خیالات کا انسانی زندگی اور انسانی رویوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔
کبھی انسان اپنے خود ساختہ خیالات سے اس قدر خوفزدہ ہوجاتا ہے کہ کئی دن تک وہی خیالات آسیب بن کر اس کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ اور کبھی وہ خیالات کی پرواز اتنی اونچی ہوجاتی ہے کہ سامنے کے لوگ کیڑے مکوڑے لگنے لگتے ہیں۔ زندگی میں حالات اتنے سنگین نہیں ہوتے جتنا ہماری سوچ انھیں بنا دیتی ہے۔
سوچ کو متوازن رکھنا ہماری زندگی کی ضرورت ہے، خیالات جتنے پاکیزہ ہوں گے ہماری زندگی اتنی ہی آسان ہوتی جائے گی
جو بھی کچھ طاق خیالات پہ رہ جاتے ہیں
زیست کے خیمے اسی بات پہ رہ جاتے ہیں
“عامر”
خیالات کی دنیا حالات کی دنیا سے قدرے مختلف ہوتی ہے
اور اعلیٰ سوچ زندگی کے ہر مسئلے کا حل ڈھونڈ بھی لیتی ہے
اورکبھی کبھی یہی سوچ صرف اسے الجھا نے کے سوا اور کچھ نہیں دیتی۔
خیالات وسوسوں کی پیدا وار ہیں،
لگا ہو دل تو خیالات کب بدلتے ہیں
یہ انقلاب تو اک بے دلی میں پلتے ہیں
نکل چکے ہیں بہت دور قافلے والے
ہمیں خبر نہیں ہم کس کے ساتھ چلتے ہیں
“اشفاق”
اور جدید تحقیق کے مطابق ذہنی الجھنوں میں اضافے کی وجہ سے خیالات میں بھی انتشار بڑھتا ہے۔
"دینا میں کوئی چیز اچھی یا بری نہیں ہوتی
ہماری سوچ اسے ایسا بنا دیتی ہے "
“شیکپئر”
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
