امام حسین علیہ السلام نے جب
“هل مِن ناصر یَنصُرُنى”
کا استغاثہ بلند کیا تو اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ نعوذ باللّٰہ وہ تنہا تھے‘ یا وہ غریب تھے ،
ہرگز نہیں،
(هل مِن ناصر یَنصُرُنى یہ الفاظ نہیں تھے مگر جس استغاثہ سے یہ جملہ لیا گیا ہے اس کا مفہوم یہی بنتا ہے )
(آیت اللّٰہ مکارم شیرازی کہتے ہیں کہ
عبارت «هل مِن ناصر یَنصُرُنى» که به امام حسین(ع) منسوب است، در منابع حدیثی و تاریخى دقیقاً به همیں صورت نقل نشده است، اما همین معنا با تفاوتهایى در متن و با عبارتهاى دیگر نقل شده است:
در آغاز نبرد؛ هنگامی که دو سپاه روبروی هم قرار گرفتند، امام حسین(ع) صدا زد:
«أَمَا مِنْ مُغِیثٍ یُغِیثُنَا لِوَجْهِ اللهِ؟ أَمَا مِنْ ذَابٍّ یَذُبُّ عَنْ حَرَمِ رَسُولِ اللّٰہ؟»؛
[ابن طاووس، على بن موسى، اللهوف على قتلى الطفوف، ص 102، تهران، جهان، چاپ اول، 1348ش] «آیا دادرسى نیست که براى رضاى خدا به داد ما برسد؟ آیا دفاعکنندهاى نیست که از حریم رسول خدا دفاع کند؟». که به دنبال آن، حرّ بن یزید ریاحی از سپاه عمر بن سعد جدا شده و به امام حسین(ع) پیوست و به درجه شهادت رسید.[همان.])
بہت سے علماء نے اس کی تشریح یہ کی ہے کہ امامٌ کے نعرہ ِ استغاثہ کا مقصد یہ تھا کہ حسینی مشن کو جاری رکھنے میں کون کون ان کا ساتھ دےگا، نہ صرف میدان کربلا میں بلکہ قیامت تک کے لئے ان کا مغیث کون ہوگا ؟ ۔
آج جو ’لبیک یا حسینؑ‘ کہتے ہیں
اس کا مقصد بھی امامٌ کے ساتھ وعدہ کرنا ہے
کہ امامٌ ہم اپنی جانیں آپ پر فداکریں
ہم آپٌ کے ساتھی اور ناصر ہیں
آپٌ کے مشن کو بڑھائیں گے
جو کہ عین اسلام اور شریعت ہے،
امام حسینؑ جانتے تھے کہ ان کے بعد آنے والے ادوار میں بھی اسلام کو خطرہ ہوگا جسے بچانے کے لئے انھوں نے ایک بنیاد فراہم کر دی ۔
حسینْ اور حسینیت،
محض ایک تاریخ کا نہیں بلکہ ایک سیرت اور طرزِ عمل کا نام ہے۔
ایک گائیڈ لائن کا نام بھی ہے
کہ
جس دین کے دامن میں ایک جانب ذبیح اللّٰہ حضرت اسماعیل علیہ اسلام کی قربانی ہو
اور دوسری جانب حضرت امام حسین ؑعالی مقام کی ان گنت قربانیاں ہوں
تو یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ اس دین کی بقا کا ذمہ تو خود اللّٰہ تعالی نے لے رکھا ہے اور یہ کسی انسان کا نہیں بلکہ خدائے بزرگ و برتر کا ہی معجزہ ہے ۔
معرکہ کربلا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ شعور، حریت، خودداری، جرات، شجاعت، ایثار وقربانی اور صبر و انقلاب کا مکمل فلسفہ ہے ۔
اس کرب و بلا میں ننھے مجاہدوں کا بھی اتنا ہی کردار ہے جتنا کسی جواں اور پیر سالہ کا ۔
“اقتباس”
کربلا اب بھی حکومت کو نگل سکتی ہے
کربلا تخت کو تلوؤں سے مسل سکتی ہے
کربلا خار تو کیا آگ پہ بھی چل سکتی ہے
کربلا وقت کے دھارے کو بدل سکتی ہے
کربلا قلعۂ فولاد ہے جراروں کا
کربلا نام ہے چلتی ہوئی تلواروں کا
(جوش ملیح آبادی)
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
