السلام علیکم،
(ایک جگہ پوسٹ پہ یہ کمنٹ کیا تھا کچھ لوگوں نے کہا کہ اس کو پوسٹ کریں تو سب کے اصرار پہ یہاں ایک ناچییز سی پوسٹ کررہے ہیں مگر سب سے گزارش ہے کہ مہربانی فرما کے بے جا بحث سے پرہیز کریں، )
“آباؤ اجداد کی اندھی تقلید یا رسومات”
یہ جو آباو اجداد کی اندهی تقلید ہوتی ہے اس پہ کچھ تجربہ کیا گیا کہ کس طرح ہوتی ہے اور اس کے مضمرات کیا ہوتے ہیں قرآن میں بھی آیا ہے کہ جب ان سے کہا جاتا ہے ایمان لاؤ تو کہتے ہیں کیا ہم اپنے آباو اجداد کا طریقہ چھوڑ دیں اسی سے متعلق یہ ایک تجربہ کیا گیا
کہ بغیر سوچے سمجھے جو پرانی رسموں یا چیزوں کو فالو
(follow )کرتے ہیں
تو ابتداء کہاں سے ہوتی ہیں
اس کے پیچھے کیا مضمرات ہوتے ہیں اور یہ سلسلہ کہاں سے شروع ہوتا ہے،
تجربہ:-
ایک کمرے میں دس( 10 ) بندروں کو رکھا گیا اور وہاں ایک سیڑهی کھڑی کی گئی چھت سے لگا کے.
اس سیڑهی کے اوپر چھت کے پاس کیلوں کا گچھا رکھا گیا ظاہر ہے بندروں کی پسندیده غذا،
اب بندروں نے جیسے ہی کیلا دیکھا جھٹ سیڑهی کے اوپر چڑهنے کی کوشش کرنے لگے اور سارے بندروں میں زورآزمائی شروع، کہ کون پہلے لیتاہے،
ادهر جیسے ہی پہلا بندر کیلے کی پاس پہنچا وہاں پہلے سے ایک پانی کا پائپ لگا تھا،
اس کو فل کھول دیا گیا اب جو بھی بندر اوپر جاتا پانی کے زور کی وجہ سے نیچے گر جاتا
یہاں تک ہر بندر تھوڑی تھوڑی دیر بعد کوشش کرتا مگر انجام وہی ہوتا اور کیلے تک کوئی نہیں پہنچ پاتا
کچھ عرصہ بعد یہ ہوا کہ جب کوئی بندر اوپر جاتا تو جو بندر پہلے گرا تھا وه اس بندر کی ٹانگ پکڑ کر کھنچتا اور اوپر چڑهنے سے روکتا
کچھ عرصہ بعد اس میں سے ایک بندر کو بدل دیا گیا یعنی پرانے نو( 9 ) بندر نیا ایک، ساتھ ہی ساتھ کیلا ہٹا دیا گیا مگر وہ سارے بندر اسی طرح سیڑهی پہ چڑهتے اور پانی کی وجہ سے نیچے گرتے اور نیچے والے بندر اسی طرح اسکی ٹانگ کھنچتے
غرض آہستہ آہستہ تمام بندر بدل گئے پرانے کی جگہ نئے آگئے
مگران کی کوشش وہی رہی کہ جو اوپر جانے کی کوشش کرتا اسکو روکتے یہاں تک آہستہ آہستہ سارے بندر بدل گئے مگر کرتے وہی رہے یعنی سیڑهی پہ چڑهنا اور دوسرے بندروں کا ٹانگ کھنچنا اب نئے بندروں کو یہ نہیں پتا تھا کہ وہ اوپر کیوں جارہے بس اسی طرح کرتے رہے
نتیجہ یہی سامنے آیا کہ پرانی رسموں کو بغیر سوچے سمجھے پورا کرتے رہتے ہیں ان کا انجام انہی بندروں جیسا ہے کہ ان کو پتہ نہیں بس بزرگوں کی رسومات اور بدعات کو follow
کرتے ہیں اور اس پہ سوچنے کی زحمت نہیں کرتے کہ
اسکی ابتداء کیسے ہوئی؟
کیا ہم صحیح کررہے ہیں یا نہیں؟
بس بنی اسرائیل کی طرح انکار کرنا ہے
اور اسی بات پہ اڑ جانا ہے کہ
کیا ہمارے باپ دادا نے غلط کیا
سب کے لئے لمحہ فکریہ
ہند میں حکمتِ دیں کوئی کہاں سے سیکھے
نہ کہیں لذّتِ کردار، نہ افکارِ عمیق
حلقۂ شوق میں وہ جُرأتِ اندیشہ کہاں
آہ محکومی و تقلید و زوالِ تحقیق!
خود بدلتے نہیں، قُرآں کو بدل دیتے ہیں
ہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!
(علامہ اقبال)
التماس دعاء
اللَّه تعالیٰ ہم سب کی توفیقات
اور علم میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین "
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
“روبی عابدی”
