السلام علیکم
“دلوں پہ مہر “
گناہ گار کے دل سے گناہ کی برائی ختم ہو جاتی ہے یہاں تک کہ گناہ اس کی فطرت میں شامل ہو جاتا ہے، بلکہ اسے اس بات کی بھی پرواہ نہیں ہوتی کہ لوگ اسے دیکھ رہے ہیں یا لوگ کیا کہیں گے
اور یہ مقام اور مرتبہ فاسق و مشرک لوگوں کا ہے اس مقام پر پہنچ کر ان کی لذت کی انتہا ہوتی ہے، بلکہ فاسق لوگ اپنے گناہوں پر فخر بھی اسی مرحلے میں کرتے ہیں، اپنے کرتوت دوسروں کو بھی بتلاتے ہیں جنہیں پہلے ان کی حرکتوں کا علم نہیں ہوتا اور بڑے فخریہ انداز سے بتلاتے ہوئے کہتے ہیں
ایسے لوگوں کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا، ان کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہے، عام طور پر ان کے لیے توبہ کا دروازہ نہیں کھولا جاتا، جیسے کہ رسول اللَّه صلی اللَّه علیہ وآلہ و سلم کا فرمان ہے: (میری ساری امت کو معاف کر دیا جائے گا، ما سوائے اعلانیہ گناہ کرنے والوں کو) اور یہ بات بھی اعلانیہ گناہ میں شامل ہے کہ اللَّه تعالی کسی بندے کے گناہوں پر پردہ ڈالے رکھے اور پھر وہ بندہ خود ہی اپنی کارستانیوں کا پردہ چاک کر دے
گناہوں کی مقدار بہت زیادہ بڑھ جائے تو اس سے گناہگار کے دل پر مہر لگ جاتی ہے اور وہ غافلوں میں شامل ہو جاتا ہے،
خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰٓ أَبْصَٰرِهِمْ غِشَٰوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
(سورہ البقرہ/7)
اللَّه نے ان کے دلوں اور کانوں پر گویا مہر لگا دی ہے کہ نہ کچھ سنتے ہیں اور نہ سمجھتے ہیں اور آنکھوں پر بھی پردے پڑ گئے ہیں. ان کے واسطے آخرت میں عذابِ عظیم ہے
اصل میں انسانی دل گناہ کی وجہ سے میل آلود ہو جاتا ہے لیکن جب میل میں اضافہ ہو جائے تو وہ زنگ میں بدل جاتا ہے، یہاں تک کہ یہ زنگ بھی مہر اور سیل بند ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے دل ایک خاص پردے اور غلاف میں چھپ جاتا ہے،
محسوس بھی ہو جائے تو ہوتا نہیں بیاں
نازک سا ہے جو فرق گناہ و ثواب میں
(نریش شاد)
جس کو قرآن میں بھی کہا گیا ہے کہ دلوں پہ مہر لگادیتے ہیں
چنانچہ اگر ہدایت اور بصیرت مل جانے کے بعد ایسا ہوا ہو تو معاملہ بالکل الٹ ہو جاتا ہے ، اور اس وقت شیطان اسے اپنے شکنجے میں لے کر اسے جہاں چاہتا ہے لیے پھرتا ہے۔
اس لئے ایسے لوگوں کا ٹھکانا مستقل جہنم ہوگا
پروردگار ہم سب کو ایسے گناہوں سے بچائے رکھنا جو دلوں پہ مہر لگادیں آمین یا رب العالمین
یا رب، ز گناہِ زشتِ خود مُنفعلم
(یا رب، میں اپنے بدنما اور بد صورت گناہوں پر شرمسار و شرمندہ ہوں،)
وز قولِ بد و فعلِ بدِ خود خجلم
(اور اپنی بری باتوں اور برے کاموں پر نادم و پشیمان ہوں۔)
فیضے بہ دلم ز عالمِ قدس رساں
(یا رب تو میرے دل پر عالمِ قدس سے اپنا خاص فیض نازل کر،)
تا محو شود خیالِ باطل ز دلم
(تا کہ میرے دل سے باطل و فاسد خیال محو ہو جائیں (اور میرے دل کو سکون ملے)
(ابوسعید ابوالخیر)
(اردو ترجمہ: محمد وارث)
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی”
