قرآن کی سجدے والی آیتیں
(پوسٹ لمبی ہے اس کے لئے معذرت اسکو مختصر نہیں کرسکتے تھے)
ہمیں قرآن ہمارے دادا مرحوم (سید راحت حسین عابدی ابن سید علی حسین عابدی ) نے پڑھا یا بچپن میں اور قرآن کے سجدے والی آیتوں کے یاد کرنے کا یہ طریقہ ان کا ہی بتایا ہوا ہے کہ ہمیشہ یاد رکھنا چار سجدے واجب ہیں
وہ اکیس، چوبیس، ستائیس اور تیسویں سپارے میں ہیں ہم نے اسی ترتیب سے اسکو یاد رکھا
(دادا کے لئے الفاتحہ اور مغفرت کی دعا)
قرآن میں پندرہ (15) ایسی آیتیں ہیں جن کو پڑھنے کے بعد سجدے کیئے جاتے ہیں
ان میں سے قرآن مجیدکے چارسوروں کی آیتوں میں سجدہ واجب ہے : باقی گیارہ میں مستحب ہے
جن چار میں واجب سجدے ہیں وہ یہ ہیں:
ان سپاروں میں 21-24-27-30
یہ سورہ اور آیتیں ہیں 👇
سورہ سجده آیت نمبر 15
سورہ فصلت آیت نمبر37
سورہ نجم کی آخری آیت 62
سورہ علق کی آخری آیت 19
معروف قول کی بنا پر درج ذیل سورتوں کی آیات کے سننے یا پڑھنے پر سجدہ کرنا مستحب ہے
- سورہ اَعراف کی آخری آیت
- سورہ رعد کی آیت نمبر 15
- سورہ نحل کی آیت نمبر 48
- سورہ اسراء کی آیت نمبر 109
- سورہ مریم کی آیت نمبر 58
- سورہ حج کی آیت نمبر 18
- سورہ حج کی آیت نمبر 77
- سورہ فرقان کی آیت نمبر 60
- سورہ نمل کی آیت نمبر 25
- سورہ ص کی آیت نمبر 24
- سورہ اِنشقاق کی آیت نمبر 21
چار سورہ "والنّجم” "اقرا” "الم تنزیل” "حم سجدہ” میں سے ہر ایک میں سجدے والی[النجم آیت 62، سورہٴ اقرا آیت 19، سورہٴ الم تنزیل (سجدہ) آیت 15 سورہٴ حم سجدہ (فصلت) آیت 37۔] آیت ہے کہ اگر کوئی اسے کامل پڑھے یا سنے تو اس آیت کے ختم ہونے کے بعد فوراً سجدہ کرنا واجب ہے اور اسے سجدہٴ تلاوت کہا جاتا ہے
اور اگر بھول جائے تو جس وقت بھی یاد آئے سجدہ کرے اور بے اختیاری طور پر سننے سے سجدہ واجب نہیں ہوگا گرچہ بہتر ہے کہ سجدہ کرے۔
تو میرے سجدوں کی لاج رکھ لے
شعور سجدہ نہیں ہے مجھ کو
یہ سر ترے آستاں سے پہلے
کسی کے آگے جھکا نہیں ہے
قرآن کے واجب سجدے میں بعض شرطیں معتبر ہیں:
نیت کے ساتھ ہو، یعنی پیشانی زمین پر سجدہٴ تلاوت کی نیت سے رکھیں
اس طرح سے ہو کہ اگر لوگ دیکھیں تو کہیں کہ سجدہ کیا ہے۔
احتیاط واجب کی بنا پر سجدہٴ تلاوت کی جگہ غصبی نہ ہو۔
احتیاط واجب کی بنا پر انسان پیشانی کو سجدہ گاہ یا ایسی چیز پر رکھے جس پر سجدہ كرنا صحیح ہے۔
احتیاط مستحب ہے کہ انسان قرآن کے واجب سجدے میں پیشانی کے علاوہ سجدے کے دوسرے مقامات کو بھی اس دستور کے مطابق جو نماز کے سجدے میں ذکر کئے گئے زمین پر رکھے
اسی طرح احتیاط مستحب ہے کہ سجدے کی حالت میں انسان کی پیشانی رکھنے کی جگہ زانو اور انگلیوں کے سرے کی جگہ سے چار ملی ہوئی انگلیوں سے زیادہ اونچی نہ ہو۔
سجدہٴ تلاوت میں لازم نہیں ہے کہ انسان وضو، غسل یا تیمم کئے ہوئے ہو اس بنا پر اگر مجنب یا حائض کے لیے سجدہ تلاوت پیش آئے تو واجب ہے کہ سجدہٴ تلاوت کو بجالائے اور اس کے انجام دینے میں تاخیر کرنا جائز نہیں ہے۔
قرآن کے واجب سجدے میں لازم نہیں ہے کہ قبلہ رُخ ہو یا اپنی شرم گاہ کو چھپائے یا عورت اپنے سر کے بال اور بدن کو چھپائے اور اس طرح لازم نہیں ہے اس کا بدن اور پیشانی پاک ہو اور دوسری چیزیں بھی جو نمازگزار کے لباس میں شرط ہیں اس کے لباس کے لیے شرط نہیں ہیں۔
اگر نماز میں سجدے کی آیت سننے کے وقت خود بھی وہ آیت پڑھے تو ضروری ہے کہ دو سجدے کریں
اگر نماز کے علاوہ سجدے کی حالت میں کوئی شخص آیہ سجدہ پڑھے یا سنے تو ضروری ہے کہ سجدے سے سر اٹھائے اور دوبارہ سجدہ کرے۔
احتیاط واجب یہ ہے کہ قرآن مجید کے واجب سجدے میں انسان اپنی پیشانی سجدہ گاہ یا کسی ایسی چیز پر رکھے۔ جس پر سجدہ کرنا صحیح ہو اور احتیاط مستحب کی بنا پر بدن کے دوسرے اعضاء زمین پر اس طرح رکھے۔ جس طرح نماز کے سلسلے میں بتایا گیا ہے۔
جب انسان قرآن مجید کا واجب سجدہ کرنے کے ارادے سے پیشانی زمین پر رکھ دے تو خواہ وہ کوئی ذکر نہ بھی پڑھے تب بھی کافی ہے اور ذکر کا پڑھنا مستحب ہے۔ اور بہتر ہے کہ یہ پڑھے:
"لآَ اِلٰہَ الاَّ اللہُ حَقّاً حقّاً، لآَ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ اِیماَناً وّتَصدِیقاً،لآَ اِلٰہَ الاَّ اللہُ عُبُودِیَّۃً وَّرِقاً، سَبَحتُّ لَکَ یَارَبِّ تَعَبُّدًا وَّرِقّاً، مُستَنکِفاً وَّلاَ مُستَکبِرًا، بَل اَنَا عَبدٌ ذَلِیلٌ ضَعِیفٌ خَآئِفٌ مُّستَجِیرٌ۔
قرآن کے واجب سجدہ میں تکبیرۃ الاحرام تشہد اور سلام نہیں ہے لیکن مستحب ہے کہ سجدہٴ تلاوت سے سر اٹھانے کے بعد تکبیر کہے۔
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
“التماسِ دعا "
"روبی عابدی”
