خواتین عزت و احترام کا نام ہے،
عورت
والدین کے لیے باعثِ فخر،
بھائیوں کے لیے باعثِ عزت،
شوہر کے لیے قیمتی سرمایہ اور
اولاد کے لیے عمدہ نمونہ ہوتی ہے۔
اس نے ہر دور کی ظلمت کو ضیاءبخشی ہے
اس کو اسلام نے عصمت کی ردا بخشی ہے
(سائرہ بتول)
قرآن مجید میں اللَّه تبارک و تعالی نے انسان کے مقصد زندگی کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ
وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
(سورہ الزاریات /56)
اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے
اللَّه تعالی نے اپنی کتاب میں مردوں کے اوصافِ بندگی کے ساتھ ساتھ عورتوں کے اوصافِ عبادت کو بھی ذکر کیا ، اور اس پر ملنے والے اجر و ثواب کا انھیں بھی مستحق قرار دیا ، جس کی طرف قرآن کریم کی یہ آیت اشارہ کررہی ہے،
إِنَّ ٱلْمُسْلِمِينَ وَٱلْمُسْلِمَٰتِ وَٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ وَٱلْقَٰنِتِينَ وَٱلْقَٰنِتَٰتِ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلصَّٰدِقَٰتِ وَٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰبِرَٰتِ وَٱلْخَٰشِعِينَ وَٱلْخَٰشِعَٰتِ وَٱلْمُتَصَدِّقِينَ وَٱلْمُتَصَدِّقَٰتِ وَٱلصَّٰٓئِمِينَ وَٱلصَّٰٓئِمَٰتِ وَٱلْحَٰفِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَٱلْحَٰفِظَٰتِ وَٱلذَّٰكِرِينَ ٱللَّهَ كَثِيرًا وَٱلذَّٰكِرَٰتِ أَعَدَّ ٱللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا
بیشک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں اور مومن مرد اور مومن عورتیں اور اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتیں اور سچے مرد اور سچی عورتیں اور صابر مرد اور صابر عورتیں اور فروتنی کرنے والے مرد اور فروتنی کرنے والی عورتیں اور صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں اور اپنی عفّت کی حفاظت کرنے والے مرد اور عورتیں اور خدا کا بکثرت ذکر کرنے والے مرد اور عورتیں.اللَّه نے ان سب کے لئے مغفرت اور عظیم اجر مہّیاکررکھا ہے
(سورہ الاحزاب/35)۔۔۔
تاریخِ اسلام اس بات پرگواہ ہے کہ ابتدائے اسلام سے آج تک عبادت و بندگی کے اس حکم پر جہاں مردوں نے عمل کیا ہے وہیں خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں ، خالقِ کائنات کی رضا جوئی کے لیے جہاں مردوں نے اپنی راتوں کو عبادت سے مزین کیا وہیں خواتین نے بھی اطاعت و بندگی کے ذریعہ اپنی راتوں کو سجایا، اور اپنے مولٰی سے ہم کلامی کے لیے شب بیداری اور آہِ سحر گاہی کو معمول بنایا
ہم سب سے پہلے ان کے عمل کو دیکھیں گے جو ہم خواتین کے لئے اسوہ بنائی گئیں ہیں
حضرت سیدہ فاطمہ الزہراْ کو عبادتِ الٰہی سے بے انتہا شغف تھا، ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ تہجد گذار اور کثرت سے روزے رکھنے والی تھیں،
خوف ِ الٰہی سے ہر وقت لرزاں رہتی تھیں، زبان پر ہمیشہ اللَّه تعالی کا ذکر جاری رہتا تھا،
حضرت علیْ فرماتے ہیں کہ میں فاطمہْ کو دیکھتا تھا کہ کھانا پکاتی تھیں، اور ساتھ ساتھ خدا کا ذکر کرتی جاتی تھیں،
حضرت سلمان فارسیْ کا بیان ہے کہ حضرت فاطمہْ گھر کے کام کاج میں لگی رہتی تھیں اور قرآن مجید کی تلاوت کرتی رہتی تھیں، وہ چکّی پیستے وقت بھی قرآن پاک کی تلاوت کرتی تھیں،
علّامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں ان کی اسی عادت کی طرف اشارہ کیا ہے، شعر
آں ادب پروردئہ صبر و رضا
آسیا گردان و لب قرآں سرا
حضرت علیْ فرماتے ہیں کہ
