(بات طویل ہوگئی اس کے لئے معذرت 🙏 )
بی بیْ کی کہانی:-
دو دن پہلے ایک مجلس سننے کا اتفاق ہوا اور مجلس سن کے سر کو پیٹنے کا دل چاہا
( پیٹا نہیں کیونکہ اپنا سر بھی عزیز ہے) 😜
اس میں جو بیان کیا گیا پہلے ان ذاکرہ کے الفاظ پھر ہماری وضاحت
ذاکرہ:- ایک بات ہم آپ لوگوں سے کہیں گے کہ ہمارے بہت سے گھرانوں میں بزرگوں کی بنائی ہوئی کچھ چیزیں مشہور تھیں مگر ان میں سے بہت گھرانوں نے اسکو ترک کردیا لیکن ہمیں فخر ہے کہ ہمارے میکے اور سسرال میں ابھی بھی وہ روایت قائم ہے
اور آپ لوگوں سے بھی کہیں گے کہ اسکو اپنائیں آج کے دور میں بچے ہاتھ نہیں لگتے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں میسج ہوتا ہے تو بزرگوں نے جو یہ کیا تھا اسکی وجہ سے کم سے کم بچے ساتھ تو ہوتے تھے
( وہ اس دور میں پتہ نہیں کون سی دنیا میں رہ رہی ہیں کہ بچے ٹیکنالوجی کو چھوڑ کے یہ کہانی سنیں گے)
آگے فرماتی ہیں کہ
آپ بھی منتیں مانیں اور بی بی سیدہ سلام اللَّه علیہ کی کہانی سنیں آپ سب سے ریکویسٹ ہے کہ یہ کریں
(ہم نے ذاکرہ کے سامنے ہی اپنے سر پہ ہاتھ مارا 😜 جس کا ردعمل یعنی ذاکرہ کی وضاحت ہمیں بعد میں موصول ہوئی مگر اس مجمع میں انہوں نے کتنوں کو اپنے اس جملے سے متاثر یا بہکایا ہوگا اسکا جواب کون دے گا؟ )
(یہ الگ بات ہے کہ ہماری خواتین کو سننے سے زیادہ مجلس میں شرکت کرنا اہم ہوتا ہے 😪)
اب ذرا ان باتوں کا جواب
جواب:-
سب سے پہلے آباؤ اجداد کی پھیلائی ہوئی غلط باتوں کا جواب قرآن کی یہ سورہ المائدہ کی آیت 104 میں ارشادِ رب العزت ہے کہ
وَ اِذَا قِیۡلَ لَہُمۡ تَعَالَوۡا اِلٰی مَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ وَ اِلَی الرَّسُوۡلِ قَالُوۡا حَسۡبُنَا مَا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا ؕ اَوَ لَوۡ کَانَ اٰبَآؤُہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ شَیۡئًا وَّ لَا یَہۡتَدُوۡنَ﴿۱۰۴﴾
اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ جو دستور اللَّه نے نازل کیا ہے اس کی طرف اور رسول کی طرف آؤ تو وہ کہتے ہیں: ہمارے لیے وہی (دستور) کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا، خواہ ان کے باپ دادا کچھ بھی نہ جانتے ہوں اور ہدایت پر بھی نہ ہوں
خود بدلتے نہیں، قُرآں کو بدل دیتے ہیں
ہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق!
“علامہ اقبال”
اب آتے ہیں کہانی کی طرف👇
کہانی میں کہا گیا ایک غریب سنارن ( سنارن کا مطلب ہوتا ہے سنار یعنی سونے کے کام کرنے والے کی بیوی ) اب وہ غریب کیسے ہوئی یہ نہیں پتا؟
یا شاید غریب اس لیے کہ سونے کی مارکیٹ میں مندی چل رہی تھی اور سنار کی بیوی ہونے کے باوجود کنویں سے خود پانی بھرنے جاتی تھی۔
اب مختصراً وہ سنارن کا بیٹا جل کے مرگیا وہ روتے روتے بےہوش ہوئی اور خواب میں کسی خاتون کو دیکھا انہوں نے کہا منت مانو کہ تم نیاز دلواؤ گی
( اب ان خاتون کو بی بیࣿ سمجھا گیا تو اطلاع کے لئے عرض ہے کہ بی بی کا تعلق عرب سے تھا اور اسلام میں اس طرح کی نیاز دلوانے کی کوئی رسم نہیں ہے
انہی بی بیْ کے گھر سے شریعت نکلی ہے اس لئے تھوڑا خیال کیا جائے)
خیر وہ محلے والوں کے پاس گئی کہ یہی کہانی سنادو سب نے منع کیا وہ جنگل کی طرف چلی گئی وہاں وہی خواب والی خاتون نظر آئیں اور کہا کہ بیٹھو میں کہانی کہتی ہوں
اس کے بعد کہانی میں بہت کچھ ہے مختصراً یہ کہ بی بیْ کو یہودی کے ہاں شادی میں جانا ہے اور پہننے کے لئے کوئی کپڑے نہیں تو اللَّه نے حورانِ جنت کے ساتھ لباسِ فاخرہ اور زیورات بھیجے جو پہن کے وہ گئیں نعوذ با للَّه
جس بی بیْ کو سیدہ النساء العالمین کہا گیا انکو کپڑے اور زیورات کی فکر ہوگی؟ 😪
وہ بی بیْ جو باہر جائیں تو عباء اور نقاب میں اور عرب خواتین کے پردے کا حکم قرآن میں آنے کے بعد سے خاص طور پہ اہلبیتِ رسولࣿ لباسِ فاخرہ زیب تن کرکے شادی میں جائیں ( نعوذ با للَّه) کیا انکو وہاں پہ فخر و تکبر دیکھانا تھا یا اپنا شاہانہ انداز دیکھانا تھا؟
خیر حوران_جنت آسمان سے نازل ہوئیں اور اپنے جلو میں لیکر یہودی کے مکان میں داخل ہوئیں۔ اس شان سے یہودی کے مکان پہ پہنچی ۔( نعوذ با للَّه وہ رسول اللَّه کی بیٹی نہیں بلکہ کسی شاہی خاندان کی تھیں؟ )
خیر “جونہی” آپ نے مکان میں قدم رکھا سارا گھر آپ کے نور سے روشن ہوگیا اور ایسی خوشبو پھیلی کہ دور تک محسوس ہوئی۔ یہ تجمل و وقار دیکھ کر تمام عورتیں بیہوش ہوگئیں
آگے جو بھی معجزہ بیان کیا جاتا ہے ہمیں اس پہ بات نہیں
کہ سند کیا ہے
لیکن جس پہ اعتراض ہے وہ یہ ہے کہ اب اس سے آگے جو ہوا سو ہوا لیکن سنارن جب کہانی سن کے واپس آئی تو تمام گھروں میں آگ لگی ہوئی تھی تو سنارن نے کہا تم لوگوں نے کہانی سنانے سے انکار کیا تھا اس لئے یہ ہوا ( کہانی کی ہم تفصیل میں نہیں جارہے)
لیکن اب سب سے اہم بات کہ کیا ہمارے چہاردہ معصومین صرف کہانی نہ سننے پہ لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرسکتے ہیں؟
وہ معصومین جن کو اللَّه نے بہت سے اختیارات دیئے ہوئے تھے اس کے باوجود کبھی کسی کو ناحق ایک لفظ نہ کہیں
وہ نعوذ با للَّه بےگناہوں کا گھر جلا دیں گے؟
خدارا ہم اپنی عقلوں کا ماتم کریں کہ ہم اپنے آئمہْ پہ کیا کیا بہتان باندھ رہے ہیں
خدارا کوئی بھی بات آگے پھیلانے سے پہلے ایک ایک لفظ پہ غور کرلیں کہ اس ممبر پہ جو کہ انہی آئمہ کے جد کا ہے ہم ان پہ ہی بہتان باندھ رہے ہیں
پھر کس منہ سے ہم چاہتے ہیں کہ روزِ محشر امام حسین علیہ السلام ہماری شفاعت کریں گے؟
امام علی علیہ السلام ہمیں حوضِ کوثر سے سیراب کریں گے؟
ان چھوٹی چھوٹی باتوں پہ خدارا غور کرکے اپنی عاقبت کو سنوارنا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم ہاتھ ملتے رہ جائیں اور وہاں ہمارے پاس کوئی راستہ نہ ہو بچنے کا ۔
آخیر میں یہی دعا جو ہم بغیر درک کئے پانچ وقت کی نماز میں دن میں دس مرتبہ دھراتے ہیں کہ پروردگار
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ۔ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ
ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما۔جو اُن لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے نعمتیں نازل کی ہیں ان کا راستہ نہیں جن پر غضب نازل ہوا ہے یا جو بہکے ہوئے ہیں۔۔۔
پروردگار عالم ہمیں صحیح معنوں میں سیرت معصومین علیہم السلام پر چلتے ہوئے دین کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے. (آمین یا رب العالمین )
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
