طہارت

السلام علیکم
“طہارت “
طہارت شرطِ اول ہے
محبت کے اصولوں میں

اسلام پاک و پاکیزہ دین ہے اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے اور اس کی بہت زیادہ تاکید کرتے ہوئے تمام احکام و قوانین کواسی کی بنیاد پر تنظیم کیا ہے ۔
طہارت، فقہی ایک اصلاح اور ایک ایسی حالت کا نام ہے جو بعض شرعی افعال جیسے وضو، غسل اور تیمم سے حاصل ہوتی ہے اور جو چیزیں نجاسات دور کرنے کا باعث بنتی ہیں انہیں شیعہ فقہ میں مُطَہِّرات یا پاک‌ کرنے والی چیزیں کہا جاتا ہے۔
ظاہری طہارت میں بدن اور کپڑوں کا نجاسات سے پاک ہونا مراد ہے، اور باطنی طہارت ایک ایسی پاکیزگی اور نورانیت ہے جو وضو، غسل یا تیمم سے حاصل ہوتی ہے
جبکہ اخلاقی طہارت، روح کا شرک اور گناہ کی آلودگیوں سے پاک ہونا ہے۔
اس دین مقدس میں نظافت اور پاکیزگی کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ بعض روایات میں اس کو ایمان کا جزء کہا گیا ہے۔

ارشاد رب العزت ہے
فِیْہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُ وْ ا وَ اللہُ یُحِبُّ الْمُطَّھِّرِیْنَ (التوبہ: 108)
(اس میں ایسے مرد ہیں وہ پسند کرتے ہیں کہ پاکیزہ رہیں اور اللَّه پسند فرماتا ہے پاکیزہ رہنے والوں کو)

رسول اللَّه نے ارشاد فرمایا۔
اَلطَّھُوْ رُ شَطْرُ الْاِیْمَانِ
(صفائی ایمان کا حصہ ہے)

یعنی جو مسلمان، طہارت، نجاست اور صفائی کی رعایت نہیں کرتا اس کا ایمان کامل نہیں ہے ۔ یہ دین ہر طرح کی تحریف سے منزہ ہے اور اس میں نظافت کے متعلق فردی اور اجتماعی قوانین وضع ہوئے ہیں ، ان قوانین پر عمل کرنا خصوصا ہمارے زمانہ میں بہت ہی زیادہ ضروری اور لازم ہے ۔
(اور آج کے لاک ڈاؤن میں انتہائی لازم ہے)

ارشاد باری تعالٰی ہے
کُلُوْا مِنَ الطَّیِّبَات، وَاعْمَلُوْا صَالِحًا (مومنون: ۵۱)
(پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک اعمال کرو)

طہارت جسمانی:
،بدن کا پاک ہونا اور ماحول کے پاک ہونے کو اسلام نے بہت زیادہ اہمیت دی ہے ۔ انسان کو نجس کھانے اور پینے کی چیزوں سے دوری اختیار کرناچاہئے ،
اسی طرح نماز کی حالت میں جو کہ پروردگار عالم کی بہترین عبادت ہے ، بدن اور لباس کو پاک ہونا چاہئے ، اسی بناء پر نجس چیزوں کو پہچاننا اور ان کو پاک کرنے کا طریقہ سیکھنا ضروری ہے ۔

طہارتِ باطنی/ اخلاقی:
اخلاقی طہارت سے مراد دل اور روح کو شر، معنوی آلودگیوں اور بداخلاقی سے پاک کرنا ہے اور علم عرفان کے اساتذہ کے کہنے کے مطابق یہ ان اہم مسائل میں سے ہے جس کی انسان کو تمام تر سختیوں اور مشقتوں کو تحمل کرتے ہوئے اس کو انجام دینا چاہیے اور اپنے باطن کو پاک کرتے ہوئے باطنی نجاست کے ننگ و عار سے خود کو آزاد کرنا چاہیے۔
[ آیت اللَّه خمینی، باطنی طہارت کی ضرورت کے بارے میں فرماتے ہیں: دل کو معنوی پلیدی، اور اخلاقی برائیوں سے پاک کرنا ان اہم امور میں سے ایک ہے جس کو ہر طرح سے اور ہر ریاضت اور مجاہدت سے قائم کرنا چاہیے اور خود کو اس کے ننگ و عار سے نجات دے۔ سرالصلوة، امام خمینی، ص۳۷، مرکز نشر آثار امام خمینی.]

داغ تشکیک کے دھو دیتی ہے پیشانی سے
معجزہ بنتی ہے جب رمزؔ طہارت اس کی
(رمز)

علماء نے طہارت کے مندرجہ ذیل چار مرتبے بیان کیا ہے:

  1. بدن کو حَدَث اور خَبَث سے پاک کرنا؛
  2. اعضاء و جوارح کو معصیت اور گناہوں سے پاک کرنا؛
  3. نفس کو برے اخلاق اور پست صفات سے پاک کرنا؛
  4. دل کو غیر خدا سے پاک کرنا، اور اس کے بھی چار مرتبے ہیں:
    1. ذہن کی طہارت
    2. عقل کی طہارت
    3. قلب کی طہارت
    4. سرّ کی طہارت
      [حسن زادہ آملی، حسن؛ نور علی نور، پیشین، ص۱۵۲- ۱۵۴].

صفائی اور پاکیزگی:
صفائی اور پاکیزگی میں فرق ہے۔ اگر کسی چیز پر میل کچیل نہ ہو تو اسےصاف کہتے ہیں مگر عین ممکن ہے کہ وہ شرع کے نقطہ نظر سے پاکیزہ نہ ہو۔
پاکیزہ اس چیز کو کہا جاتا ہے جو نجاست غلیظہ اور خفیفہ دونوں سے پاک ہو۔

اقتباس

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

“طہارت” پر 1 تبصرے

تبصرہ کریں