نماز

روزِ محشر کہ جاں گداز بود
اولیں پرسشِ نماز بود

‎پروردگار عالم نے نماز کو واجب کیا ہے تاکہ ہمارے اندر
‎ اطاعت اور بندگی کا سلیقہ پیدا ہو ہمارے اندر بندگی کی روح پیدا ہو۔
نماز (عربی "صَلاۃ”) اسلام کے عبادی احکام میں سے ہے
جسے دن اور رات میں پانچ بار معین اوقات میں انجام دینا واجب ہے۔
نماز فارسی کا لفظ ہے جسے عربی میں "صلاۃ” کہا جاتا ہے
جس کے معنی خم ہونا، پروردگار کی تعظیم اور
تکریم کیلئے سر جھکانا، بندگی اور اطاعت کا اظہار کرنا ہے ۔
قرآنی اصطلاح میں "صلاۃ” "ص ل و” کے مادے سے دعا کے معنی میں ہے، جس کا جمع "صَلَوات” ہے۔ "صلاۃ” بعض آیات میں دعا کے معنی میں استعمال ہوئی ہے۔
اور نماز کو صلاۃ کہنے کہ وجہ بھی یہ ہے کہ جز کا نام کل کے اوپر رکھ دی گئی ہے کیونکہ دعا نماز کا جز ہے۔
لفظ صلاۃ (نماز)اور اسکے مشتقات 98 بار قرآن میں تکرار ہوا ہے۔
قرآن میں نماز کو ایک ممتاز مقام حاصل ہے۔
بہت ساری آیات میں اسے ایمان کے بعد مؤمن کی فردی اور اجتماعی عباتوں میں سے اہم ترین عبادت کے طور پر ذکر ہوا ہے۔
[نماز، زمین پر صالحین کی حکومت کی پہلی نشانی ہے:
"الَّذِینَ إِن مَّکَّنَّاهمْ فِی الْأَرْضِ أَقَامُوا الصَّلَاة…” (حج/41)
"وہ لوگ جنہیں ہم نے جب بھی زمین پر قدرت اور توانی عطا کی تو یہ لوگ نماز کو قائم کرتے ہیں۔”]

دوسری طرف سے دوزخیوں کی اولین فریاد ترک نماز کے بارے میں اقرار، بیان ہوا ہے،
[مَا سَلَكَكُمْ فِى سَقَرَ
(سورہ المدثر /42) آخر تمہیں کس چیز نے جہنمّ میں پہنچادیا ہے]
بلکہ نماز میں سستی کرنے والوں کو دین کا انکار کرنے والوں کے صف میں لا کھڑا کیا ہے۔
[ ٱلَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (سورہ الماعون /5)
جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں]

قرآن میں جس طرح نماز برپا کرنے پر تاکید کی گئی ہے کسی اور واجب پر اتنا زور نہیں دیا ہے۔
قرآن نماز کو گناہوں سے روکنے والی، انسان کی فلاح اور کامیابی کا وسیلہ، زندگی کی مشکلات میں کام آنے والی، اللَّه کی جانب سے انبیاء کو دی جانے والا اہم سفارش،
اللَّه کے عظیم المرتبت پیغمبروں کی سب سے بڑی نگرانی بطور خاص اپنے خاندان کے بارے میں، قرار دیا ہے۔
پیغمبر اکرم(ص) اور ائمہ معصومین کی سیرت میں بھی نماز کو ایک بلند مقام حاصل ہے۔
وسائل الشیعہ اور مستدرک الوسائل میں 11600 سے زیادہ حدیث اسی موضوع کے حواالے سے نقل ہوئی ہے۔

‎لغزش بہت بڑی ہے اگر رہ گئی نماز
‎ پُرسش بہت کڑی ہے اگر رہ گئی نماز
(عرشی)

‎نماز کا فلسفہ وہی ہے جو قرآن نے بیان کیا ہے کہ
‎نماز انسان کو ہر طرح کی برائی سے روکتی ہے
‎یعنی اس کے اندر اللَّه کی اطاعت اور بندگی کی روح پیدا کرتی ہے۔
‎حدیث میں آیا ہے کہ نماز مومن کی معراج ہے اور اللَّه سے تقرب کا ذریعہ ہے
‎اس کی وجہ یہی ہے کہ اس سے انسان اللَّه کا واقعی بندہ بن جاتا ہے۔

‎اب ہمیں اپنے اندر جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ کیا ہماری نمازیں ہمیں گناہوں سے روکتی ہیں؟
‎کیا جب ہم نماز پڑھتے ہیں تو ہمارے اندر گناہوں سے دور ہونے کا محرک پیدا ہوتا ہے؟

‎اگر نہیں
‎تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نمازیں بھی چند حرکتیں ہیں ورزش ہے
نماز نہیں ہے۔

‎حضرت فاطمہ زہرا ( ص ) فرماتی ہیں کہ:
‎کیوں تمہاری نمازوں نے تمہیں قوی نہیں کیا؟
‎کیوں تمہاری نمازوں نے تمہارے غرور کو نہیں توڑا؟

نماز اسلامی عباتوں میں پہلی عبادت ہے جو پیغمبر اکرم(ص) اور آپ کے ماننے والوں پرمکہ مکرمہ میں واجب ہوئی۔
نماز مسلمانوں کی اہم ترین عباتوں میں سے ایک ہے جسے برپا کرنے پر قرآن مجید اور دینی متون میں بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے یہانتک کہ اسے دین کا ستون اور دوسرے اعمال کے قبول ہونے کی شرط قرار دیا ہے۔

‎چھوٹی خطا نہ جان ُتو ترکِ نماز کو
‎سب سے یہی بڑی ہے اگر رہ گئی نماز
(عرشی)

رسول اللَّه صلی اللَّه علیہ و آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا کہ
أَوَّلُ ما يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ :::
سب سے پہلے بندے کا حساب اس کی نماز کے بارے میں ہو گا

امام باقر(ع)فرموده است:« إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ فَإِنْ قُبِلَتْ قُبِلَ مَا سِوَاهَا».
«نخستین چیزی که بنده در مورد آن حسابرسی می شود نماز است.اگر نماز پذیرفته شد سایر اعمال او پذیرفته می شود».
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ھے:
”سب سے پہلے (روز قیامت) بندوں سے نماز کے بارے میں سوال ہوگا اگر نماز قبول ہے تو دوسرے اعمال بھی قبول ہیں“۔
[اصول کافی / الکلینی ۳:۲۶۸/۴،التہذیب / شیخ طوسی ۺ ۲:۲۳۹/۹۴۶۔]

بنابراین نماز در حقیقت کلید پذیرش تمام اعمال درجهت نزدیکی از خداوند متعال می باشد.
دراصل ، نماز ، پروردگار قادر مطلق کے قربت کے لئے ہر عمل کو قبول کرنے کی کلید ہے۔

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں