گذشتہ سے پیوستہ
موضوع: روزہ
سوالات و جوابات
3⃣ *اللَّه، انبیاْ اور معصومین علیہ السلام سے جھوٹ منسوب کرنا*
روزہ ہو یا نہ ہو
جھوٹ بولنا حرام ہے
کسی سے جھوٹی بات منسوب کرنا بھی حرام ہے
معصومین ع سے کسی جھوٹی بات کو منسوب کرنے کا گناہ اور بھی زیادہ ہے
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى مَنْ هُوَ كَٰذِبٌ كَفَّارٌ
(سورہ رمز آیت 3 کا حصہ )
اللَّه کسی بھی جھوٹے اور ناشکری کرنے والے کو ہدایت نہیں دیتا ہے۔۔۔
اللَّه، انبیاءْ و آئمہ معصومین علیہ السلام سے جھوٹی بات منسوب کرنے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے
مثلا بولنا ،لکھنا، اشارہ کرنا، کسی سوال کے جواب میں ایس ایم ایس(Sms)
ای میل(Email) یا کوئی میسج فاروڈ(Frwd) یا کسی کی جھوٹی بات کی تائید کرنا وغیرہ
نوٹ
جانتے بوجھتے جھوٹ منسوب کرنے سے روزہ باطل ہوتا ہے
مثلاً سچ سمجھتے ہوئے نقل کیا بعد میں پتہ چلا کہ جھوٹ تھا روزہ صحیح ہے
نہیں معلوم سچ ہے یا جھوٹ تو ایسی بات کو حوالے کے ساتھ نقل کریں
جنہیں یہ فکر نہیں سر رہے رہے نہ رہے
وہ سچ ہی کہتے ہیں جب بولنے پہ آتے ہیں
(عابد ادیب)
4⃣ *پورا سر پانی میں ڈبونا*
آغا سیستانی کے مطابق پورا سر پانی میں ڈبونے سے روزہ باطل نہیں ہوتا البتہ شدید مکروہ ہے
مطلب اس سے ثواب کم ہو جاتا ہے لیکن یہ نہ حرام ہے اور نہ یہ روزہ باطل کرتا ہے
یہ 👇مسئلہ آغا خامنہ ای کے مطابق ہے
جان بوجھ کر پورا سر پانی میں ڈبونے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے
ان 👇صورتوں میں روزہ باطل نہیں ہوتا
1- بھولے سے ایسا ہو گیا
2- پورا سر نہیں ڈبویا کچھ حصہ ڈبویا
3- آدها سر ایک بار اور آدها دوسری بار ڈبویا
4- بے اختیار پانی میں گر گیا اور پورا سر ڈوب گیا
5- کسی اور نے زبردستی ڈبو دیا
6- شک کرے کہ پورا سر ڈوبا یا نہیں
اسی طرح نلکے یا(Shower) کے نیچے سر دهونے سے بھی روزہ باطل نہیں ہوتا
اگر غوطہ خوری کا لباس پہن کر جو سر کو بھی کور(cover) کرتا ہے یا swimming cap پہن کر زیر آب جایا جائے
یا آب دوز ( submarine) میں سفر کیا جائے
ان سب صورتوں میں بھی روزہ صحیح ہے
*آیة الله العظمی السید علی الحسيني السيستاني دام ظله*
*آیة الله العظمی رہبر معظم سید علی خامنہ ای دام ظلہ*
اللَّه تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین "
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی "
