امام کاظم علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:
یقینا فاطمہ سلام اللَّه علیہا صدیقہ شہیدہ ہیں۔
(اصول کافی: ج۱، ص۴۵۸۔)
“وضاحت شہادتِ بی بی فاطمہ سلام اللَّه علیہا”
سب سے پہلی بات عقیدے میں انکی شہادت شامل نہیں ہے عقیدہ فقط اصول دین ہے
اب اگر کوئی شہادت کو اس طرح کے واقعات کے ذریعے نہ مانے تو عقیدے پہ کوئی فرق نہیں پڑتا یہ محبت اہل بیت ہے ۔۔
جہاں تک اسقاط حمل کا تعلق ہے وہ ہوا تھا مگر سبب دروازہ نہیں تھا
ان کی شہادت پے در پے واقعات کا ہونا سبب بنی
والد کی شہادت سے پہلے ان کے والد کی بات کو نہ ماننا اور کاغذ قلم نہ دینا
پھر والد کی شہادت ہی بہت بڑا صدمہ ہوتی ہے اسکو وہی سمجھ سکتے ہیں جن کے باپ گزر جائیں
( اس پہ فقط ہم اپنی فیملی کی مثال دیں گے ہماری ایک بہن کینڈا میں تھیں اور حاملہ تھیں پاکستان میں ہمارے ابو کا انتقال ہوا یہ سوچ کے کہ بہن پہ کوئی اثر نہ ہو اسکو نہیں بتایا تین دن تک اسکو ذہنی طور پہ تیار کرتے رہے کہ ابو بیمار ہیں بہت خراب حالت ہے وغیرہ وغیرہ تین دن بعد اسکو انتقال کا بتایا جیسے ہی اسکو خبر ملی اسکی حالت خراب ہوگئی اور اس کے ہاں قبل از وقت (premature) بے بی پیدا ہوئی اور اسکی حالت بہت خراب رہی)
یہ فقط انسانی حالت بیان کی کہ والد کا صدمہ ہی کتنا بڑا ہوتا ہے
بی بی کے اوپر ایک یہ صدمہ پھر
امام علیٌ کو انکا جائز مقام نہ دینا
خود انکو انکا حق فدک نہ دینا
بھرے دربار میں بلا کے جھوٹا قرار دینا
جن کو اللَّه اور رسول صدیقہ کہیں
اسکو ان ہی کے بابا کی امت بھرے دربار میں جھوٹا کہے
کیا اس سے بڑا کوئی صدمہ ہوسکتا ہے؟
یہ سب ذہنی اذیت اسقاطِ حمل کا سبب بنی اور اسی میں انکی شہادت ہوئی
اسی بات کے تناظر میں یہ روایت مستندسمجھی جائے یا نا سمجھی جائے دھمکی تک تمام صحیح ہے
مگر دروازہ گرا اور بی بی درمیان میں آئیں اس پہ مختلف روایات ہیں ان کو اگر ایک طرف رکھ دیں
تب بھی اسقاطِ حمل ہونا ذہنی پریشانی تھی
اور اس میں ہی انتقال ہوا
اسی لئے وہ شہیدہ کہلاتی ہیں کیونکہ بچہ سقط ہوا اور جناب محسن بھی شہید ہوئے
اس حالت میں ماں کا انتقال ہونا ماں کو شہادت کا رتبہ ملتا ہے
اگر ان روایات پہ سوچا جائے تو جو کہا جاتا ہے دروازہ گرایا گیا اور وہ دیوار و در کے درمیان دب گئیں
اس واقعہ میں اور شہادت میں دنوں کا فرق ہے
جبکہ اسقاط ہوتے ہی اگر اسکی صحیح ٹریٹمنٹ نہ ہو تو زہر جسم میں پھیلتا ہے
اور ایک دن میں ہی موت واقع ہوجاتی ہے
وَٲَ نَا ٲَسْٲَ لُکِ إنْ کُنْتُ صَدَّقْتُکِ إلاَّ ٲَ لْحَقْتِنِی بِتَصْدِیقِی
لَھُمَا، لِتُسَرَّ نَفْسِی، فَاشْھَدِی ٲَ نِّی طاھِرٌ بِوَلاَیَتِکِ وَوَِلایَۃِ آلِ بَیْتِکِ
(آپ سے سوال کرتے ہیں کہ اگر میں نے آپکی تصدیق کی ہے تو صرف اس لیے کہ آپ اس تصدیق کے ذریعے مجھے اپنے بابا
اور ان کے وصی سے ملحق کر دیجیے تاکہ مجھے خو شی ملے ۔اے بی بی (ع)گواہ رہنا کہ میں آپکی اور آپکے خاندان کی ولایت کی تائید کی ہے
صَلَوَاتُ اللّهِ عَلَیْھِمْ ٲَجْمَعِینَ
ان سب پر اللَّه کی رحمتیں ہوں)
دریائے علم اجرِ رسالت ہیں فاطمہْ
قرآن اختصار، فصاحت ہیں فاطمہْ
محرومِ عدل، روحِ عدالت ہیں فاطمہْ
اللَّه کے نبی کی محبت ہیں فاطمہْ
رازِ حیات بنتِ نبیْ کی حیات میں
ماں ایسی ہم نے دیکھی نہیں کائنات میں
۔۔۔
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ /47
“روبی عابدی”
