السلام علیکم
زکات فطرہ پہ تفصیلی مضمون:-
“پہلا حصہ”
زَکات فِطرہ یا زکات فطر جسے اردو میں فطرہ کہا جاتا ہے،
اسلام کے واجب عبادات میں سے ایک ہے
جس کے معنی عید فطر کے دن مخصوص مقدار اور کیفیت میں مال کی ادائیگی کو کہا جاتا ہے۔
فطرہ فقیروں اور نیازمندوں کو دینا واجب ہے جس کی مقدار ہر بالغ اور عاقل شخص کے مقابلے میں سال کے غالب خوراک میں سے ایک صاع (تقریبا 3 کیلوگرم) گندم، جو، کھجور یا کشمش یا ان کی قیمت ہے۔
فطرہ کا ادا کرنا گھر کے سرپرست پر جو فقیر نہ ہو، واجب ہے۔ فطرہ کی ادائیگی کا وقت نماز عید فطر یا اسی دن ظہر کی نماز سے پہلے تک ہے۔ فطرہ کا مصرف زکات کے مصرف کی طرح ہے۔ احادیث کے مطابق فطرہ، روزے کی تکمیل، قبولیت، اسی سال میں انسان کی موت سے محفوظ رہنے اور زکات مال کی تکمیل کا باعث ہے۔
فطرہ کے کئی معنی ہیں:-
خلقت کے معنی میں: یعنی کسی مخلوق کی شکل و صورت جسے خدا نے اسے دی ہو، اس معنی کے اعتبار سے زکات فطرہ سے مراد خلقت کی زکات ہوگی اسی وجہ سے زکات فطرہ کو زکات بدن بھی کہا جاتا ہے کیونکہ زکات فطرہ انسان کے جسم کا مختلف آفتوں اور مصیبتوں سے بچنے کا سبب ہوتا ہے۔
اسلام کے معنی میں: اس صورت میں زکات فطرہ سے مراد زکات اسلام ہوگی۔ یہاں اسلام اور زکات فطرہ کے درمیان جو نسبت ہے وہ یہ ہے کہ زکات فطرہ اسلام کے شعائر میں سے ہے۔
روزہ کے مقابلے میں افطار کے معنی میں:
اس صورت میں زکات فطرہ سے مراد روزہ کھولنے کی زکات ہوگی۔[عاملی، مدارک الأحکام، ج۵، ص۳۰۷؛ انصاری، کتاب الزکاة، ص۳۹۷.]
احادیث کی روشنی میں:
امام صادق(ع) فرماتے ہیں: روزے کا کمال زکات فطرہ کی ادائیگی میں ہے۔
جس طرح نماز کا کمال پیغمبر اکرم(ص) اور آپ کی آل پر صلوات بھیجنے میں ہے۔
امام علی(ع) فرماتے ہیں:
"جو بھی فطرہ ادا کرتا ہے پروردگارِ عالم اس کے ذریعے اس کے مال میں سے جو زکات کی کمی رہ گئی ہے اسے پورا کرتا ہے۔[صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، ج۲، ص۱۸۳]
امام صادق(ع) نے فرمایا:
جس نے بھی اپنا روزہ کسی اچھی بات یا اچھے کام سے اختتام کو پہنچایا، خدا اس کا روزہ قبول کرتا ہے۔
لوگوں نے سوال کیا فرزند رسولْ، اچھی بات سے کیا مراد ہے؟
تو آپ نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ خدا کے سوائے کوئی معبود نہیں ہے اور اچھے کام سے مراد فطرہ کی ادائیگی ہے۔”[صدوق، التوحید، ص۲۲.]
امام صادق(ع) نے اپنے وکیل متعب سے فرمایا:
"جاؤ جن جن کے اخراجات ہماری ذمہ ہے ان سب کا فطرہ ادا کرو اور کسی ایک کو بھی ترک نہ کرو۔ کیونکہ اگر کسی کو ترک کر دیا یا فراموش کیا تو مجھے ڈر ہے کہ وہ فوت ہو جائے”
معتب نے سوال کیا: فوت سے کیا مراد ہے؟
(عربی میں فوت کا ایک معنی مفقود ہونا بھی ہے شاید راوی نے اس لئے یہ سوال کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ فوت سے مراد کیا ہے)
تو امامْ نے فرمایا: "موت”۔ [کلینی، الکافی، ج۷، ص۶۶۸.]
حکم:-
زکات فطرہ ایک واجب عبادت ہے اس وجہ سے اس کی ادائیگی کے وقت قصد قربت شرط ہے۔[یزدی، العروۃ الوثقی، ج۴، ص۲۰۴.]
