وضو فقط عبادت ہی نہیں
بلکہ ایک مکمل توبہ بھی ہے
بشرطیکہ اس کی زبان سمجھی جائے.
وضو میں عمل کے ذریعے کچھ کہا جا رہا ہوتا ہے.
جب ہم یہ زبان سمجھ کر وضو کرینگے تو وضو بامعرفت بھی ہو گا اور گناہوں سے نجات کا وسیلہ بھی.
.
پیغمبر اکرم صلی اللَّه علیه و آله وسلم فرماتے ہیں:
چہرے اور ہاتھوں کے دھونے
اور سر ، پاؤں کے مسح کرنے میں راز ہیں:
وضو میں چہرے کا دھونا:
یعنی
اے پروردگار، ہر وہ گناہ جو ہم نے اس چہرے کے ساتھ انجام دیئے ہیں ان کو دھوتے ہیں تاکہ پاک چہرے کے ساتھ تیری عبادت کریں اور پاک پیشانی مٹی پر رکھیں!
دونوں ہاتھ کا دھونا:
یعنی اے پروردگار جو گناہ ہم نے ہاتھوں کے ذریعے انجام دیئے ہیں ،
ان ہاتھوں کو پاک کرتے ہیں.
وضو میں سَر کا مسح کرنا:
یعنی اے پروردگار تمام باطل خیالوں اور وسوسوں کو اس مسح کے ذریعے پاک کرتے ہیں.
وضو میں پاؤں کا مسح:
یعنی اے پروردگار! غلط جگہوں پر جانا اور تمام وہ گناہ جو پاؤں کے ذریعے سے انجام دیئے ہیں ان کو پاک کرتے ہیں.
بحوالہ کتاب:
(من لایحضره الفقیه، ج ۲، ص ۳۰۲)
…
عبادت کے لیے تطہیر دل کی بھی ضرورت ہے
وضو کے بعد پھر اشکِ ندامت سے وضو کرنا
“راغب”
ہم جب اس طرح سمجھ کر
وضو کرینگے تو عبادت بھی ہو گی اور توبہ بھی.
سن نصیحت مری اے زاہد خشک
اشک کے آب بِن وضو مت کر
“داؤد”
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ “47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
