السلام علیکم
اللَّه نے قرآن میں کہا ہے کہ
وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (سورہ ق؛16)
ترجمہ : ہم اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہیں۔
یعنی ہمارے ساتھ اللَّه ہر وقت ہے ایسا نہیں ہے کہ شیطان بہکائے تو اللَّه دور ہوجائے
وہ شہ رگ سے بھی ہے نزدیک یہ قرآن کہتا ہے
ہے شہ رگ ہم سے کتنی دور نہ تم سمجھے نہ ہم سمجھے
شیطان مختلف حیلوں اور بہانوں اور گناہوں کے اسباب اور مظاہر کو خوبصورت بنانے کے ذریعے انسان کو ان گناہوں اور برے اعمال کی ترغیب دلاتا ہے،
لیکن وہ زور زبردستی کرکے انسانوں کو بدیوں سے دوچار کرنے پر قادر نہیں ہیں۔
انسان کے لئے شیطان کے وجود کا فلسفہ، بالکل انسان کی اندرونی قوتوں، جبلتوں اور نفس امارہ اور انسان کے دوسرے نفسوں کی مانند ہیں۔
ان جبلتوں اور نفس امارہ کا کام یہ ہے کہ کہ وہ انسان کو مادیات میں گھیر لیں، حقیقی کمال سے دور کریں
اور ظاہری خوبصورتیوں میں گھیر کر حقیقی محاسن اور خوبصورتیوں سے دور رکھیں۔
اس مسئلے کا سبب یہ ہے کہ انسان اور جن کی نشوونما ایک اختیاری عمل ہے،
اگر انسان فطری اور طبیعی جبلتوں کا حامل نہ ہوتا تو فرشتوں کی مانند بےاختیار ہوتا، شیطان اور اندرونی قوتوں کا اس پر کوئی اثر نہ ہوتا،
لیکن انسان اور جن صاحب اختیار ہیں اور انہیں اپنے اختیار سے حقیقی کمال کی طرف گامزن ہونا چاہئے اور یہ سارے مسائل اختیار کا لازمہ ہیں۔
دوسری طرف سے کمال، نیکی، عقل، انبیاء اور رسل کی طرف رجحان ان نفسوں اور شیطان نیز جبلتوں کے مد مقابل آ کھڑا ہوتا ہے جو انسان کو کمال اور سعادت کی طرف ہدایت کرتا ہے
اور صرف ان دو متضاد قوتوں کی بیک وقت موجودگی ہی کی صورت میں انسان یا جن اپنے اختیار سے ان دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کرسکتا ہے اور سعادت یا شقاوت تک پہنچ جاتا ہے۔
چنانچہ اگر نفس امارہ، سرکش اندرونی قوتیں نہ ہوتیں اور شیاطین نہ ہوتے تو انسان یا جن اللَّه کی طرف کی آزمائشوں سے نہ گذرتا اور ان قوتوں کی نفی نہ کرسکتا اور ان کے خلاف جدوجہد نہ کرسکتا
اور اس کی اعلی استعدادات اور صلاحیتوں کو جلا اور نشوونما نہ ملتی اور وہ کمال و سعادت کی راہ پر گامزن نہ ہوسکتا اور ابدی سعادت تک نہ پہنچ سکتا۔
علامہ سید محمد حسین طباطبائی فرماتے ہيں: "اگر کوئی شیطان نہ ہوتا، عالم انسانی کا نظام بھی نہ ہوتا، اور ایک شیطان کا وجود ـ جو انسان کو شر اور گناہ کی دعوت دیتا ہے ـ عالم انسانیت کے نظام کا رکن اور ستون ہے، اور صراط مستقیم کی نسبت اس کی حیثیت سڑک کے کناروں جیسی ہے اور واضح ہے کہ جب تک کہ سڑک کے دو کنارے نہ ہونگے سڑک کا وجود بھی فرض نہیں کیا جاسکے گا"۔
(تفسیر المیزان، ترجمه فارسى، ج 8، ص 50.)
انداز بياں گرچہ بہت شوخ نہيں ہے
شايد کہ اتر جائے ترے دل ميں مری بات
(علامہ اقبال)
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
”روبی عابدی“

Deep truth 💎☝️
پسند کریںLiked by 1 person
Baishaq kaash hum usy razi kar lain
پسند کریںLiked by 2 people