“شرعی مسافت”
رمضان کی وجہ سے روزہ کب قصر ہوتا ہے؟
لوگوں کے میسج میں بہت زیادہ سوالات آئے ہیں اس حوالے سے یہ تحریر مختلف مراجع کے فتوؤں سے جمع کی ہے
“فرسخ “
فرسخ فاصلے کی پیمایش کا پرانا معیار ہے کہ جو کلو میٹر کے حساب سے تقریباً پانچ سے ساڑھے پانچ کلو میٹر ہے.
شرعی فرسخ جو کہ مشہور ہے اس کے علاوہ دوسرے فرسخ بھی ہیں جیسے ہندی فرسخ جو 12 کلو میٹر،
قاجاریہ اور پہلوی دور کے فرسخ جو تقریباً 6 کلو میٹر تھے.
بعض اوقات فرسخ کو فرسنگ سے تعبیر کیا گیا ہے.
“فرسخ کا اندازہ”
ہر شرعی فرسخ تین میل اور مشہور فقہاء کی نظر میں ہر میل چار ہزار ذراع اور ہر ذراع کا طول 24 انگلیاں
یا عام شخص کے دو بالشت ہیں.
اس لئے، ذراع کے مطابق فرسخ بارہ ہزار ذراع ہو گا.
[منتهی المطلب، ج6، ص335؛ الاوزان و المقادیر، ص86.]
کلو میٹر کے حساب سے اس کی مقدار تقریباً پانچ سے ساڑھے پانچ کلو میٹر محاسبہ کی گئی ہے.
فرسخ کا اندازہ مختلف مکان میں مختلف ہو سکتا ہے
جیسے کہ ہندی فرسخ جو تقریباً 12 کلو میٹر ہے،
پہلوی اور قاجاریہ کے زمانے میں جو فرسخ رائج تھا وہ تقریباً چھ کلو میٹر تھا[دهخدا، ذیل واژه فرسنگ.]
اور خراسانی فرسخ شرعی فرسخ کے دو برابر ہے.
[فرهنگ فقه فارسی، ج5، ص682.]
“آٹھ فرسخ یا سفر کی شرعی حدود”
فرسخ کے کلو میٹر میں تبدیل ہونے کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے،
آٹھ فرسخ جو سفر کی شرعی حدود ہے وہ فقہاء کی نگاہ میں 40 سے 45 کلو میٹر ہے:
40 کلو میٹر [آیت اللَّه زنجانی کی نظر کے مطابق]،
43 کلو میٹر [آیت اللَّه ناصر مکارم شیرازی کی نظر کے مطابق]،
44 [آیات اعظام: خویی، تبریزی، وحید، سیستانی. کی نظر کے مطابق]،
اور
45 کلو میٹر [آیات اعظام : امام، اراکی، فاضل، گلپایگانی، صافی، بهجت، خامنہ ای، نوری. کے نظر کی مطابق] وغیرہ ہے
[احکام مسافر، ص23.][توضیح المسائل مراجع، ج1، ص673.]
عجب جنون مسافت میں گھر سے نکلا تھا
خبر نہیں ہے کہ سورج کدھر سے نکلا تھا
“احمد فراز”
“شرعی فرسخ کے متعلق احکام”
شرعی فرسخ کے متعلق احکام، نماز، حج اور تجارت کے باب میں بیان ہوئے ہیں.
استعمال شدہ موارد:
فرسخ مسافت کو معین کرنے والے موارد میں استعمال ہوا ہے کہ جس کے چند نمونوں کی طرف اشارہ ہوا ہے:
- سفر کی وجہ سے نماز قصر اور روزہ افطار ہوتا ہے:
سفر کا عنوان آٹھ فرسخ پورے ہونے کے بعد محقق ہوتا ہے
اور کچھ شرائط کی بناء پر نماز کے :#قصر اور روزے کے افطار ہونے کا باعث بنتا ہے. - دو نماز جمعہ کے درمیان فاصلہ:
دو جگہ پر نماز جمعہ پڑھنے کے لئے ان کے درمیان اگر ایک فرسخ سے کم فاصلہ ہو تو نماز جمعہ صحیح نہیں ہے.
[جواهر الکلام، ج۱۱، ص۲۴۵.] - نماز جمعہ کا واجب ہونا:
فرض کریں جس وقت نماز جمعہ واجب ہو،
جیسے امام معصوم(ع) کے زمانے اور آپ(عج) کی غیبت میں،
جن افراد کی محل اقامت اور نماز جمعہ کی جگہ کے درمیان تک دو فرسخ سے زیادہ فاصلہ ہے ان پر نماز جمعہ واجب نہیں ہے.[جواهر الکلام، ج۱۱، ص۲۶۵.]
“باقی آئندہ”
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