واجب ہونے کی شرائط:-
1- بلوغ اور عقل: پس زکات فطرہ (نابالغ اور دیوانہ) سے ساقط ہے۔[نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۲۷۹]
2- ہوش میں ہو: جو شخص ماہ رمضان کی آخری تاریخ کو بے ہوشی کی حالت میں ہو تو اس پر زکات فطرہ واجب نہیں ہے۔[نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۴۸۵.]
3- بےنیازی: فقیر پر زکات فطرہ واجب نہیں ہے۔
مشہور قول کی بنا پر فقیر سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس ابھی یا مستقبل میں اپنی اور اپنے اہل و عیال کے سال بھر کا خرچہ نہ ہو۔ یعنی ابھی کوئی مال موجود بھی نہیں ہے یا کوئی ایسا ذریعہ بھی نہیں ہے جس سے وہ اپنا خرچہ پورا کر سکے۔ [نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۴۸۸ ـ ۴۹۰]
گذشتہ بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ: فقیر وہ شخص ہے جو زکات کے کسی ایک نصاب یا اس کی قیمت کا مالک نہ ہو۔ [الخلاف، ج ۲، ص۱۴۶.]
بعض فقہاء سے منقول ہے کہ جس شخص کے پاس فقط ایک دن اور رات کا خرچہ ہو تو اس پر بھی زکات واجب ہے۔[مختلف الشیعۃ، ج ۳، ص۲۶۱]
البتہ فقیر پر بھی فطرہ کے مستحب ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اور کم از کم یہ کہ ایک صاع(تقریبا تین کلو گرام) گندم یا دوسری اشیاء جو وہ فطرہ کے طور پر دینا چاہتا ہے، اس کو اپنے اہل خانہ کے ایک فرد کے ہاتھ میں دے اور وہ دوسرے کو اسی طرح پورا اہل خانہ آخر میں اسے فطرہ کے عنوان سے اپنے اہل خانہ کے علاوہ کسی اور فقیر کو دے دے۔ [نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۴۹۲.]
اس بات میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ زکات فطرہ واجب ہونے کیلئے علاوہ بر مخارج سال خود فطرہ کا بھی مالک ہونا شرط ہے یا نہیں؟۔
اس صورت میں اگر اسے بھی شرط قرار دے تو جس کے پاس پورے ایک سال کے خرچے کی علاوہ فطرہ کی مقدار کا بھی مالک نہ ہو تو یعنی سال کے اخراجات کے علاوہ کچھ نہ ہو تو اس پر زکات فطرہ واجب نہیں ہے۔
بعض فقہاء غنی بالفعل اور غنی بالقوہ یعنی ابھی اخراجات اس کے پاس ہونے اور کسی کام کے ذریعے رفتہ رفتہ اخراجات کے حاصل ہونے میں فرق کے قائل ہوئے ہیں اس وقت دوسری صورت میں یہ شرط رکھی ہے کہ سال کے اخراجات سے ہٹ کر زکات فطرہ کا بھی مالک ہو۔[حکیم، مستمسک العروۃ، ص۹، ص۳۹۰ ـ ۳۹۲.]
فطرہ واجب ہونے کے لئے عید کی رات مغرب تک شرائط کا موجود ہونا ضروری ہے۔ بنابراین اگر کوئی عید کی رات مغرب سے پہلے تک تو شرائط رکھتا ہو لیکن مغرب کے دوران اس میں شرائط مفقود ہو جائے تو اس پر فطرہ واجب نہیں ہے۔
ہاں اگر عید کی رات مغرب سے عید کی صبح نماز عید تک شرائط محقق ہو جائے مثلا اس دوران کوئی نابالغ، بالغ ہو جائے تو اس پر فطرہ ادا کرنا مستحب ہے واجب نہیں ہے۔[نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۴۹۹]
بعض معاصرین کہتے ہیں: اگر عید کی رات مغرب سے عید کے صبح نماز عید تک شرائط متحقق ہو جائے تو فطرہ بنابر احتیاط واجب ہے۔[منہاج الصالحین (خویی)، ج ۱، ص۳۲۰]
بعض دیگر کہتے ہیں: عید کی رات مغرب کے وقت شرائط کا موجود ہونا کافی ہے اس سے پہلے شرائط کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے.[یزدی، العروۃ الوثقی، ج ۴، ص۲۰۵ ـ ۲۰۶.]
اقتباس
باقی آئندہ
والسّلام
علی من اتبع الھدی
التماس دعا
"روبی عابدی "
