کفارہ کیا ہوتا ہے؟
گزشتہ سے پیوستہ
فقہی اعتبار سے کفارہ کی مختلف اقسام ہیں:
کفارہ مُعَیَّنِہ، کفارہ مُرَتَّبِہ اور کفارہ مُخَیّرہ۔
کفارہ مخیرہ، اس کفارہ کو کہا جاتا ہے جس میں شارع مقدس نے مکلف کو یہ حق دیا ہے کہ وہ کفارے کے مختلف اقسام میں سے جس کسی کو بھی چاہے ایک کے انتخاب کرے۔
جن عوامل کی وجہ سے کفارہ مخیرہ واجب ہوتا ہے وہ یہ ہیں:
عمدا رمضان المبارک کا روزہ باطل کرے،
نذر اور عہد کی خلاف ورزی اور وہ عورت جو مصیبت میں اپنا بال نوچ ڈالے۔
ان موارد میں مکلف مخیر ہے کہ
یا ایک غلام آزاد کرے
یا دو مہینے روزہ رکھے
یا 60 فقیروں کو کھانا کھلائے۔
کفارہ معین، اس کفارہ کو کہا جاتا ہے جس میں کفارہ کی نوعیت خود شارع کی طرف سے معین ہوتا ہے اور مکلف کو اس حوالے سے کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔
کفارہ مُرَتَّبہ، کفارہ کی اس قسم میں شارع مقدس کی طرف سے چند چیزوں میں سے ایک کو بالترتیب بجا لانا کا حکم ہے
یعنی اگر پہلی قسم کو انجام نہ دے سکے تو دوسری اور
اگر دوسری کو انجام نہ دے سکے تو تیسری …
اور جب تک پہلی قسم کو انجام دے سکتا ہو دوسری اور تیسری کی باری نہیں آتی۔
کفارہ کی ایک اور نوعیت مخیرہ و مرتبہ ہے
یعنی پہلے مرحلے میں مکلف کو اختیار ہے جس کسی کو بھی چاہے انتخاب کرے
لیکن اگر ان میں سے کسی ایک کو بھی انجام نہ دے سکتا ہو تو پھر کفارے کی دوسری قسم کی باری آتی ہے۔
کفارہ جمع:
سے مراد کفارہ کی تین اقسام کو اکھٹے انجام دینے کے ہیں
یعنی ایک غلام یا کنیز آزاد کرے،
دو ماہ روزہ رکھے اور
60 فقیروں کو کھانا بھی کھلائے۔
کفارہ جمع جن عوامل کیلئے واجب ہو جاتا ہے
وہ: کسی مومن کو عمدا قتل کرنا
اور رمضان المبارک کے روزے کو کسی حرام کام جیسے شراب پینا وغیرہ کے ذریعے عمدا توڑنا وغیرہ ہے۔
کفارہ ہوتا ہے دومہینے روزے رکھنا
یاساٹھ فقیروں کو پیٹ بھرکرکھاناکھلانا
یا ہرفقیرکوایک مدتقریباً ’’750‘‘ گرام طعام( یعنی گندم یاجویاروٹی وغیرہ دینا)
یہ الگ الگ ہوتا ہے کہ روزہ توڑا ہے
یا چھوڑا ہے
یا غلطی سے ہوا ہے
کفارے میں فقیر کو کھانا کھلانا ہوتا ہے
مد میں ایک معین کردیا گیا ہے وہ دینا ہے
اگر ماہ رمضان کے روزے جان بوجھ کر نہ رکھے:
الف: روزہ نہ رکھنے کے لیے اللَّه کی بارگاہ میں سنجیدگی کے ساتھ توبہ کرے۔
ب: واجب ہے كہ ا س کی قضا بجالائے۔
ج: ماہ رمضان کا روزہ عمداً نہ رکھنے کا کفارہ اس پر واجب ہے یعنی ہر دن روزہ نہ رکھنے کے لیے دو مہینہ روزہ رکھے یا ساٹھ فقیر کو کھانا کھلائے یا ایک غلام آزاد کرے۔
د: آئندہ ماہ رمضان تک اس روزے کی قضا نہ بجا لائے تو احتیاط واجب کی بنا پر ہر دن کے لیے ایک مُد طعام کفارہ بھی دے۔
لاعلمی کا مداوا علم ہے
مگر جہل کا کوئی کفارہ نہیں
اللَّه تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین "
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی "
