“عشق فقط عشقِ حسین علیہ السلام “
امام حسینؑ اورکربلا کوسمجھنے کے لئے صرف عقل کافی نہیں بلکہ عشق کی نظر بھی چاہئے امام عالی مقام کایہ معرکہ صرف عقل کی بناء پرظہور پذیر نہیں ہوا بلکہ اس میں عشق کی قوت بھی کارفرماتھی اس لئے ایسے لوگ جو صرف عقلی دلائل پرواقعہ کربلا کی توضیح کرتے ہیں وہ ہمیشہ شک وتردید کااظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں مگر جوعشق کی نظر سے بھی دیکھتے ہیں توپھر وہ اس نتیجہ پرجاپہنچتے ہیں کہ:
“علامہ اقبال”
عشق را آرام جاں حریت است
ناقہ اش را ساربان حریت است
“عشق کو کامل سکون اور اطمینان آزادی سے ملتا ہے
اس کے ناقہ کی ساربان حریت ہے۔”
آن شنیدیستی کہ ہنگام نبرد
عشق باعقل ہوس پرورچہ کرد
“تم نے سنا ہے کہ کربلا کے میدان میں
عشق نے عقل کے ساتھ کیا کیا۔”
آن امام عاشقان پور بتول
سرو آزادی ز بستان رسول
“حضرت امام حسینْ عاشقوں کے امام اور پیشوا حضرت فاطمہْ کے فرزند جنہیں رسول اللّٰہ کے گلشن میں سروِ آزاد کی حیثیت حاصل تھی۔ “
سرخ رو عشق غیور از خون او
شوخی ایں مصرع از مضمون او
“امام حسین (علیہ السلام) کے خون کی رنگینی سے
عشق غیور سرخ رو ہے،
کربلا کے واقعہ سے اس موضوع میں حسن اور رعنائی پیدا ہوگئی ہے۔”
درمیاں امت آں کیواں جناب
ہمچو حرف قل ھواللّٰہ درکتاب
“امت محمدیہ (ﷺ) میں آپ (علیہ السلام) کی حیثیت ایسی ہی ہے جیسے قرآن مجید میں سورۂ اخلاص کی ہے، سورۂ اخلاص میں توحید پیش کی گئی
جوکہ قرآنی تعلیمات کا مرکزی نکتہ ہے، اسی طرح امام حسین (علیہ السلام) کو بھی امت میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔”
موسیٰ وفرعون وشبیر ویزید
ایں دوقوت از حیات آید پدید
“موسیْ و فرعون و شبیر و یزید
دنیا میں حق و باطل کی کشمکش شروع سے چلی آ رہی ہے،”
زندہ حق از قوت شبیری است
باطل آخر داغ حسرت میری است
“اس کشمکش میں مجاہدین کی قوت بازو سے حق کا غلبہ ہوتا ہے اور باطل شکست و نامرادی سے دوچار۔”
چوں خلافت رشتہ از قرآن گسیخت
حریت را ز ہراندر کام ریخت
“جب خلافت کا تعلق قرآن سے منقطع ہو گیا
اور مسلمانوں کے نظام میں حریت فکر و نظر باقی نہ رہی”
خاست آں سرجلوہ خیرالامم
چوں سحاب قبلہ باراں درقدم
“اس وقت امام حسین (علیہ السلام) اس طرح اٹھے جیسے جانب قبلہ سے گھنگھور گھٹا اٹھتی ہے
یہ بادل وہاں سے اٹھا کربلا کی زمین پر برسا اور اسے لالہ زار بنادیا۔
تا قیامت قطع استبداد کرد
موج خون او چمن ایجاد کرد
“آپؓ نے قیامت تک ظلم و جبر کی جڑ کاٹ دی اور
اپنے خون کی موجوں سے ایک نیا چمن ایجاد کیا۔”
بہر حق در خاک و خون غلتیدہ است
پس بنای لاالہ گردیدہ است
“آپؓ حق کی خاطر خاک و خون میں تڑپے،
اس وجہ سے کلمہ توحید کی بنیاد بن گئے۔”
نقش الا اللہ بر صحرا نوشت
سطر عنوان نجات ما نوشت
“انہوں نے لا اللہ کا نقش صحرا کے سینے پر بٹھا دیا۔
یہ نقش ہماری نجات کے عنوان کی سطر ہے۔”
رمز قرآن از حسین آموختیم
ز آتش او شعلہ ہا اندوختیم
“ہم نے قرآن کی رمز امام حسینْ سے سیکھی ہے اور
ان کی روشن کی گئی آگ نے ہمارے اندر شعلے پیدا کر دیئے ہیں۔”
ای صبا ای پیک دور افتادگان
اشک ما بر خاک پاک او رسان
“اے صبا! اے دور رہنے والے لوگوں کی قاصد!
ہمارے آنسووں کا ہدیہ امام حسینْ کے قدموں کی پاک خاک تک پہنچا دے۔”
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
