زکواة فطرہ

زکات / زکوۃ
(گذشتہ سے پیوستہ )
“تیسرا حصہ “

زکات فطرہ کا مصرف:-
فقہاء کے درمیان مشہور قول کی بنا پر زکات فطرہ کا مصرف وہی زکات مال کا مصرف ہے۔[نجفی، جواiر الکلام، ج ۱۵،ص۵۳۸]
بعض قدماء کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ زکات فطرہ فقط فقراء کے ساتھ مختص ہے۔[المقنعۃ، ص۲۵۲]
بعض معاصرین بھی زکات فطرہ کو فقط فقیروں کے ساتھ مختص ہونے کو احتیاط مستحب قرار دیتے ہیں۔[یزدی، العروۃ الوثقی، ج ۴، ص۲۲۵]
فقہاء کے ایک گروہ کے مطابق مؤمن(شیعہ) فقیر نہ ہونے کی صورت میس فطرہ سنی مستحق کو دینا جائز ہے۔[طوسی، النہایۃ، ص۱۹۲؛ حلی، الجامع للشرائع، ص۱۴۰ ؛ عاملی، شرائع الإسلام، ج ۱، ص۱۳۱ ـ ۱۳۲.]
مالک فطرہ کو براہ راست مستحق کو ادا کر سکتا ہے اگرچہ امام یا نائب امام کو دینا افضل ہے۔[حائری، ریاض المسائل، ج ۵، ص۲۲۱ ـ ۲۲۰.]
قول مشہور کی بنا پر کسی پہ فقیر کو ایک صاع سے کم مقدار میں زکات کے عنوان سے دینا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ فقراء بہت زیادہ ہوں اور سب کو ایک ایک صاع دینا ممکن نہ ہو اس صورت میں بعض فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ ایک فقیر کو ایک صاع سے کم بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ لیکن ایک صاع سے زیادہ دینا یہاں تک کہ اس کا فقر دور ہو جائے جائز ہے۔[نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۵۴۱ ـ ۵۴۲؛ حکیم، مستمسک العروۃ، ج ۹، ص۴۳۸ ـ ۴۳۹]

  • مستحب ہے پہلے اپنے رشتہ دار فقراء کو فطرہ دیا جائے پھر ہمسایوں میں سے جو فقیر ہوں انہیں دیا جائے اسی طرح اہل علم فقراء کو دوسروں پر ترجیح دینا بھی مستحب ہے۔[نجفی، جواہر الکلام، ج ۱۵، ص۵۴۲ ـ ۵۴۳]
  • سید غیر سید سے زکات مال اور فطرہ نہیں لے سکتا لیکن خمس اور دوسری وجوہات اگر اس کی زندگی کے اخراجات پورا نہ کرسکے اور زکات لینے پر محبور ہو تو غیر سید کا فطرہ بھی لے سکتا ہے۔[امام خمینی، توضیح المسائل، ص۲۹۸، ر.ک: امام خمینی، تحریرالوسیلہ(ترجمہ فارسی)، ج۱، ص۳۸۶؛ یزدی، العروہ الوثقی(محشی)، ج۴، ص۱۳۷ ـ ۱۳۶.]

آیت اللہ سیستانی کے فتوی
سوال: فطرہ کس وقت نکالنا لازم ہے؟
جواب: جو شخص نماز عید پڑھنا چاہتا ہے احتیاط واجب کی بنا پر فطرہ نماز سے پہلے ادا کرے ، لیکن جو شخص نما‍‍ز عید نہیں پڑھنا چاہتا وہ فطرہ دینے میں عید کے دن اذان ظہر تک تاخیر کر سکتا ہے۔

سوال: اگر فطرہ نکالنا بھول جائیں تو کیا کریں؟
جواب: اگر مکلف جان بوجھ کر یا بھولے سے فطرہ عید کے دن ظہر سے پہلے جدا نہ کرے احتیاط لازم کی بنا پر اس کا واجب ہونا ساقط نہیں ہوگا بلکہ اسے قربت مطلقہ کے قصد سے ادا اور قضا کی نیت کیۓ بغیر غریب کو دے۔

سوال: میرے غریب رشتے دار دوسرے شہر میں ہیں میں انہیں فطرے کی رقم بھیج سکتا ہوں؟
جواب: اگر زکات نکالے جانے والے شہر میں مستحق موجود ہو تو احتیاط واجب کی بنا پر فطرے کو دوسرے شہر میں منتقل نہیں کر سکتے، اور اس صورت کے علاوہ منتقل کر سکتے ہیں۔

سوال: فطرے کی رقم کسی مستحق کے اکاونٹ میں بھیج سکتے ہیں یا خود جدا کئے ہوۓ پیسے کا دینا ضروری ہے؟
جواب: فطریہ اگر کسی کے اکاونٹ میں بھیجنا ہے تو پہلے مستحق سے وکالت لے کر اس کی طرف سے فطرے کو قبض کرے اور پھر اس کے اکاونٹ میں بھیج دے۔

سوال: ماں کے شکم میں جو بچہ ہے اس کا فطرہ واجب ہے؟
جواب: جو بچہ ماں کے شکم میں ہے اس کا فطرہ واجب نہیں ہے مگر یہ کہ شب عید فطر غروب سے پہلے متولد ہو جائے اور اس کا نان خور شمار ہو تو اس صورت می اس کا فطرہ واجب ہے۔

سوال:
آیا شب ِعید آنے والے ہر مہمان کا فطرہ اس کے میزبان پہ واجب ہوتا ہے ؟ *
جواب:
اگر مہمان عرفاً میزبان کی کفالت میں شمار ہو(یعنی اپنی معیشت میں اس میزبان کی کفالت میں شمار ہو ) تو میزبان پہ مہمان کا فطرہ واجب ہوتا ہے۔

آیت اللہ خامنہ کا فتوی
اگرصرف شب عیدکے لئے آیا ہے تو فطرانہ واجب نہیں ہے۔
اگرغروب سے پہلے مالک کی رضایت یابغیر رضایت سے آئے اور یانخور یعنی گھرسے کھانا کھانے والا کہلائے تو فطرہ واجب ہے
اگر •اگرغروب کے بعدچاہے غروب سے پہلے مدعوکیاگیا ہو اور وہ کھانا بھی کھائے تو اسکا فطرانہ واجب نہیں ہے
نانخور ایک اصطلاح ہے جسکامطلب تحت تکفیل ہونا ہے یعنی کھانے پینے کے اخراجات اور دیگر اخراجات ادا کرتا ہو جیسے گھر کے گھریلو ملازمین یا بعض رشتہ دارون کے کھانے پینے اور دیگر اخراجات کو کوئی اٹھاتا ہے تو وہ نانخور ہوگیاہے لہذا صرف ایک بار مہمان بننے سے نانخور نہیں بن جاتے۔

اقتباس

‎والسّلام
‎علی من اتبع الھدی
‎التماس دعا
‎” روبی عابدی”

“زکواة فطرہ” پر 1 تبصرے

تبصرہ کریں