موضوع: روزہ /صوم
"سحری میں احتیاط”:
ایک آرٹیکل کے کچھ جملے شیئر کررہے ہیں
ماہِ رمضان کی آمد سے ایک دن پہلے ہی ایک عزیزہ نے فیس بُک پر میسج کیا کہ بھائی سحر و افطار کے اوقات سے آگاہ کیجیے گا، خیر میں نے بادلِ نخواستہ ایک کلینڈر ڈھونڈا، جسے اسلام آباد کے معروف دینی ٹرسٹ "الصادق” نے شیئر کیا ہے، وہ اُنھیں بھیج دیا۔۔۔
میں نے بغور کیلنڈر دیکھا تو لکھا تھا "اختتامِ سحر، بطورِ احتیاط” بوقت 3:05 جبکہ وقتِ نمازِ فجر 3:20
اچھا تو میں حیران تھا کہ نمازِ فجر کے وقت سے 15 منٹ پہلے روزہ بند کیا جارہا ہے، ایسا کیونکر ہو سکتا ہے!
دوست، احباب نے بتایا کہ 15 منٹ پہلے بطورِ احتیاط، روزہ بند کر لینا چاہیے۔
لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔۔۔
جسے احتیاط کا شوق ہے وہ 2 گھنٹے پہلے روزہ بند کرلے، لیکن مخلوقِ خدا سے وہ سہولت نہ چھینے جو اُنھیں اللَّه رب العزت نے دی ہے۔
احتیاط کی بنا پر 15 منٹ پہلے روزہ بند کرنے کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ اُسی وقت اذانِ فجر بھی دے دی جاتی ہے جو وقت سے پہلے بطورِ اعلام تو درست ہے لیکن نماز کے لیے کافی نہیں ہے۔ دوسرا یہ کہ بسا اوقات لوگ اختتامِ سحر کے ساتھ ہی نمازِ فجر پڑھ کر سو جاتے ہیں، ایسے میں اُن کی نماز وقت سے پہلے ہو جاتی ہے جو درست نہیں ہے۔
اہلِ تشیع اور اہلِ سنت کا سحری کے وقت کے لحاظ سے کوئی اختلاف نہیں ہے، لہذا ہمارے شیعہ دوست آرام سے اہلِ سنت کے وقت کے ساتھ سحری بند کر لیا کریں۔
جسے احتیاط کا شوق ہے وہ اپنی ذات تک اِس شوق کو محدود رکھے، دین کے نام پر عوام الناس کی مشکلات میں ہرگز اضافہ نہ کیجیے۔۔۔”امجد برادر کی ایک تحریر سے اقتباس "
سحری اور افطار کا براہ راست تعلق روزے سے نہیں بلکہ اس کے لوازمات میں سے ہے۔ روزے کیلئے اتنا کافی ہے کہ فجر سے مغرب تک ان چیزوں سے پرہیز کیا جائے جن سے اللَّه تعالی نے منع کیا ہے۔ چونکہ ایک لمبے ٹائم تک کھانے پینے سے اجتناب انسان کو نحیف کر دیتا ہے لہذا سحری کی تاکید کی گئی۔ “جواد کا کمنٹ”
سحری کے اوقات میں فقہ جعفریہ اور فقہ حنفیہ میں فرق نہیں،اہل تشیع صرف احتیاط کے طور پر تین سے چار منٹ پہلے کھانا پینا بند کرتے ہیں۔ جسے غلط طور پر سمجھا اور اس پر عمل کیا جارہا ہے۔ اس طرح سے روزہ دار کی حق تلفی بھی ہوتی ہے اور اگر اسی حساب سے وہ نماز ادا کرے گا تو نماز فجر نہیں ہوگی کیونکہ وہ قبل از وقت اداکررہا ہوگا۔
کروٹ سی بدلتا ہے اندھیرا تو اُسے بھی
دے دیتے ہیں ہم سادہ منش، نام سحر کا
“ماجد”
پروردگار ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور سب کو خاص طور پہ سوچنے سمجھنے کی توفیق عطا کرے
آمین یا رب العالمین
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
