قیام امام حسینْ کے اہداف
امام حسینْ کا قیام باطل، بد بخت اور دین بیزار حکومت کے خلاف تھا
امامْ نے اپنے قیام کے اہداف و مقاصد واضح فرمائے ہیں، اپنے بھائی محمد ابو حنفیہ کو ایک وصیت نامے میں امام عالی مقام نے اس طرح ارشاد فرمایا:
"إنّما خرجت لطلب الإصلاح في أمّة جدّي رسول الله أريد أن آمر بالمعروف وأنهى عن المنكر”( لواعج الأشجان, ج 44, ص 330..)”
“میرے اس قیام، میری جدوجہد کا اصل مقصد اور میری اس تحریک اور اقدام کا اصل ہدف صرف امت کی اصلاح ہے، میرا عزم امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ہے۔”
اس فصیح و بلیغ بیان میں آپ نے اپنے اہداف و مقاصد اور اسلام کے تحفظ اور دین کی بقاء کیلئے اپنے اللّٰہ اور اپنے نانا سید الرسل ؐ کی طرف سے ودیعت کی گئی ذمہ داریوں کا مکمل احاطہ فرما دیا ہے۔
اصلاح کو ہدف قرار دینا بذات خود اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ فساد موجود ہے، انتشار و افتراق برپا ہے اور بگاڑ ہویدا ہے۔ لہذا ان برائیوں کے خاتمے کیلئے اصلاح کی ضرورت درپیش ہے۔
چاہتا یہ ہوں کہ دنیا ظلم کو پہچان جائے
خواہ اس کرب و بلا کے معرکے میں جان جائے
(منظر حنفی)
اہداف:
ہدف اول: امر بہ معروف ونہی از منکر۔
ہدف دوم: سنت رسول خدا(ص) کو زندہ کرنا اور بدعت سے مقابلہ کرنا۔
ہدف سوم: ظلم کا مقابلہ ا ور خاتمہ کرنا۔
ہدف چهارم: راہ خداوند میں شھید ہونے کا شوق۔
ہدف پنجم: اسلامی حکومت کی بنیاد رکھنا۔
امام حسین علیہ السلام خود آپ اپنی وصیت کے دوسرے حصے میں فرماتے ہیں کہ
“میں چاہتا ہوں اپنے جد محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کی اصلاح کروں لیکن اس اصلاح کا طریقہ بھی میرے جد محمد مصطفی صلی اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم اور میرے بابا علی مرتضی علیہ السلام کی سیرت میں موجود ہے لہذا آپ نے فرمایا
“اريد ان امر با لمعروف و انہی عن المنكر واسير سيرت جدي وابی”
میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتاہوں اور اس کو اپنے جد اور اپنے بابا کی سیرت کے مطابق انجام دوں گا۔ لہذا امام عالی مقام نے گویا ایسے مفسدوں کے راستے کو بند کردیا جو اصلاح کے نام پر معاشرے پر قتل و غارت اور خون خرابے کے فتنہ کو تھونپنا چاہے۔
تو نے صداقتوں کا نہ سودا کیا حسینؑ
باطل کے دل میں رہ گئی حسرت خرید کی
(اقبال ساجد)
امام عالی مقام نے اصلاح کی بنیادی شرط سیرت نبوی (ص )اور سیرت علوی( ع) کو قرار دیا۔اسی وجہ سے اگر کوئی مصلح ہونے کا دعویدار ہو تو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ سیرت نبوی و علوی کا حامل ہو اور اس کو درک کرنے کے قابل ہو۔
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی
