مایوسی کفر ہے۔۔
یہ جملہ آپ سب نے بھی اکثر سنا ہوگا ہم نے بھی کافی سنا ہے، یہ جملہ قرآن کی اس آیت کی وضاحت ہے،
جس میں اللَّه نے فرمایا،،
“تم اللَّه کی رحمت سے ناامید مت ہو۔۔”
وَلَا تَا۟يْـَٔسُوا۟ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّهُۥ لَا يَا۟يْـَٔسُ مِن رَّوْحِ ٱللَّهِ إِلَّا ٱلْقَوْمُ ٱلْكَٰفِرُونَ
رحمتِ پروردگار سے مایوس نہ ہونا کہ اس کی رحمت سے کافر قوم کے علاوہ کوئی مایوس نہیں ہوتا ہے
(سورہ یوسف /87)
یقیناً اللَّه کی رحمت ایک عظیم تحفہ ہے۔
مگر یہ مایوسی کیا ہے؟
کیا بیماری کے بعد صحت نہ آنا ہی مایوسی ہے؟
کیا غربت کے بعد دولت کا نہ ملنا مایوسی ہے؟
یا پھر۔۔
ایک وقت بھوکا رہ کر دوسرے وقت کے لیے نہ پانا مایوسی ہے؟
ہمارا خیال ہے شاید یہ ہی نہیں۔۔
بلکہ مایوسی یہ بھی ہے، کہ ایک گناہ کر لیا جائے اور
خیال کیا جائے کہ یہ معاف نہیں ہوگا،
کوئی دعا کرنے کا کہے اور جواب یہ دیا جائے کہ ہماری دعائیں کہاں قبول ہوتی ہیں،
اللَّه کی طرف قدم بڑھایا جائے اور
یہ سوچا جائے کہ شاید وہ دور ہو رہا ہے،
یہ بھی مایوسی ہے،
شاید مایوسی کی بھیانک شکل ہے،
اور ہم اسی مایوسی میں جیتے ہیں،
اور یہ بھول جاتے ہیں،
مایوسی کفر ہے۔۔۔
وَ لَا تَایۡـَٔسُوۡا مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہ
اللَّه سے مایوس ہونے کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اس کی قدرت و طاقت محدود ہے اور یہ کفر ہے۔
مثلاً یہ کہنا کہ اللَّه کے لیے یہ کام ممکن نہیں ہے،
کفر ہے،
اللَّه کی قوت و قدرت کی نفی ہے۔
جیسا کہ اللَّه کی قدرت بے پایاں ہے اس کی رحمت بھی بے پایاں ہے۔
یہاں یاس کی گنجائش ہی نہیں ہے:
مایوسی کفر ہےامید ایمان ہے
اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ ۔۔۔۔
کبھی مایوس ہوجاؤ
تو رب سے گفتگو کرنا
کبھی سجدے میں جھک جانا
کبھی قرآن پڑھ لینا
یتیموں کے سروں پہ ہاتھ رکھ دینا
غریبوں سے کبھی دو بول کہہ دینا
مگر مایوس نہ ہونا
“روبی”
ہماری دعا ہے
پروردگار ہم سب کو مایوسی اور ناامیدی سے دور رکھنا
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
روبی عابدی
