( کچھ برادران اور خواھران کی فرمائش پہ قرآنی سلسلہ )
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
“(پڑھ) عظیم اور دائمی رحمتوں والے اللَّه کے نام سے۔”
نامِ اللَّه سے ابتداء انتہائی بابرکت شۓ ہے جس سے تکمیل کار کی ضمانت بھی حاصل ہوتی ہے اور مسلمانوں کی ذہنی تربیت بھی ہوتی ہے کہ کسی کام میں یادِ اللَّه سے غافل نہیں ہونا چاہئے اور جس کو ہر کام میں اللَّه یاد رہے گا اس کا کوئی کام قانونِ قدرت کے خلاف نہ ہوگا اور اسکی زندگی میں گناہوں کا گزر نہ ہوگا
رحمٰن:- مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی “عظیم اور وسیع رحمتوں والا” اور اسی لئے اس لفظ کا اطلاق عام طور سے اللَّه کے علاوہ کسی دوسرے پہ نہیں ہوتا
رحیم:- وہ صفت ہے جس میں دوام پایا جاتا ہے یعنی ہمیشہ رحمت اور مہربانی کرنے والا
رحمٰن کے بعد رحیم کے لفظ اس سے عظیم رحمتوں کے دوام کو ظاہر کرتا ہے
(تفسیر انوار القرآن۔ علامہ ذیشان حیدر جوادی)
منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے
پہلے بچے بھی کتنے بوڑھے تھے
(علوی)
مسلمانوں کے بعض فرقے بِسْمِ اللَّـهِ کو جزو سورہ نہیں مانتے
(تفسیر کبیر رازی جلد 1-ص 80)
لیکن مذہب اہلبیت کے کُل علماء کرام کا اس پہ اتفاق ہے کہ یہ سورہ حمد اور کل سورتوں کا سوائے سورة برآت (توبہ) کے جزو ہے اور مستقل آیت ہے جو شخص نماز میں نہ پڑھے اسکی نماز باطل ہے (تفسیر مجمع البیان)
اس کی فضیلت میں رسول اللَّهْ فرماتے ہیں کہ یہ آتشِ جہنم کے لئے سُپر اور ڈھال ہے
اعتراض: غیر مسلم اور عیسائی اعتراض کرتے ہیں کہ جب قرآن اللَّه تعالی کا کلام ہے اور بِسْمِ اللَّـهِ بھی اسی کا کلام تو یہ دوسرا اللَّه کون ہے جس کے نام سے قرآن والا اللَّه شروع کرتا ہے؟
جواب: یہ اعتراض ان ترجموں کی وجہ سے ہوا ہے جس میں اس طرح لکھا جاتا ہے کہ “شروع کرتا ہوں ساتھ نام اللَّه کے”
حالانکہ اس آیہ میں “شروع کرتا ہوں” کسی لفظ کا ترجمہ نہیں
دراصل بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ “اقراء “ مقدر ہے۔
چنانچہ علماء اسلام کا اتفاق ہے کہ سب سے پہلے سورہ علق نازل ہوئی جس میں رسول اللَّه کو کچھ پڑھنے کی ہدایت ہوئی تھی۔
اس کی پہلی آیت “ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ
(ترجمہ مولانا حسن امداد)
سورہ علق کی ابتداء «إقرأ: پڑھو» سے ہوتا ہے۔ پیغمبر اکرمؐ پر ہونے والے وحیانی تجربے کا آغاز اس جملے سے ہونا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ پیغمبر اکرمؐ کی نبوت کا آغاز ایک علمی حرکت[مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۸۱ش، ج ۲۷، ص۱۵۸-۱۵۹.]
اور ایک ثقافتی حکم سے ہوتا ہے۔[قرائتی، تفسیر نور، ۱۳۸۸ش، ج۱۰، ص۵۳۴.]
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ علوم قرآن کے ماہر علماء نے «اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّک الَّذِی خَلَقَ» سے استناد کرتے ہوئے کہا ہے کہ
بسم اللَّه الرحمن الرحیم قرآنی سورتوں کا جزء ہے کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ آیت اصل میں یوں تھی:
«اقرأ القرآن باسم ربک »
یعنی قرآن کو اپنے پروردگار کے نام سے پڑھو؛
پھر «القرآن» کا لفظ حذف ہوا ہے۔[مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۸۱ش، ج۲۷، ص۱۵۵.]
لہذا ہر بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ کے پہلے اقرا بمعنی پڑھ مقدر ہے جس سے اعتراض رفع ہوگیا “ب” استعانت کے لئے ہے یعنی اللَّه سے مدد چاہنا
پروردگار سے دعاگو ہیں کہ اس سلسلے کو جاری رکھنے میں ہماری مدد فرمااور ہم سب کو قرآن سمجھنے کی توفیق عطا فرما خصوصاً ہمارے بچوں کو ۔۔۔
آمین یا رب العالمین
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
