زکات فطرہ
(دوسرا حصہ)
گذشتہ سے پیوستہ
وہ افراد جن پر فطرہ واجب ہے:
جو بھی عید الفطر کی رات غروب کے وقت کسی شخص کے ہاں کھانے والے سمجھے جائیں ضروری ہے کہ وہ شخص ان کا فطرہ دے، قطع نظر اس سے کہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے مسلمان ہوں یا کافر اگر اس شخص میں فطرہ کے واجب ہونے کے شرائط ہوں میں اس پر ان سب کا فطرہ واجب ہے۔[حکیم، مستمسک العروۃ، ج ۹، ص۳۹۶ ـ ۳۹۷.]
بیوی کا فطرہ اس کے شوہر پر اسی طرح غلام کا فطرہ اس کے آقا پر ہر صورت میں واجب ہے اگرچہ یہ اس کے عیال میں شامل نہ ہوتے ہوں؟
یا صرف اس صورت میں واجب ہے کہ یہ ان کے عیال میں شامل ہوتا ہو؟
یا ان کا نفقہ ان پر واجب ہونے کی صورت میں واجب ہے؟ فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔[نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۵۰۲ ـ ۵۰۴]
البتہ اختلاف صرف اس صورت میں ہے کہ زوجہ اور غلام کسی اور کا عیال شمار نہ ہوتے ہوں ورنہ اگر یہ دونوں کسی اور کے عیال میں شمار ہوتے ہوں تو شوہر اور مالک سے ان کا فطرہ ساقط ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔[نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۵۰۴.]
جس شخص کا فطرہ کسی اور پر واجب ہے خود اس کے اوپر اس کا فطرہ واجب نہیں[نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۵۰۵]
اگرچہ وہ اسکا فطرہ ادا نہ بھی کرے . لیکن اس صورت میں کہ معیل(وہ شخص جو گھر کا ذمہ دارہے) فقیر ہو جبکہ عیال غنی ہو تو اس صورت میں عیال کے اوپر اپنی طرف سے اپنا فطرہ ادا کرنا واجب ہے یا نہیں؟
علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ [یزدی، العروۃ الوثقی، ج ۴، ص۲۰۹.]
مہمان کا فطرہ:-
مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہے۔
اگرچہ اس مسئلے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے کہ آیا عید کی رات ایک دفعہ افطاری کھانے سے مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہوتا ہے یا نہیں؟
بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہونے کیلئے مہمان کا عنوان صدق آنا کافی ہے اگرچہ افطار سے ایک لمحہ پہلے ہی کیوں نہ ہو۔
لیکن بقیہ حضرات معتقد ہیں کہ صرف اس مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہے جسے عرف میں میزبان کا عیال اور کھانے والا شمار کیا جاتا ہو۔
اس مسئلے میں دیگر اقوال بھی ہیں منجملہ:
پورے ماہ رمضان میں مہمان رہنے کی شرط؛
دوسرے نصف میں مہمان رہنا؛
آخری عشرے میں مہمان رہنا
یا آخری دو راتوں میں مہمان رہنا وغیرہ۔
[یزدی، العروۃ الوثقی، ج۴، ص۲۰۷ ـ ۲۰۸؛ خویی، موسوعۃ الخوئی، ج ۲۴، ص۳۹۳ ـ ۳۹۴.]
جنس اور مقدار:-
زکات فطرہ کے جنس کے بارے میں فقہاء کے کلمات مختلف ہیں۔
بعض فقط گندم، جو، خرما اور کشمش کو ذکر کرتے ہیں۔
جبکہ دوسرے حضرات مذکورہ اشیاء کے علاوہ مکئی اور خشک دھی کو بھی ذکر کرتے ہیں۔
ایک تیسرا گروہ مذکورہ اشیاء پر دودھ کو
جبکہ چوتھا گروہ چاول کا بھی اضافہ کرتے ہیں۔
متاخرین میں سے مشہور علماء زکات فطرہ کی جنس کو عرف عام میں غالبا اور اکثر استعمال ہونے والی چیز کو قرار دیتے ہیں۔[بحرانی، الحدائق الناضرة، ج ۱۲، ص۲۷۹؛ نراقی، مستند الشیعۃ، ج ۹، ص۴۰۵ ـ ۴۰۶؛ نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۵۱۴ ـ ۵۱۸]
زکات فطره میں مذکورہ اشیاء کی قیمت کی ادائیگی بھی کافی ہے۔[خویی، موسوعۃ الخوئی، ج ۲۴، ص۴۵۳]
زکات فطرہ کی مقدار ہر شخص کے مقابلے میں دودھ کے علاوہ باقی اشیاء میں ایک صاع (تقریبا 3 کیلوگرام) ہے۔
جبکہ دودھ میں اس کی مقدار کو بعض نے چار رطل ذکر کیا ہے اگرچہ مشہور دودھ میں بھی باقی اشیاء کی طرح ایک صاع ذکر کرتے ہیں۔
قول اول کی بنا پر رطل سے مراد "رطل عراقی” ہے یا "رطل مدنی” علماء کے درمیان اختلاف ہے۔[خویی، موسوعۃ الخوئی، ج ۲۴، ص۴۵۳]
زمان وجوب زکات فطرہ:-
متأخرین کے قول مشہور کی بنا پر زکات فطرہ ماہ رمضان کی آخری تاریخ کو مغرب کے وقت واجب ہوتی ہے۔
بعض فطرہ کے وجوب کے وقت کو عید کے دن فجر تک ذکر کیا ہے۔[نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۵۲۷؛ یزدی، العروۃ الوثقی، ج ۴، ص۲۲۲]
فطرہ کی ادائیگی کے آخری وقت کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے بعض اسے نماز عید کی ادائیگی کے وقت
جبکہ بعض عید کے دن زوال
اور بعض اسے اسی روز مغرب تک ذکر کرتے ہیں.
[بحرانی، الحدائق الناضرۃ، ج ۱۲، ص۳۰۱.]
ماہ رمضان میں اس کی ادائیگی کا وقت آنے سے پہلے اس کے ادا کرسکتے ہیں یا نہیں علماء کا اختلاف ہے۔
جائز ہونے کی صورت میں مارہ رمضان کی پہلی تاریخ سے ہی جائز ہو گی۔[نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۵۲۹.]
اگر کوئی شخص زمان وجوب میں فطرہ ادا نہ کرے اس صورت میں اگر قصد قربت کے ساتھ اپنے مال سے اسے الگ کر کے رکھا ہو تو اسی کو فطرہ کے طور پر ادا کرنا واجب ہے
لیکن اگر اس نے الگ نہ کیا ہو تو آیا زکات اس کے گردن سے ساقط ہو گی یا نہیں
اور اگر اس سے ساقط نہ ہونے کی صورت میں فطرہ کو ادا کی نیت سے ادا کرنا چاہئے یا قضا کی نیت سے مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔[نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۵۳۴ ـ ۵۳۶.]
اگر فطرہ کو اپنے مال سے الگ رکھا ہو اور ادائیگی کی امکان کے باوجود ادا نہ کی گئی ہو تو شخص اس کا ضامن ہے۔[نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۵۳۸]
اقتباس
باقی آئندہ
والسّلام
علی من اتبع الھدی
التماس دعا
"روبی عابدی "