”فاطمہْ اللَّه تعالی کی بے انتہا عبادت کرتی تھیں؛ لیکن گھر کے کام میں کوئی فرق نہیں آنے دیتی تھیں “
جب کہ شریعت میں گھر کے کام کاج واجبات میں شامل نہیں مگر اس کے باوجود ان کاموں کے ساتھ ساتھ عبادت بھی۔
یہ واقعات بتاتے ہیں کہ عورت ذات عبادت کے معاملہ میں کبھی مردوں سے پیچھے نہیں رہی
بلکہ ان کا ذوق عبادت اور اللَّه تعالی سے خصوصی تعلق و محبت مثالی رہا ہے،
آج کل کے زمانے میں ہم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر دنیا و آخرت میں سرخ رو ہوسکتے ہیں،
دیگر مذاہب کے برخلاف دین اسلام میں خواتین ایک عظیم قداست و شرافت کی حامل سمجھی جاتیں ہیں بلکہ وہ اللَّه کے اسم ’’امین‘‘ کی مظہر شمار ہوتی ہیں لہذا انہیں اس امانت الہیہ کا لحاظ کرتے ہوئے ظاہری اور باطنی شیاطین کے وسوسوں سے خود کو بچانے کی کوشش کرنا چاہیئے
چونکہ شیاطین حریم شریعت،عقل اور اخلاق کو توڑ کر اس عظیم الہی امانت کو ضائع کرنا چاہتے ہیں۔
امام زمانہ(عج) سے منسوب ایک معروف دعا
”اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا تَوْفِیقَ الطَّاعَةِ…‘‘ ہے۔
اس مبارک اور خوبصورت دعا کا ہر ایک فقرہ زمانہ غیبت میں اپنے امام(عج) کا انتظار کرنے والوں کی ذمہ داری اور فرض کی نشاندہی کررہا ہے اور حکومت امام زمانہ(عج) کے سائے میں زندگی گذارنے والوں کا طریقہ کار بیان کررہا ہے۔
آیت اللَّه العظمٰی جوادی آملی(حفظہ اللَّه ) اپنی معروف کتاب’’ امام مهدی(عج)؛ موجود موعود‘‘ میں اس دعائے مبارکہ:
’’ اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا تَوْفِیقَ الطَّاعَةِ…‘‘
کی شرح بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
خواتین اسلامی معاشرہ کا ایک اہم حصہ و جزء ہیں اور اس وجہ سے کہ کسی بھی معاشرہ و سماج کے ذہنی سکون و اطمئنان کے تکمیل کرنے میں خواتین کا ایک اہم کردار ہوتا ہے نیز آج کی نسل کی اصلاح اور آئندہ نسلوں کی تقدیر ان کی اصلاح سے وابستہ ہوتی ہے ۔
آیت اللَّه العظمیٰ مکارم شیرازی بیان کرتے ہیں کہ
ظہور اسلام اور اس کی مخصوص تعلیمات کے ساتھ عورت کی زندگی ایک نئے مرحلہ میں داخل ہوئی جوپہلے مراحل سے بہت مختلف تھی، یہ وہ دور تھا جس میں عورت مستقل اور تمام انفرادی، اجتماعی اور انسانی حقوق سے فیض یاب ہوئی، عورت کے سلسلہ میں اسلام کی بنیادی تعلیمات وہی ہیں جن کا ذکر قرآنی آیات میں ہوا ہے، جیسا کہ ارشاد خداوندی ہوتا ہے:
اسلام عورت کو مرد کی طرح کامل انسانی روح ،ارادہ اور اختیار کا حامل سمجھتا ہے اور اسے سیرِ تکامل اور ارتقا کے عالم میں دیکھتا ہے جو مقصد خلقت ہے، اسی لئے اسلام دونوں کو ایک ہی صف میں قرار دیتا ہے اور دونوں کو
”یا ایہا الناس“ اور ”یا ایہا الذین آمنوا“ کے ذریعہ مخاطب کرتا ہے،
اسلام نے دونوں کے لئے تربیتی، اخلاقی اور عملی پروگرام لازمی قرار دیئے ہیں، ارشاد الٰہی ہوتا ہے:
اپنے امام کا انتظار کرنے والی خواتین کی ذمہ داریاں بہت سنگین ہیں اگر وہ خود اپنے وجود سے غفلت برتیں تو انتظار کے راہیوں کو نا قابل تلافی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
ہم خواتین کو اپنے ہر ہر عمل کو عبادت سے منسلک کرنا ہے
اگر گھر کے کاموں میں مشغول ہوں تو اسکو بھی قربتہ الی اللَّه کہہ کے عبادت میں شامل کردیں ہر وقت باوضو رہیں ہر وقت وردِ زبان سبحان اللَّه والحمدللَّه رہے
اللَّه تعالی ہم سب کو اس کی تو فیق عطا فرمائے!
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
”روبی عابدی“

بہت خوب
پسند کریںLiked by 1 person