امام علی علیہ السلام

“ان تَہَدّمَت و اَللہ اَرکان الہُدیٰ”
خدا کی قسم ارکان ہدایت منہدم ہوگئے

بارون کاردایفو(فرانسیسی دانشور )
”علی علیہ السلام حادثات سے علی نہیں بنے
بلکہ علی سے حادثات وجود میں آئے۔
اُن کے اعمال خود اُن کی فکر و محبت کا نتیجہ تھے۔
وہ ایسے پہلوان تھے جو دشمن پر عین غلبہ کے وقت بھی انتہائی نرم دل اور زاہد ِ بے نیاز ثابت ہوئے۔
وہ دنیاوی مال و منصب سے بالکل رغبت نہ رکھتے تھے اور حقیقت میں انہوں نے اپنی جان بھی قربان کردی۔
وہ گہری روح رکھتے تھے جس کی جڑوں کی گہرائی تک کوئی نہ پہنچ سکتا تھا۔ہرجگہ وہ خوفِ الٰہی میں غرق رہتے تھے“۔
(”علی کیست“،مصنف: فضل اللہ کمپانی، صفحہ357)

پولس سلامہ(ایک لبنانی عیسائی ادیب اور وکیل)
ایک رات میں بیدا رتھا اور دردورنج میں مبتلا تھا۔
میرے تصورات اور تخیلات مجھے بہت پیچھے لے گئے۔
پہلے شہید ِاعظم امام علی علیہ السلام اور پھر امام حسین علیہ السلام کی یاد آئی۔
میں کافی دیر تک روتا رہا۔
پھر علی و حسین کے بارے میں اشعار لکھے”۔
یہ عیسائی مصنف اپنے آپ کو غیر متعصب کہتا ہے اور یہ بھی دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مسائل کو کھلی آنکھ اور غیر جانبدار دل و دماغ سے دیکھتا ہے۔
وہ فضائلِ علی علیہ السلام کو لکھنے کے بعد شہادتِ علی کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے
” اے دامادِ پیغمبر! تیری شخصیت ستاروں کی گردش گاہوں سے بھی بلند ہے۔ نور کی خصوصیت ہے کہ وہ ”
پاک وپاکیزہ باقی رہتا ہے۔
دنیاوی گردوغبار اُس کی اصلی چمک کو ماند نہیں کرسکتا۔
ہر کوئی جو شخصیت کے اعتبار سے اعلیٰ اور ثروت مند ہے، وہ کبھی فقیر نہیں ہوسکتا۔
اُس کی پاک نسل اور خاندانی شرافت دوسروں کے غموں میں شریک ہواور اعلیٰ و بزرگ ہوگئی ہے۔
دین و ایمان کی راہ کا شہید مسکراتے ہوئے ۔
دردوتکلیف برداشت کرتا ہے۔
اے ادب و سخن کے استاد!
تیرا کلام بحرئہ اوقیانوس سے بھی گہرا ہے
( ”داستانِ غدیر“، صفحہ301۔)

جبران خلیل جبران(ایک معروف عیسائی مصنف )
میرے عقیدے کے مطابق ابو طالب کا بیٹا علی علیہ السلام پہلا عرب تھا جس کا رابطہ کل جہان کے ساتھ تھا
اور وہ اُن کا ساتھی لگتا تھا۔
رات اُس کے ساتھ ساتھ حرکت کرتی تھی۔
علی علیہ السلام پہلے انسان تھے جن کی روحِ پاک سے ہدایت کی ایسی شعائیں نکلتی تھیں جو ہر ذی روح کو بھاتی تھیں۔
انسانیت نے اپنی پوری تاریخ میں ایسے انسان کو نہ دیکھا ہوگا۔ اسی وجہ سے لوگ اُن کی پُر معنی گفتار اور اپنی گمراہی میں پھنس کے رہ جاتے تھے۔
پس جو بھی علی علیہ السلام سے محبت کرتا ہے، وہ فطرت سے محبت کرتا ہے او رجو اُن سے دشمنی کرتا ہے وہ گویا جاہلیت میں غرق ہے۔
امام علی علیہ السلام اس دنیا سے رخصت ہوگئے لیکن خود کو شہید ِاعظم منوا گئے۔
وہ ایسے شہید تھے کہ لبوں پر سبحانَ ربی الاعلیٰ کا ورد تھا اور دل لقاء اللہ کیلئے لبریز تھا۔
دنیائے عرب نے علی علیہ السلام کے مقام اور اُن کی قدرومنزلت کو نہ پہچانا،یہاں تک کہ اُن کے ہمسایوں میں سے ہی پارسی اٹھے جنہوں نے پتھروں میں سے ہیرے کو چن لیا۔
علی علیہ السلام نے ابھی تو اپنا پیغام مکمل طو رپر اہلِ جہان تک نہ پہنچایا تھا کہ ابدی دنیا کی طرف راہی ہوگئے۔
لیکن میں اس چیز پر حیران ہوں کہ قبل اس کے کہ علی علیہ السلام اس خاکی دنیا کو خیرباد کہتے، اُن کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں تھے حضرت علی علیہ السلام کی موت اُن پیغمبرانِ خدا کی موت کی طرح تھی جو اس دنیا میں آئے۔
اُن لوگوں کے ساتھ ایک مدت زندگی بسر کی جو اُن کے قابل نہ تھے اور آخر ِ وقت وہ تن تنہا اور خالی ہاتھ تھے“۔
حوالہ ”داستانِ غدیر“، صفحہ 295۔
( تمام حوالہ جات نیٹ سے لیۓ گۓ ھیں )

المختصر کہ فضائل علی (ع) کو پہچاننے اور ان کو تسلیم کرنے میں مذہب و مسلک کی کوئ قید نہیں ۔
نہج البلاغہ کے مطالعہ کے بعد بھی باب العلم کے فضائل سے انکار کرنے والا جناب علی (ع) کی شخصیت کو کوئ نقصان نہیں پہنچاتا مگر اپنی تنگ نظری اورکم عقلی کا مظاہرہ کرتا ہے اذہان متقین سے یا اوراق تواریخ سے شان علیْ (ع) اگر کسی عبد الرحمن ابن ملجم کے خنجر سے مٹائ جا سکتی تو 1400 سال پہلے ہی مٹ چکی ہوتی ۔
علی (ع) کسی داستان کا نام نہیں،
علی (ع) تاریخ کا وہ کردارہیں جس کو بلا تفریق مذہب ، ھر انقلابی سوچ رکھنے والے شخص نے اپنا آئیڈ ئیل مانا ہے ۔ اورآمریت پسند زر پرستوں نے کردار علی کو ہمیشہ غلط مفاہیم کے ساتھ پیش کیا ہے ۔
حالانکہ جب تک قرآن باقی ہے ۔
ذکر رسول (ص ) باقی ہے ۔
اور جب تک ذکر رسول (ص ) باقی ھے
تب تک ذکر علی (ع ) بھی باقی رہے گا ۔
اور مثل قرآن ہم نہج البلاغہ سے بھی فیضیاب ہوتے رہیں گے ۔
ان شاء اللَّه

جب کبھی نام محمد (ص ) کا ، لیا جاتا ہے
خود بخود نام علی (ع) ساتھ میں آ جاتا ہے
( سکندر )
اقتباس

اَللّهُمَّ الْعَنْ قَتَلَةَ اَميرِ الْمُؤمِنينَ .

‎وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
‎ (سورہ طہ-47)
‎التماسِ دعا
‎”روبی عابدی”

تبصرہ کریں