“بیماری میں احتیاط”

“بیماری میں احتیاط”

زندگی اللَّه کی امانت ہے اسکی حفاظت ہم پہ واجب ہے
کیونکہ روزِ محشر ہمارے جسم کے متعلق سوال کیا جائے گا
اسلام کا اصول ہے کہ جہاں واجب کا ٹکراؤ مستحب سے ہو تو وہاں مستحب کو موخر کیا جائے
وقال امام علی (عليه السلام):
لاَ قُرْبَةَ بِالنَّوَافِلِ إِذَا أَضَرَّتْ بِالْفَرَائِضِ.
مستحبات سے قرب الہی نہیں حاصل ہوسکتا، جب کہ وہ واجبات میں سدراہ ہوں .
(کلمات قصار نهج البلاغه – 39)-
جو جگہیں بند کی گئیں ہیں اور اجتماعات میں جانے سے منع کیا گیا ہے اس کے پیچھے بھی مصلحت ہے
بےشک ان جگہوں سے لوگوں کو اللَّه ان ہی ہستیوں کے وسیلے سے شفا دیتا ہے لیکن اس وقت بند کرنے کا مقصد وہاں کی عزت و توقیر کم کرنا نہیں ہے
بلکہ عوام کے انٹر ایکشن کو قابو کرنا ہے کیونکہ شفا ان ہستیوں کے وسیلے سے گھر بیٹھے بھی مل جاتی ہے
تو بات یہ ہے کہ وسیلہ وہ ہستیاں ہیں انکا حرم نہیں اسی طرح مکہ مدینہ بند کیا گیا تو ان سے جگہوں کا وسیلہ نہیں۔
جس سے اور جس کے ذریعے مانگا جارہا ہے وہ پورا کرنے والا ہے
اللَّه ہر ایک کی دعا ہر جگہ سنتا ہے
گوردوارے میں مندر میں چرچ میں تمام جگہوں پہ لوگ دعا اللَّه سے مانگتے ہیں اور پورا کرنے والی ذات بھی اللَّه کی ہے
جگہ کا کوئی تعلق نہیں ہے
جگہوں پہ ہم اپنی عقیدت کی وجہ سے جاتے ہیں
بہت مشہور واقعہ ہے رسول اللَّه کے زمانے میں وباء پھیلی تھی تو کچھ لوگ اس علاقے سے رسول اللَّه کے پاس آئے اور ہاتھ پہ بیعت کرنا چاہی تو
رسول اللَّه نے ان سے دور سے ہی کہا کہ ہم نے تمھاری بیعت قبول کی
اس وقت احتیاط کا تقاضہ رسولْ نے کر کے دیکھایا کہ احتیاط واجب ہے اپنا ہاتھ نہیں بڑھایا

کیا رسول اللَّه کا یہ عمل ہمارے لئے سبق اور اسوۂ نہیں؟

جذبات کے بجائے ہوش سے باتیں سمجھا کریں

آیت اللَّه سیستانی کا فتوی
واجبات پہ زیادہ فوکس کریں
ایسا نہ ہو کہ واجبات کو پسِ پشت ڈال کے مستحبات پہ لگ جائیں
خدارا احتیاطی تدابیر پہ عمل کریں ورنہ خود بھی خودکشی کے مرتکب ہوں گے اور جس کو ہماری وجہ سے یہ بیماری لگے گی اسکے قتل کی ذمہ داری اور دیت بھی واجب ہوگی

خدارا گھر میں رہیں
وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ
اپنے گھروں میں محصور ہو کر آرام سے رہو. (احزاب آیه 33)

صرف کچھ دن کی بات ہے 🙏🙏

أَيَّامًا مَّعْدُودَاتٍ
بس کچھ دنوں میں .(بقره ايه 184)

وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ.
اپنے آپ کو خود ہی ہلاکت میں نہیں ڈالو. (بقره آیه 195)

پروردگار سب کو محفوظ رکھے اور جو خدانخواستہ اس کی لپیٹ میں آگئے ہیں ان کے پائے استقامت میں لغزش نہ آئے یہ آزمائش ہے اور وہ صبر و شکر کا دامن تھامیں رہیں
آمین یا رب العالمین

اللَّهُ يُنَجِّيكُم مِّنْهَا وَمِن كُلِّ كَرْبٍ
الله آپ کو اس تکلیف اور ہر پریشانی سے نکال دے گا. (انعام آیه 64)

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں