14 اگست 1947 یومِ آزادی
🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰
جشنِ آزادی منائیں آج ہے چودہ اگست
سربھی سجدے میں جھکائیں آج ہے چودہ اگست
آج کی تاریخ ہے آغاز پاکستان کا
آج کی تاریخ نقشِ ناز پاکستان کا
سب ہیں خوش پرچم ہے سر افراز پاکستان کا
خالقِ کونین ہے دم ساز پاکستان کا
“محشر بدایونی “
آزادی کس کو کہتے ہیں؟
اپنی دوست کی بیٹی سے ہی معلوم ہوا کہ جشن آزادی چودہ اگست کو ہے۔ ہر کسی نے اپنی تیاری کرنا ہے۔ جھنڈیوں سے گھروں کو مزین کرنا ہے۔ سفید اور ہرے کپڑے پہننے ہیں۔ پاکستان کے جھنڈے کے بیج لگانے ہیں۔ گاڑی پر فل آواز میں ملی نغمے لگانے ہیں۔
یہ سن کر ہمیں بہت اچھا لگا کہ کہیں تو کوئی خوشی منانے کا موقع بھی ملا۔ ورنہ ہمارے ہاں تو ان تمام خوشیوں پر پابندی ہے۔ لگے ہاتھوں بچی سے یہ بھی پوچھا کہ
“یہ جو جشن آزادی آپ منا رہی ہیں یہ کس لئے ہے؟”
بچی کا جواب: “افوہ آزادی کے لئے نا”
ہم نے اگلا سوال داغا: “آزادی کسے کہتے ہیں؟”
بچی بہت حیران ہوتے ہوتے استفہامیہ انداز میں بولی:
“چھٹی کو کہتے ہیں 🙄 آپ اتنی بڑی ہو گئی ہیں۔ آپ کو یہ بھی نہیں پتہ؟” 😜
ہم نے سوچا واقعی ہمیں یہ بھی نہیں پتہ کہ چودہ اگست کی چھٹی کا نام آزادی ہے 😪
اقتباس
آزادی کے افسانے کا یہ اُجلا عنوان
یہ دن ہے پہچان ہماری، ہم اس کی پہچان
“کلیم عثمانی”
کیا وہ آزادی ملی جس کی تلاش میں یہاں کا رخ کیا گیا تھا؟
جس آزادی کا جشن اتنے زوروں سے منایا جا رہا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ ہے کیا۔
ہمیں بچپن سے مطالعہ پاکستان نے یہی سکھایا کہ مسلمانوں کے لئے ایک آزاد ملک بنایا گیا تاکہ وہ وہاں آزادی سے اپنی عبادات کر سکیں۔
کاش کہ اسی وقت اس بات کا بھی تعین کر دیا جاتا کہ مسلمان کون ہے؟
ریاست کی اس تعریف کے اعتبار سے کون سا فرقہ دائرہ اسلام میں آتا ہے تاکہ اسی فرقے کے لوگ ہجرت کی صعوبتیں کاٹیں۔
اسی آزادی کے چکر میں کتنی ہی ماؤں نے اپنے لعل کھوئے۔
کتنی ہی بہنوں نے اپنی عمریں قربان کیں۔
کتنے باپوں نے اپنا سب گھر بار لٹا دیا۔
لیکن کیا؟
ان سب کو وہ آزادی ملی جس کی تلاش میں یہاں کا رخ کیا گیا تھا؟
کیا اہل قلم کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جو چاہیں جس کے خلاف چاہیں آواز اٹھا سکیں؟
کیا سفید اور ہرے رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے لوگ سفید رنگ سے آگاہ ہیں؟
کیا سفید رنگ کی علامت اقلیتوں کو آزادی حاصل ہے کہ اپنی مرضی سے اپنی عبادات کر سکیں؟
کیا آج بھی عورت کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنی زندگی کے اہم فیصلے کر سکے؟ اپنے خاوند اور سسرال کو با آواز بلند کہہ سکے کہ میں اپنی زندگی کی مختار خود ہوں؟
کیا آج بھی غریب کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی سے کسی بھی تعلیمی ادارے کا رخ کر سکے؟
کیا ہر طرف مزدوری میں لگے کمسن بچوں کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ کھیل کود سکیں اور جبر کی زنجیریں توڑ دیں؟
کیا اہل قلم کو آزادی حاصل ہے کہ وہ جو چاہیں جس کے خلاف چاہیں آواز اٹھا سکیں؟
ہر دھڑکن میں آزادی کا پھول کھلا تھا آج کے دن
اس دھرتی کو پاکستان کا نام ملا تھا آج کے دن
“مسرور انور”
کس دن آزادی حاصل ہو گی؟
اگر جواب نفی میں ہے
تو اسے جشن آزادی مت کہئے۔
یہ چھٹی کا جشن ہے۔
جن مقاصد اور امنگوں کے نام پر یہ ملک قائم کیا گیا تھا اسے دن بدن مزید برباد کیا جا رہا ہے۔ اس سسکتے وجود کو مزید نوچ نوچ کر کھایا جا رہا ہے۔
آزادی صرف بلند آواز میں ملی نغمے سننا اور جھنڈیاں اور برقی قممقمے لگانا اور فاسٹ فوڈ پہ حاضری دینا ہی نہیں
بلکہ سب کے لئے یکساں حقوق کا نام ہے۔
سوچ اور فکر پر پڑے ہر تالے کو گرانے کا نام ہے۔
جس دن یہ آزادی حاصل ہو گئی،
ہم بھی جشن منائیں گے اور کھل کر کھل کے منائیں گے۔
جب تک ہم صرف آزادی کی چھٹی منائیں اور قائد اعظم کی روح سے چھپتے پھریں ۔
ملک کا کیا ہے؟
یہ غریب تو چلتا ہی رہے گا۔
آزادی کی قدر کرو، اللَّه کی نعمت آزادی
دورِ غلامی زحمت ہے، اللَّه کی نعمت آزادی
آزادی پر مرنا مٹنا، اپنی عزت آزادی
جاں بھی جائے پھر بھی کریں گے تیری حفاظت آزادی
“حمایت علی شاعر “
شکر ہے پروردگار کا!
آج آزادی اور تخلیقِ پاکستان کو 73 برس بیت گئے اور پاکستان کا پرچم دنیا میں سرفراز اور پاکستانی عوام سُرخرو ہیں ۔
(معذرت، کوئی بات نہیں خواب دیکھنے پہ پابندی تھوڑی ہے)
ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں
ہم سب کی ہے پہچان
ہم سب کا پاکستان پاکستان پاکستان
ہم سب کا پاکستان
پاکستان زندہ باد
🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰🇵🇰
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
“روبی عابدی”

