
الف- اخلاقی اور تر بیتی فرائض
ب- علمی اور تعلیمی فرائض
الف : اخلاقی اور تر بیتی فرائض ، جوحسب ذیل ہیں :
1- شاگرد کی به نسبت مهربانی اور محبت
2- اپنے شاگردوں کے ساتھـ نرم روی و فروتنی سے پیش آنا
3- طالب علموں اور شاگردوں کے حالات کے بارے میں مهر بانی کا مظاہره کرنا
4- شاگرد کے نام اور اس کے کوائف سے آگاه ہونا
5- شاگرد کی شخصیت کا احترام اور اس کے افکار کی اہمیت کا اعتراف کرنا
6- شاگردوں سے محبت اور توجه کر نے میں مساوات کی رعایت کرنا
7- شاگردوں کے تجربوں کی رعایت کرنا اور( علم وشائستگی میں) ان کے محاسن کی طرف توجه کرنا
8- شاگردوں کو شائسته معلمین کی معرفی کرنا
9- ادب اور شائستگی کے ساتھ نشست برخاست کرنا
10- درس کے دوران سنجید گی اور وقار کا مظاہره کرنا
11- شاگردوں میں ذمه داری اور نظم وضبط کی حس کو ایجاد کرنا (شهید ثانی، منیۃ المرید،ص١٩٠-)
12- شاگرد کے ساتھـ نرمی اور مهر بانی سے پیش آنا اور اس کے سوالات کا اہتمام کر نا (شهید ثانی ،منیۃ المرید ،ص٢١٤-)
13- نئے شاگردوں کے ساتھـ محبت وہمدردی اور خنده پیشانی سے پیش آنا
14- جن مسائل پر عبور نه رکھتا ہو ان کے بارے میں لاعلمی کا اعتراف کرنا
15- درس کو ختم کر نے سے پهلے اپنی لغزشوں اور غلطیوں کے بارے میں تذکرہ دینا
16- درس کو ختم کرنے کے بعد کلاس میں چند لمحه رکنا
١٧- شاگردوں کے لئے مانیٹر کا تعیّن کر نا
١٨- اخلاقی نصیحتوں اور دعا سے درس کو اختتام بخشنا
ب : علمی اور تعلیمی فرائض ،جوحسب ذیل ہیں :
١-علمی و عملی لحاظ سے شاگردوں کو قدم به قدم آگے لے جانا
٢- شاگردوں میں علم ودانش کے بارے میں شوق وولوله ایجاد کر نا
٣- شاگردوں کی استعداد کی رعایت کرتے ہوئے مطالب کو سمجھانے کی کوشش کرنا
٤- علوم کو پڑهانے کے دوران ان کے کلی ضوابط وقواعد کا ذکر کرنا
٥- شاگردوں کو علمی مشغلوں اور دروس کو دہرانے کی ہمت افزائی کرنا
٦- شاگردوں میں دقیق مسائل بیان کر نا اور ان سے سوالات کر نا
٧- شاگردوں کو اپنا درس سمجھانے میں بهترین قواعد اور طریقه کار سے استفادہ کر نا
٨- علوم و دانش کے منطقی قواعد کی رعایت کرنا
٩- مطالب کو بیان کر نے میں خلاصه اور اعتدال کی رعایت کر نا
١٠- کلاس کی مناسب فضا کی طرف توجه کر نا (ہر قسم کے آزار دهنده عوامل سے پرہیز کرتے ہوئے(شهید ثانی ،منیۃ المرید ،ص٢١٤-
١١- شاگردوں کی مصلحتوں کا خیال رکھنا اور تدریس کے وقت کو معین کرنا
١٢- تدریس کے دوران آواز اور بیان کی طرف توجه رکھنا (ابومنصور ،معالم الدین وملاذ المجتهد ین،ص٤٣-)
١٣- درس کے کلاس کے نظم و انتظام کے تحفظ کی رعایت کرنا-
[ -اابو منصور ،معالم الدین وملاذ المجتهدین ،ص٤٣]
[- شهید ثانی، منیۃ المرید،ص١٩٠]
مزید معلو مات: ” آداب تعلیم وتربیت در اسلام ”
ترجمه ڈاکٹر سید محمد باقر حجتی
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی”
