عرفہ کی دعا کا ایک حصہ:-
خدا یا! مجھے ایسا خوف عطا کرکہ گویا میں تجھ کو دیکھ رہا ہوں، اور مجھ کو اپنے تقویٰ کی سعادت نصیب فرما، اپنی معصیت و نافرمانی کی بدبختی میں نہ ڈال، اپنی قضا و قدر کو میرے واسطے مایہئ خیر و برکت بنا دے تاکہ تیری تاخیر میں عجلت اور تیری عجلت میں تاخیر کو اچھا نہ سمجھوں۔
خدا یا ! میرے نفس میں بے نیازی، دل میں یقین، عمل میں اخلاص، آنکھوں میں نور اور میرے دین میں مجھے بصیرت عطا کر، اور میرے اعضاء و جوارح میرے لئے فائدہ مند بنادے، میری سماعت و بصارت (آنکھ، کان) کو میرا وارث بنادے اور مجھ پر ظلم کرنے والے کے خلاف میری مدد فرما، اور میرا انتقام (لینے والے کو) مجھے دکھا دے اور اس کے (دیدارکے) ذریعے مجھے میری آنکھیں ٹھنڈی کردے۔
خدا یا میرا غم دور کردے، میرا پردہ قائم رکھ ، میری خطا معاف کردے، شیطان کو مجھ سے دور رکھ اور مجھے قید سے رہائی عطا کر ،اور اے میرے معبود! مجھے دنیا و آخرت میں بلند درجات عنایت فرما۔
( امام حسین علیہ السلام کی دعائے عرفہ سے اقتباس)
عرفہ ہے عبادات کی توقیر کا دن ہے
انسان کے کردار کی تعمیر کا دن ہے
ہے عہدِ امانت کو وفا کرنے کی ساعت
توحید کے اعلان کی تکبیر کا دن ہے
عرفہ ہے عبادات کی توقیر کا دن ہے
انسان کے کردار کی تعمیر کا دن ہے
جوبن پہ ہے زُخَّارِ کرامات الٰہی
یہ خاک کا اکسیر میں تغییر کا دن ہے
ہے عہدِ امانت کو وفا کرنے کی ساعت
توحید کے اعلان کی تکبیر کا دن ہے
از قوَّتِ ایمان و مناجاتِ الٰہی
دیدارِ خدا وند کی تدبیر کا دن ہے
حقدارِ جہنم تو خریدارِ جناں بن
آ پہنچا یہ تبدیلئِ تقدیر کا دن ہے
تپتے ہوئے صحرا میں رکھے خاک پہ چہرہ
یہ سجدہِ عشاق کی تفسیر کا دن ہے
معبود کے انوار کی باران کے صدقے
یہ خاک کے اجسام کی تنویر کا دن ہے
بس محضرِ قہَّار میں دو اشک بہا کر
یہ قلب کی تسلیم کا، تطہیر کا دن ہے
یہ نفس کے پھندوں سے نکلنے کا ہے لمحہ
ابلیس کی انسان سے تحقیر کا دن ہے
اب حسرت و اندوہ سے تو ہاتھ ملے گی
اے دنیا یہ آزدئِ نخچیر کا دن ہے
اس روز ہی کوفہ میں قیامت ہوئی برپا
یہ قتلِ سفیر شہِ دلگیر کا دن ہے
آجائے صائب کہ جبیں خاک پہ رکھ دیں
یہ خوابِ لقا کے لئے تعبیر کا دن ہے
(صائب جعفری)
(آخیر میں یہی دعا پروردگارِعالم ہمیں صحیح معنوں میں سیرت معصومین علیہم السلام پر چلتے ہوئے دین کو سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے. (آمین یا رب العالمین )
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”
