بی بی معصومہ صدیقہ فاطمہْ کے گستاخ (آصف جلالی ) پہ تبرا

ہم اپنی معصومہ صدیقہ بی بی فاطمہْ کے گستاخ (آصف جلالی )پہ تبرا کرتے ہیں اور بیزاری کا اظہار کرتے ہیں
جس کو رسول اللَّه کے فرمان کا بھی پاس نہیں جس بی بیْ کی صداقت کی گواہی اللَّه اور رسول اللَّه دیں ان کو نعوذباللہ یہ دو ٹکے کے لوگ (جن کو اہل علم بھی کہنا توہین ہے) خطا کار کہیں۔۔

صدیقہ:-
صدیق کی مونث ہے ۔جس کے معنی بہت سچی اور جس کی عمل اور گفتار ایک جیسا ہے۔ (فرھنگ جدید ص353)
جس سے آپ کی عصمت کا ثبوت ملتا ہے لہذا اسی وجہ سے آپ کو معصومہ بھی کہا جاتا ہے ۔
اس لقب سے قرآن مجید میں اللَّه تعالیٰ نے حضرت مریم سلام اللَّه علیہا کو نوازا ہے ۔ صدیق صیغہ ہے یعنی نہایت راست گفتار ۔
رسول اللَّه صلی اللَّه علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ زہرا (س)کو اسی لقب سے پکا را ہے ۔کیونکہ جناب سیدہ (س) کی پوری زندگی صدق وراستی پر مبنی تھی ۔
حضرت عائشہ کہتی ہیں ”میں نے رسول اللَّه صلی اللَّه علیہ وآلہ وسلم کے بعد جناب سیدہ زہرا (س)سے زیادہ راست باز (سچا)کسی کو نہیں دیکھا۔
(کتاب نورنظر خاتم النبین ص116)

گلدستہ جناں کی شرافت ہیں فاطمہْ
اور لا مکان کا جاہ و جلالت ہیں فاطمہْ
لا ریب کائنات کی غایت ہیں فاطمہْ
سر خیل دین نور شریعت ہیں فاطمہً
برج شرف میں گوہر یکتا و لا جواب
خالق کی ذات پاک پہ آیت ہیں فاطمہً

رسول اللَّه * نے فرمایا:
ابْنَتِي فَاطِمَةُ فَإِنَّهَا سَيِّدَةُ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ وَ هِيَ بَضْعَةٌ مِنِّي وَ هِيَ‏ نُورُ عَيْنِي‏وَ هِيَ ثَمَرَةُ فُؤَادِي وَ هِيَ رُوحِيَ الَّتِي بَيْنَ جَنْبَيَّ وَ هِيَ الْحَوْرَاءُ الْإِنْسِيَّةُ.
میری بیٹی فاطمہ ؑ اولین و آخرین کی خواتین کی سردار ہے ، وہ میرا ٹکڑا ہے، میری آنکھوں کا نور ہے، میرا میوہ دل ہے ، میرے پہلوں کے درمیان پائے جانی والی روح ہے، وہ انسانی صورت میں حور ہے۔
(امالی صدوق: ص ۱۱۳)

٭بقائے اسلام کا اصلی راز فاطمہ زہرا(س) کے ذریعہ ہے۔
٭سيدہ کونين کا احترام دراصل ايمان ، تقویٰ ، ادب ، شجاعت ،ايثار ، جہاد ، شہادت اور
ايک لفظ ميں مکارم اخلاق کا احترام ہے

“سیدہ النساء العالمین “
پیغمبر اکرم حضرت محمد مصطفی(ص) نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں ارشاد فرمایا:
«ابنتی فاطمة و إنّہا لسیدة نساء العالمین، فقیل یا رسول اللّہ ! أ ہی سیدة نساء عالمہا؟ فقال(ص) ذاک لمریم بنت عمران فأمّا ابنتی فاطمة فہی سیدة نساء العالمین مِن الاولین و الاخرین و انّہا لتقوم فی محرابہا فیسلّم علیہا سبعون ألف ملک مِن الْمقربین و ینادونہا بما نادتْ بہ الملائکةُ مریمَ فیقولون: یا فاطمة، إنّ اللّہ اصطفیکِ و طَہّرکِ و اصْطفیکِ علی نساء العالمین؛(محمدباقرمجلسی، بحارالانوار، (بیروت: مؤسسةالوفاء، 1983م)، ج43، ص24، ح20۔)

میری بیٹی فاطمہ (س) عالمین کی خواتین کے سردار ہیں ؛
کہا گیا کہ: اے رسول اللَّه (ص)! کیا سیدہ فاطمہ (س) اپنے زمانے کی خواتین کی سردار ہیں؟
رسول اللَّه (ص) نے فرمایا: مریم بنت عمران اپنے زمانے کی خواتین کی سردار تھیں لیکن میری بیٹی فاطمہ (س) اولین سے آخرین تک تمام عالمین کی خواتین کی سردار ہیں ؛ جب فاطمہ (ع) محراب عبادت میں عبادت کے لئے کھڑی ہوتی ہیں ستر ہزار مقرّب فرشتے ان پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور مریم کی مانند انہیں ندا دیتے ہیں : اے فاطمہ! بلاشبہ اللَّه نے تمہیں منتخب کیا ہے اور تمہیں پاک وپاکیزہ بنایاہے اور تمہیں تمام جہانوں کی عورتوں سے منتخب قرار دیا ہے۔ »

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں