اسلام میں اگر چہ عبادات کا بہت مقام ہے۔ لیکن دوسرے مذاہب کی طرح اسلام صرف عبادات کا حکم نہیں دیتا بلکہ عبادات کے ساتھ ساتھ اچھے اخلاق کی تعلیم بھی دیتا ہے ۔
جھوٹ ام الخبائث (برائیوں کی جڑ)ہے ۔کیونکہ اس سے معاشرے میں بے شمار برائیاں جنم لیتی ہیں ۔جھوٹ بولنے والا ہر جگہ ذلیل وخوار ہوتا ہے ۔ہر مجلس میں اور ہر انسان کے سامنے بے اعتبار و بے وقار ہو جاتا ہے ۔جھوٹ بولنے سے دنیا و آخرت کا نقصان ،عذاب جہنم اور قبر کی قسم قسم کی سزاؤں میں مبتلا ہوتا ہے ۔
اسلامی تعلیمات سچ بتانے اور سچے بولنے پر بہت زیادہ تاکید کرتی ہیں۔
اس کے علاوہ چند مقامات ایسے بھی ہیں کہ وہاں پر علماء کرام نے اس کی اجازت دی ہے کہ اگر وہاں پر حقیقۃً مَصْلِحَتْ ہو اور اسی میں فائدہ بھی ہو تو جھوٹ بولنے کی اجازت ہے
٭ جھوٹ بولنے کی اجازت کب ہے ٭
جھوٹ بولنے کی کہیں بھی رخصت نہیں دی مگر تین مقامات ایسے ہیں جہاں جھوٹ بولنا جائز ہے
(١)”لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے وہ ایسی بات کرتا جس سے اس کا مقصد لوگوں کے درمیان صلح کرانا ہوتا ہے ۔”
(٢)”دوران جنگ” کہ جنگ کے بارے میں فرمایا گیا کہ جنگ دھوکے کا نام ہے
(٣)”مردکا اپنی بیوی سے اور بیوی کا اپنے مرد سے اس وجہ سے جھوٹ بولنا کہ ان کے درمیان نفرت ختم ہو جائے
ایک بزرگ عالم دین سے ایک سوال پوچھا گیا کہ جھوٹ بولنے کی جائز صورتیں کون کون سی ہیں؟
تو آپ نے جوابا ارشاد فرمایا جھوٹ بولنے کی بعض جائز صورتیں ہیں مثلاً دو مسلمانوں میں اتفاق کروانا ہے ان میں ناراضگی ہے آپس میں تو ان میں جھوٹ بول کر صلح کروا سکتے ہیں ۔
اسی طرح اگر سخت فتنہ ہو جہاں سخت فتنے کا اندیشہ ہو ظن غالب ہو کہ اگر سچ بولا جائے گا تو سخت فتنہ ہوگا تو وہاں بھی جھوٹ کی اجازت ہے
اسی طرح ظلم سے بچنے کے لئے جھوٹ کی اجازت ہے یعنی کسی کو ظلم سے بچانا ہے” کہ فلاں کہا ں چھپا ہوا ہے اس کے دانت توڑ دوں گا” اور ہم کو لگے کہ یہ واقعی توڑ پھوڑ ڈالے گا یہ بہت غصے میں ہے اور قوی ہے اور ہم کو پتہ ہے کہ وہ کہاں ہے وہاں ہم جھوٹ بول سکتے ہیں
اس وقت صرف یہ کہنا کہ ہمیں نہیں معلوم:
تو یہاں کسی کو ظلم سے بچانے کےلئے بھی جھوٹ کی اجازت ہے اس طرح کے چند مواقع جھوٹ بولنے کے جائز ہوتے ہیں۔
یہ چندمواقع ہیں جن میں جھوٹ بولنے کی اجازت علماء کرام نے دی ہے اس میں یہ ضروری ہے کہ ان میں کوئی مصلحت پوشیدہ ہو
اس کے علاوہ بطور ہنسی مذاق جھوٹ بولنا جائز نہیں ہے اور ایسے شخص کے لئے روایات میں ہلاکت کی وعید بیان کی گئی ہے
واضح رہے کہ ایسے مواقع بھی پر واضح صریح جھوٹ نہ بولا جائے، بلکہ کوئی ایسا لفظ بول دیں، جو صریح جھوٹ بھی نہ ہو اور مقصود بھی حاصل ہوجائے۔
چنانچہ ہنسانے کے لئے جھوٹ بولنا جائز نہیں۔
صادق ہوں اپنے قول کا غالبؔ خدا گواہ
کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے
جھوٹ کے متعلق آیت اللَّه سیستانی کے جوابات
سوال: مذاق میں جھوٹ بولنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر اس کا مذاق ہونا مخاطب کو معلوم نہ ہو تو جایز نہیں ہے اور اگر معلوم ہو تو بنا بر احتیاط واجب جایز نہیں ہے ، ہاں کسی بات کو خبر دینے اور حکایت کے قصد کےبغیر کہہ سکتا ہے گر چہ ظاہر میں خبر ہو۔
سوال: مصلحت کے طور پر جھوٹ بولنا کیسا ہے؟
جواب: جھوٹ بولنا حرام اور توریہ کرنا (یعنی ایسی بات کہے کہ جس کے ظاہر سے ایسا معنی سمجھ میں ٰآتا ہو جو اس کے قصد کے خلاف ہے وہ معنی جو قصد کیا ہے جھوٹ نہیں ہو گر چہ خلاف ظاہر ہے)جایز ہے۔
سوال: کیا کسی کو سدھارنے کے لیے جھوٹ بولا جا سکتا ہے؟دو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنا اور اپنی مصلحت کے لیے جھوٹ بولنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: صرف دو جگہ پر جھوٹ بولنا جایز ہے:
البتہ بنا احتیاط واجب اگر توریہ کرنا ممکن نہ ہو۔
۱۔ مومنین اور خود کو نقصان سے بچانے کے لیے۔
۲۔ دو لوگوں میں اصلاح کرنے کے لیے۔
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
“التماسِ دعا "
"روبی عابدی”
