مومن کی صفات
“پوسٹ نمبر 3”
مسعدہ بن صدقہ کا بیان ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے مومن کے بارے میں پوچھا گیا
آپْ نے فرمایا: مومن کے دل میں قرآن کی عزت اور خالص ایمان ہوتا ہے اور وہ اللَّه کی عبادت بجا لاتا ہے۔ مومن اللَّه کا اطاعت گزار اور اس کے پیغمبر کا تصدیق کنندہ ہوتا ہے۔
آپْ سے پوچھا گیا کہ مومن کی علامات کیا ہیں؟
آپْ نے فرمایا: مومن کی خصوصیات میں کچھ علامتیں ہیں:
اس کی نیند اس شخص کی نیند جیسی ہوتی ہے جو ڈوب رہا ہو۔
اس کی غذا کسی بیمار کی طرح سے ہوتی ہے۔
اور وہ پسر مردہ ماں کی طرح سے گریہ کرتا ہے۔
اس کا بیٹھنا کسی ہراساں فرد کی طرح سے ہوتا ہے۔
آپْ نے فرمایا: مومن میں تین صفات ایسی جمع ہوتی ہیں جو کسی غیر مومن میں جمع نہیں ہوتیں:
1- وہ خدا کی معرفت رکھتا ہے۔
2- وہ خدا کے محبوب افراد کی معرفت رکھتا ہے۔
3- جن لوگوں سے خدا کونفرت ہے وہ انہیں بھی پہچانتا ہے۔
آپْ نے فرمایا: مومن کی قوت اس کے دل میں ہوتی ہے
آپْ نے فرمایا: مومن دین میں سخت پہاڑ سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا ہے کیونکہ حوادث کے نتیجہ میں پہاڑ کی اونچائی کم ہو سکتی ہے لیکن مومن کے دین میں کچھ بھی کمی نہیں ہوتی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ مومن اپنے دین کے متعلق انتہائی بخیل ہوتا ہے یعنی دین کو اپنے ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔
انہی اسناد سے آنحضرت صلی اللَّه علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے آپْ نے فرمایا:
جس شخص کو برائی ناگوار لگے اور بھلائی اسے خوش کر دے تو وہ مومن ہے۔
جہاں تمام ہے میراث مرد مومن کی
مری کلام پہ حجت ہے نکتہ لولاک
(علامہ اقبال)
حبیب واسطی کا بیان ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
مومن کے لیے یہ بات انتہائی ناپسندیدہ ہے کہ وہ کسی ایسے فعل کی طرف شوق رکھتا ہو جو اس کی ذلت کا موجب ہو۔
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
(علامہ اقبال)
حسین بن عمرو راوی ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
مومن لوہے کے ٹکڑوں سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے۔ کیونکہ جب لوہے کو آگ میں ڈالا جائے تو اس کی رنگت بدل جاتی ہے جب کہ مومن اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ اگر اسے قتل کیا جائے پھر اٹھایا جائے اور پھر قتل کیا جائے تو بھی اس کا دل متغیر نہیں ہوتا۔
محمد بن سلیمان دیلمی کا بیان ہے کہ میں نے امام جعفرصادق علیہ السلام کو یہ کہتے ہوئے سنا۔ آپْ نے فرمایا:
موسم سرما مومن کے لیے بہار ہے اس کی راتیں لمبی ہوتی ہیں اور مومن شب زندہ داری کے لیے اس سے مدد حاصل کرتا ہے۔
معاویہ بن عمار کا بیان ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
اللَّه تعالیٰ نے دنیاوی آزمائشوں سے مومن کو محفوظ نہیں رکھا البتہ اسے آخرت کے اندھے پن اور اسے شقاوت جو کہ آخرت کا اندھا پن ہے‘ سے نجات دی ہے۔
سعید بن غزوان کا بیان ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: مومن (خیر سے) محروم نہیں کرتا۔
صالح بن ہیثم کا بیان ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:
جس میں تین صفات موجود ہوں تو اس نے صفات ایمان کی تکمیل کرلی۔ جو کوئی اپنے اوپر ہونے والے ظلم وستم پر صبر کرے اور اپنا غصہ پی جائے اور اپنے دونوں اعمال کا بدلہ اللَّه سے طلب کرے تو وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جنہیں اللَّه جنت میں داخل کرے گا
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق
(باقی آئندہ)
اللَّه تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین "
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی "
