ہماری کہانیاں

پوسٹ طویل ہونے پہ معذرت

ہماری کہانیاں:-
دنیا میں انسانوں کے درمیان صحیح تبلیغ نہ ہونے کی وجہ سے ہی غلط رسم و رواج اور عقیدے جنم لیتے ہیں ،اور ایسی ایسی مضحکہ خیز باتیں وجود میں آتی ہیں جن کا مذہب اور عقل و منطق سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا اور یہ باتیں اکثر توحید کے منافی یا اس سے متصادم ہوتی ہیں
دوسرے مذاہب کی نسبت شیعہ مذہب نے عقل و منطق کو اہمیت دے کر افراط و تفریط کے بجائے اعتدال کی تاکید کی ہے
اشاعرہ یا اہل حدیث کے یہاں صرف حدیث کافی ہے چاہے جیسی ہی کیوں نہ ہو ،عقل کا کوئی دخل نہیں ہے ، جبکہ معتزلہ کے یہاں عقل ہی سب کچھ ہے، یہ لوگ حدیث کی تاویل بھی اپنی عقل کے مطابق کر ڈالتے ہیں…لیکن شیعوں کے یہاں اعتدال پایا جاتا ہے
مگر دنیا پرستوں نے اعتدال کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسی ایسی باتیں بنام دین سماج میں رائج کردیں جو عقل و منطق ،کتاب و سنت دونوں کے منافی ہوتی ہیں اور عوام انہیں کو دین سمجھنے لگتے ہیں…
اگر کوئی مُصلح اصلاح کی بات کرتاہے تو عوام یہ سمجھتے ہیں کہ دین کی مخالفت ہورہی ہے لہٰذا اصلاحی تحریک کی مخالفت شروع کردی جاتی ہے،
عوام تو عوام ہیں لیکن جب بعض طلاب اور نام نہاد مولوی اصلاحی تحریکوں کی مخالفت کرتے ہیں تو حالات اور بھی بدتر ہوجاتے ہیں اورمعاشرے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے لگتا ہے
اصلاحی تحریکوں کی مخالفت کے باعث ہمارا شیعہ معاشرہ فکری طور پر مفلوج ہوکر رہ گیا ہے،
اس کا بخوبی اندازہ ایک جگہ ہوا ( نام سے اجتناب ) جہاں سالانہ مجالس کے موقع پر شیعوں کا بڑا اجتماع ہوتا ہے ،صاحب مصنف نے سَن 2003 سے 2006 تک ہر سال اِس اجتماع کے موقع پرعلمی و اصلاحی لٹریچر کا اسٹال لگایا ،جس میں سبھی عمر کے لوگوں کا خیال رکھتے ہوئے افکار و عقائد کی اصلاح کے لئے کتابوں کا انتخاب کیاگیا تھا، مگر افسوس کہ اسٹال پر 50/فی صد لوگ قصے کہانیوں کی کتابوں کا مطالبہ کرتے تھے ،30/ فی صد لوگ ان نوحوں کی کتابوں کو مانگتے تھے جن کی دھنیں اُن تک پہنچ چکی تھیں اور 20/ فی صد میں باقی دوسری کتابیں… غرض کہ اس جگہ آنے جانے کا کرایہ جیب سے دے کر یہ کتابیں اسی طرح واپس لانا پڑیں
اگر فکری جمود کی اور مثال دیکھنی ہو تو اور جگہوں پہ بھی دیکھئے جہاں سے ”جدید شریعت“ اور ”کشف الحقائق“ جیسی ضدِ روحانیت و مذہب ،گمراہ کنندہ کتابیں شائع ہوگئیں اور کسی نے اعتراض تک نہ کیا…
کیا معاشرے میں کج فکری کی اس سے بڑی کوئی مثال ہوسکتی ہے کہ ہمارا سماج آئمہْ معصومینْ کی تعلیم کی ہوئی دعاؤں کے بجائے من گھڑت قصے کہانیوں سے حاجت طلب کرتا ہے!
اسی لئے تو قصے کہانیوں کی کتابوں کی باڑھ سی آئی ہوئی ہے، جن میں سے چند مشہور یہ ہیں :
جناب سیدہ کی کہانی، دس بیبیوں کی کہانی، چٹ پٹ بی بی کی کہانی،سُگت اماں بی بی شہر بانو کی کہانی، تیسرے چاند کی کہانی، بی بی سگٹ کی کہانی، حضرت عباس کی کہانی، مولا مشکل کشا کی کہانی، جناب ام کلثوم کی کہانی اور اب آگئی ”سولہ سیدوں کی کہانی“
بک سیلر حضرات تو معاشرے کے بجائے اپنا فائدہ دیکھتے ہیں لہٰذا وہ تو ایسی کتابیں شائع کراتے ہیں جو زیادہ فروخت ہوں، چاہے معاشرے کا کچھ بھی حشر ہو…
یہ بات اس جگہ کے کئی بک سیلروں نے خود کہی کہ ہم تو تاجر ہیں مذہب کے خادم نہیں ہیں…!
ان سب کہانیوں میں جناب سیدہ کی اُس کہانی کا کتابوں میں ضرور تذکرہ ملتا ہے جس میں جناب سیدہ یہودی کے یہاں شادی میں تشریف لے گئی تھیں اور جنتی لباس زیب تن فرمایا تھا… لیکن اس میں بھی بہت سی چیزیں اضافہ کرلی گئیں،
اور معصومین پہ بہتان لگایا گیا ہے کہ بےگناہوں کو عذاب دیں اور گھر جلا دیں
البتہ سند کے اعتبار سے یہ بھی ضعیف ہے کیوں کہ اس کے راوی کا نام معلوم نہیں ہے ،علامہ مجلسی نے بھی بحارالانوار کی جلد۴۳،صفحہ ۳۰(مطبوعہ بیروت) میں اس واقعہ کو ”رُوِیَ“سے شروع کیا ہے ،جس کا مطلب یہ ہے کہ”روایت کی گئی ہے“اور جو قول ”قِیْلَ“ سے اور روایت”رُوِیَ“ سے شروع ہوتی ہے وہ سند کے اعتبار سے ضعیف مانی جاتی ہے
باقی جو کہانیاں ہیں وہ عوام ہی میں سے کسی کی ذہنی اختراع ہیں، چونکہ عوام میں علمی شعور نہیں ہوتا اس لئے ان کی وضع کی ہوئی کہانیاں بھی انہی کے جیسی ہوں گی جس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے ،
اِس قسم کی کہانیوں کو شیعہ معاشرے میں رائج کرانے کے پیچھے اُس شیعہ دشمن طاقت کا ہاتھ تلاش کرنا چاہئے جس نے یہ عہد کیا ہوا ہے کہ:
”ایسے شیعہ افراد کو تلاش کرکے ان کی مالی مدد کی جائے جو اپنی تحریروں کے ذریعہ شیعہ عقائد اور مراکز پر ضرب لگائیں اور شیعہ بنیادوں کو منہدم کرتے ہوئے اسے شیعہ مراجع تقلید کی اختراع قرار دیں…“
(ڈاکٹر مائیکل برانٹ ،امریکی سی آئی اے میں شیعہ سیکشن کے سابق انچارج)کا اعتراف،ماخوذ ”دین اور سیاست “تالیف سید پیغمبر عباس نوگانوی ، صفحہ۱۸۹،ناشر المنتظر ثقافتی مرکز نوگانواں سادات)

ایسی کہانی پڑھ کر دعائیں مانگنا ،اہل بیت کے طریقہِ دعا سے بالکل مختلف ہے، ہمیں اہل بیت سے محبت بھی ہے اور ہم اُن کے طریقہِ دعا کو بھی نہیں اپناتے؟
جیسا دعا کا طریقہ ہمارے رہبروں نے بتایا ہے ایسا تو کسی بھی مذہب کے پیشواؤں نے نہیں بتایا ،مگر یہ ہماری بد قسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ہم نے اس طریقہ کو چھوڑ کر غیروں کا طریقہ اپنالیا ہے
اس قوم کو کیا کہئے کہ جس کے پاس ایسے امام و رہبر ہوں جن کی دعائیں اور مناجاتیں قبولیت دعا کی ضمانت ہوں اور وہ پھر بھی ان سے استفادہ نہ کرے ،
کیا امام علیْ کی دعاؤں کی تعلیم ہمارے لئے نہ تھی؟
کیا امام زین العابدین – کی دعاؤں کا مجموعہ ”صحیفہٴ سجادیہ “ ہمارے لئے نہیں ہے؟
کیا دعائے نور و دعائے ندبہ سے ہمیں فائدہ نہیں پہنچے گا؟
اگر ایسا ہے تو پھر شیعہ سماج میں آئمہ معصومین سے منسوب دعاؤں اور مناجاتوں کو چھوڑ کر عوام کی گھڑی ہوئی کہانیوں کے ذریعہ حاجت طلب کیوں کی جاتی ہے؟
کیا یہی اہل بیت کی پیروی ہے؟
کیا کبھی ہم نے سنا اور پڑھا ہے کہ ہمارے ائمہْ یا فقہائے عظام نے ان کہانیوں کے ذریعہ حاجت طلب کی ہو؟
اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ہم کس کی پیروی کر رہے ہیں؟
کس کے نقش قدم پر چل رہے ہیں؟
کیا ہم ان من گھڑت کہانیوں کے ذریعہ آل محمد اور اُن کے فلسفے سے دور نہیں ہورہے ہیں؟
آئیے ہم سب مل کر یہ کوشش کریں کہ شیعہ سماج میں ائمہٴ معصومین سے منسوب دعاؤں اور مناجاتوں کو رواج دیں تاکہ معاشرے کی دینی و دنیاوی تمام پریشانیاں دور ہوجائیں
اقتباس

آخیر میں یہی دعا جو ہم بغیر درک کئے پانچ وقت کی نماز میں دن میں دس مرتبہ دھراتے ہیں کہ پروردگار

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ۔ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ
ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما۔جو اُن لوگوں کا راستہ ہے جن پر تو نے نعمتیں نازل کی ہیں ان کا راستہ نہیں جن پر غضب نازل ہوا ہے یا جو بہکے ہوئے ہیں۔۔۔
خداوندعالم ہمیں صحیح معنوں میں سیرت معصومین علیہم السلام پر چلتے ہوئے دین کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے. (آمین یا رب العالمین )

‏‎ وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

تبصرہ کریں