علم انسان کے تمام اوصاف میں سب سے برتر وصف ہے۔
علم ہی وہ خوبی ہے جو کسی آدمی کو انسان بناتی ہے، کیونکہ علم ہی کے ذریعے وہ خیر اور شر میں تمیز کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
علم ہی اچھے اور برے کا شعور عطا کرتا ہے۔
علم ہی تاریکی کو روشنی میں بدلنے کا ہنر پیدا کرتا ہے اور علم ہی وہ ہتھیار ہے جس کی مدد سے ظالم معاشرہ عادل معاشرے میں بدل سکتا ہے۔
دنیا کے کسی سماج، کسی تاریخ اور کسی زمانے میں علم کا کوئی متبادل رہا ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔
آج دنیا اگر پریشان ہے، مایوس ہے، کرب زدہ ہے،
لوگ اگر اپنوں سے نالاں ہیں، تعلقات کشیدہ ہیں او رایک دوسرے کی جان کے درپے ہیں یا مشکلات کے بھنور میں ڈوبتے چلے جارہے ہیں، مسائل میں پھنستے چلے جارہے ہیں اور نکلنے کی کوئی سبیل نہیں پاتے ہیں تو یہ سب لاعلمی اور جہالت کی کارستانی ہے۔
علم اللَّه تعالیٰ کا نور ہے تو جہالت شیطان کی ظلمت۔
علم کی ابتدا ہے ہنگامہ
علم کی انتہا ہے خاموشی
(فردوس)
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں کہ جب ہر شخص اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ بہت کچھ جانتا ہے۔
کیوں دنیا مسائل کا شکار ہے؟
اپنوں سے بیگانہ اور پریشانیوں میں پھنسی ہوئی ہے؟
لاعلمی دو طرح کی ہوتی ہے،
ایک ہے، نہ جاننا۔
دوسرا، غلط جاننا۔
نہ جاننا اگر خطرناک ہے تو غلط جاننا بدترین۔
نہ جاننے والے کو اپنی لاعلمی کا احساس ہو سکتا ہے،
مگر غلط جاننے والا اس گھمنڈ میں رہتا ہے کہ وہ بہت کچھ جانتا ہے۔
اس سے پہلے اگر لاعلمی اور جہالت کا فتنہ تھا تو اکیسویں صدی میں بہت کچھ جان لینا کہیں بڑا فتنہ ہے۔
اہم یہ نہیں کہ ہم کیا کچھ جانتے ہیں؟
اہم تر یہ ہے کہ ہماری جو ضرورت ہے،
کیا ہم کو اس کا علم ہے؟
علم کا حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ یہی وہ علم ہے جس کی ضرورت ہر انسان کو ہے، ہر مرد اور ہر عورت کو ہے…
دین کا بنیادی علم ہی’’علم‘‘ کی تعریف میں آتا ہے۔
یہی وہ علم ہے جو ہم کو اس دنیا میں ہمارا اصلی مقصد بتاتا اور ہم کو اس دنیا میں زندگی گزارنے کا سلیقہ عطا کرتا ہے۔
دین کا علم (قرآن اور سنت سے مستنبط علم) ہی آدمی کو انسان بناتا ہے اور دنیا بھر کی باقی تمام ’’انفارمیشن‘‘ جاہلیت سے کسی کو نکال نہیں سکتی۔
علم انسانیت سے سرفراز کرتا ہے،
مگر انفارمیشن حیوانیت میں جکڑ دیتی ہے۔
علم اپنی ذات سے نکل کر دوسرے انسانوں کے بارے میں سوچنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے تو انفارمیشن آدمی کو اپنے ہی خول میں مقید کر دیتی ہے۔
علم دوسروں کی ضرورتوں کا احساس دلاتا ہے تو انفارمیشن دوسروں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کی تدابیر سکھاتی ہے۔
علم عاجزی لاتا ہے اور جہالت گھمنڈ میں مبتلا کرتی ہے۔
علم بندے کو اللَّه سے قریب کرتا ہے تو لاعلمی اور جہالت گناہوں اور خطاؤں کے عمیق سمندر میں ڈبو دیتی ہے۔
علم اور معلومات کا فرق
(انفارمیشن) اور علم (Knowledge) میں بہت گہرا تعلق ضرور ہے لیکن اطلاعات کو علم بننے کے لیے بہت سے مراحل طے کرنا پڑتے ہیں گویا جس طرح
“آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک”
علم کے چشمے اندر سے ابلتے ہیں جبکہ معلومات باہر ہوتی ہے
علم انفس میں ہوتا ہے اور معلومات آفاق میں ہوتی ہے
علم ہی سے معلومات ہے
“اقتباس”
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
