مغفرت کی رات

ﻣﻐﻔﺮﺕ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ
براۃ کے معنیٰ ہیں نجات، اور شبِ برات کا معنیٰ ہے گناہوں سے نجات کی رات۔ گناہوں سے نجات توبہ سے ہوتی ہے۔ یہ رات مسلمانوں کے لئے آہ و گریہ و زاری کی رات ہے، رب کریم سے تجدید عہد نجات کی رات۔ شیطانی خواہشات اور نفس کے خلاف جہاد کی رات ہے، یہ رات اللَّه کے حضور اپنے گناہوں سے زیادہ سے زیادہ استغفار اور توبہ کی رات ہے۔ اسی رات نیک اعمال کرنے کا عہد اور برائیوں سے دور رہنے کا عہد دل پر موجود گناہوں سے زنگ کو ختم کرنے کاموجب بن سکتا ہے۔ اللَّه رب العزت نے ارشاد فرمایا:
حٰم وَالْکِتٰبِ الْمُبِيْنِ اِنَّـآ اَنْزَلْنٰـهُ فِیْ لَيْلَةٍ مُّبٰـرَکَةٍ اِنَّا کُنَّا مُنْذِرِيْنَ فِيْهَا يُفْرَقُ کُلُّ اَمْرٍ حَکِيْمٍ
(حقیقی معنی اللَّه اور رسول صلیٰ اللَّه علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں) اس روشن کتاب کی قسم بے شک ہم نے اسے ایک بابرکت رات میں اتارا ہے۔ بے شک ہم ڈر سنانے والے ہیں اس (رات) میں ہر حکمت والے کام کا (جدا جدا) فیصلہ کردیا جاتاہے
احادیث میں پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ معصومین سے پندرہ شعبان کی رات شب بیداری اور عبادت انجام دینے کی بہت زیادہ سفارش ہوئی ہے۔ منجملہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ: جبرئیل نے پیغمبر اکرمؐ کو پندرہ شعبان کی رات نیند سے بیدار کیا اور نماز پڑھنے، قرآن کی تلاوت کرنے اور دعا و استغفار کی سفارش کی۔[مجلسی، بحارالانوار، بیروت، دارالاحیاءالتراث العربی، چاپ سوم، ۱۴۰۳ق ج ۹۸، ص۴۱۳.1]
ایک اور روایت میں آیا ہے کہ: پیغمبر اکرمؐ کی ایک زوجہ نے پندرہ شعبان کی رات آپؐ کے بارے میں خاص عبادتوں جیسے طولانی اور متعدد سجدوں کے انجام دینے کی خبر دی ہے۔[سید بن طاووس، اقبال الأعمال]
امام علیؑ اور امام صادقؑ نے بھی اس رات خاص اعمال کی انجام دہی کی سفارش کی ہے۔[سید بن طاووس، اقبال الأعمال]
یہ بہت بابرکت رات ہے، امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں کہ امام محمد باقر (ع) سے نیمہ شعبان کی رات کی فضیلت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: یہ رات شب قدر کے علاوہ تمام راتوں سے افضل ہے۔ پس اس رات تقرب الٰہی حاصل کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے۔ اس رات پروردگار اپنے بندوں پر فضل و کرم فرماتا ہے اور ان کے گناہ معاف کرتا ہے حق تعالیٰ نے اپنی ذاتِ مقدس کی قسم کھائی ہے کہ اس رات وہ کسی سائل کو خالی نہ لوٹائے گا سوائے اس کے جو معصیت و نافرمانی سے متعلق سوال کرے۔ خدا نے یہ رات ہمارے لیے خاص کی ہے۔ جیسے شب قدر کو رسول اکرم کے لیے مخصوص فرمایا۔ پس اس شب میں زیادہ سے زیادہ حمد و ثناء الٰہی کرنا اس سے دعا و مناجات میں مصروف رہنا چاہیئے۔
احادیث میں اس دن کی اہمیت کی ایک اہم وجہ خدا کی آخری حجت، منجی عالم بشریت حضرت امام مہدی(عج) کی ولادت با سعادت ذکر ہوئی ہے۔ [سید بن طاووس، علی بن موسی، اقبال الأعمال، تحقیق:جواد قیومی اصفہانی، ص۲۱۸ )

(۱)غسل کرنا کہ جس سے گناہ کم ہوجاتے ہیں۔
‎(‪۲‬)نماز اور دعا و استغفار کے لیے شب بیداری کرے کہ امام زین العابدین (ع)کا فرمان ہے، کہ جو شخص اس رات بیدار رہے تو اس کے دل کو اس دن موت نہیں آئے گی۔ جس دن لوگوں کے قلوب مردہ ہوجائیں گے۔
(‪۳‬)اس رات کا سب سے بہترین عمل امام حسین (ع)کی زیارت ہے کہ جس سے گناہ معاف ہوتے ہیں جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی ارواح اس سے مصافحہ کریں تو وہ کبھی اس رات یہ زیارت ترک نہ کرے۔ حضرت (ع) کی چھوٹی سے چھوٹی زیارت بھی ہے کہ اپنے گھر کی چھت پر جائے اپنے دائیں بائیں نظر کرے۔ پھر اپنا سر آسمان کی طرف بلند کرکے یہ کلمات کہے:
کوئی شخص جہاں بھی اور جب بھی امام حسین (ع)کی یہ مختصر زیارت پڑھے تو امید ہے کہ اس کو حج و عمرہ کا ثواب ملے گا
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا اَبَا عَبْدِ اللهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَ رَحْمَةُ اللهِ وَ بَرَکَاتُہُ
سلام ہو آپ پر اے ابوعبد اللَّه سلام ہو آپ پر اور اللَّه کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں

سب سے اہم بات اس رات جتنے بھی اعمال ہیں وہ قبولیت کی منزل پہ اس وقت جائیں گے جب ہم اپنے واجبات کی پابندی کرتے ہوں گے کیونکہ یہ تمام اعمال مستحبات میں ہیں اور اس وقت قبول ہوں گے جب ہم واجبات کے پابند ہوں
اس کو یہ سمجھیں یہ ہماری ایکسٹرا ایکٹیویٹیز (Extra activates) ہیں

پروردگار سے دعا ہے کہ ہم کو حقیقت سمجھ کر عمل کرنے کی توفیق دے بدعات سے نجات دے
آمین یا رب العالمین

(اگر کسی کا دل ہماری کسی بات سے دکھا ہو تو نہایت معذرت )

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں