السلام علیکم
امام حسنْ ابن علیٌ کی ولادت باسعادت کی پرمسرت موقع پہ ہماری اور ہماری فیملی کی طرف سے رسول اللَّه، امام علیٌ و بی بی فاطمہٌ، خانوادہ رسولٌ خصوصاٌ ہمارے وقت کے امام عصر عج،
تمام مومنین و مومنات، مسلمین و مسلمات کو دل کی گہرائیوں سے ہدیہ تہنیت پیش کرتے ہیں
سوچا خزاں کے عہد میں جب بھی چمن کا نام
آیا مری زباں پہ امام حسنْ کا نام!
(محسن نقوی)
امام حسنْ بن علیْ بن ابی طالب امام علیؑ اور حضرت فاطمہؑ کے سب سے بڑے فرزند اور پیغمبر اکرمؐ کے بڑے نواسے ہیں۔ آپ کا نسب بنیہاشم اور قریش تک منتہی ہوتا ہے۔
آپ شیعوں کے دوسرے امام ہیں۔ آپؑ 21 رمضان سنہ 40ھ کو اپنے والد ماجد امام علیؑ کی شہادت کے بعد امامت کے عہدے پر فائز ہوئے اور دس سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔
تشبیہہ دوں کسی سے مری کیا مجال ہے؟
بس اتنا کہہ رہا ہوں، حسن بے مثال ہے
(محسن نقوی)
"حَسَن” عربی زبان میں نیک اور اچھائی کے معنی میں آتا ہے اور یہ نام پیغمبر اکرمؐ نے آپ کیلئے انتخاب کیا تھا۔بعض احادیث کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے یہ نام آپ کیلئے خدا کے حکم سے رکھا تھا۔[ابن شہرآشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق،ج۳، ص۳۹۷؛ ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۲۴۴۔]
آپؑ کی کنیت "ابومحمد” اور "ابوالقاسم” ہیں۔ آپ کے القاب میں مجتبی(برگزیدہ)، سَیّد (سردار) اور زَکیّ (پاکیزہ) مشہور ہیں۔ آپ کے بعض القاب امام حسینؑ کے ساتھ مشترک ہیں جن میں "سیّد شباب اہل الجنۃ”، "ریحانۃ نبیّ اللہ” اور "سبط” ہیں۔ پیغمبر اکرمؐ سے منقول ایک حدیث میں یوں آیا ہے: "حسن” اسباط میں سے ایک ہے”۔ آیات و روایات کی رو سے "سبط” اس امام اور نَقیب کو کہا جاتا ہے جو انبیاء کی نسل اور خدا کی طرف سے منتخب ہو۔
چہرہ حسنْ کا ہے کہ شبیہہِ رسولْ ہے
عالم تمام نقشِ کفِ پا کی دھول ہے
(محسن نقوی)
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
”روبی عابدی”
