سحری

موضوع : روزہ

اہلِ ایماں کے لئے ہے یہ مسرت کا پیام
آگیا سرچشمہء فضلِ خدا ماہِ صیام
ماہِ رمضاں میں یہ افطار و سحر کا انتظار
ہے نشاطِ روح کا ساماں برائے خاص و عام

“سحری کے احکام”

سوال:- ایک شخص فجر کے وقت غفلت کے عالم میں سحری کرتا رہا یہاں تک کہ فجر کا وقت گزر گیا اور پھر اس کو پتہ چلا کہ فجر ہو چکی ہے تو اس کے اوپر کیا واجب ہے ؟

جواب: ضروری ہے کہ اس دن کی قضا کرے اور احتیاط واجب کی بناء پر مغرب تک مبطلات روزہ سے پرہیز کرے ہاں اگر اس کو سحری کرتے وقت فجر طلوع ہو جانے کا یقین نہ ہو تو اس کا روزہ صحیح ہے

سوال:- ہم سحری کر رہے تھے کہ اذان فجر ہوگی اس کی وجہ یہ تھی کہ ہماری گھڑی پانج منٹ پیچھے رہ گئی تھی اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: آپ پر قضا واجب ہے

سوال:- اگر کوئی شخص فجر کا وقت داخل ہونے کے بعد منہ میں رکھی ہوئی چیز کو ایک قابل اعتماد شخص کی اس بات پر بھروسہ کرتے ہوئے نگل لے کہ فجر کا وقت نہیں ہوا تو اس شخص کی کیا ذمہ داری ہے؟

جواب: اس پر قضا واجب ہے لیکن کفارہ واجب نہیں

سوال:- ایک شخص صبح کی اذان کے دوران بھی یہ سوچ کر کھانا کھاتا رہا کہ روزہ صبح کی اذان ختم ہونے کے بعد شروع ہوتا ہے اس کے روزے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب: اگر اسے یہ یقین حاصل ہو جائے کہ اس حقیقتنا طلوع فجر کے بعد کھانا کھایا ہے تو اس کی ذمہ داری ہے کہ روزہ کی قضا کرے

سوال:- صبح کی اذان سے دس منٹ پہلےموذن نے اعلان کیا کہ مومنین روزہ بند کر دیجئے لیکن ہم نے پروا نہ کی اور کھانا کھاتے رہے البتہ جب اس نے اللَّه اکبر کہا اس وقت مکمل طور پر اس طرح رک گیا کہ ہمارے منہ میں کھانے کی کسی قسم کے کوئی آثار نہ تھے تو کیا ہمارا روزہ صحیح ہے؟
یعنی ہم پر روزہ بند کر دینا کب واجب ہے اذان سنتے کے وقت یا اس سے دس منٹ پہلے؟

جواب : جیسے ہی انسان کو اطمینان ہو جائے کہ فجر طلوع ہو چکی ہے اسی وقت انسان پر روزہ بند کر دینا واجب ہے اور اگر اذان سے یہ اطمینان حاصل نہ ہو رہا تو پھر اس مسئلے کا اذان سے کوئی تعلق نہیں

آیة اللَّه العظمی السید علی الحسيني السيستاني دام ظله
آیة اللَّه العظمی رہبر معظم سید علی خامنہ ای دام ظلہ

سحری کے حوالے سے ایک انتہائی اہم مسئلہ
سؤال:1 اگر کوئی شخص اپنی گھڑی پر اعتماد کرتے ہوئے سحری کرتا رہے اور بعد میں معلوم ہوجاۓ کہ گھڑی خراب تھی اور طلوع فجر کے بعد بھی کھاتا رہا تو کیا حکم ہے؟
اسی طرح اگر ٹی وی پر اعتماد کیا یا دو عادل اور سچے انسانوں کے کہنے پر اعتماد کرتے ہوئے سحری کرتا رہا اور بعد میں معلوم ہوجاۓ کہ طلوع فجر کے بعد بھی کھاتا رہا تھا اور ٹی وی اور ان لوگوں سے غلطی ہوئی تھی تو کیا حکم ہے؟

جواب: تمام صورتوں میں اس دن کا قضاء واجب ہوگا کفارہ واجب نہیں، اور ضروری ہے کہ اذان مغرب تک روزہ باطل کرنے والی چیزوں سے اپنے آپ کو بچا کر رکھے

مطابق فتاوی آیۃ اللَّه العظمی السید علی الحسینی السیستانی دام ظلہ

اللَّه تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین "

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی "

تبصرہ کریں