(پوسٹ لمبی ہونے پہ معذرت 🙏)
“شیعہ خواتین کی نماز کا طریقہ”
ہماری ایک خواھر نے درخواست کی تھی کہ خواتین کی نماز کا طریقہ بتادیں تو آج اس کے بارے میں
نماز کے واجبات گیارہ ہیں:
1۔ نیت۔ 2۔ قیام (کھڑے ہونا)۔ 3۔ تکبیرۃ الاحرام (نما ز کی ابتدا میں اللہ اکبر کہنا)۔ 4۔ قرائت۔ 5۔ ذ کر۔ 6۔ رکوع۔ 7۔ سجود۔ 8۔ تشہد۔ 9۔سلام۔ 10۔ ترتیب 11۔ موالات (نماز کےاجزا کا پے در پے ہونا)
واجبات نماز دو حصے رکن اور غیررکن میں تقسیم ہوتے ہیں۔
: نماز کے بعض واجبات رکن ہیں یعنی اگر انسان انہیں جان بوجھ کر ہو یا بھول كر یا غلطی سے بجانہ لائے تو نماز باطل ہو جائے گی اور بعض دوسرے رکن نہیں ہیں یعنی بھولے یا غلطی سے کم ہو جائے تو نماز باطل نہیں ہوگی اور ارکان نماز پانچ ہیں:
ا۔ نیت۔ 2۔ تکبیرۃ الاحرام۔ 3۔ قیام متصل بہ رکوع یعنی کھڑے ہونے کی حالت سے رکوع میں جائے اور تکبیرۃ الاحرام کہتے وقت قیام۔ 4۔ رکوع۔ 5۔ ایک رکعت کا دو سجدہ ۔
اذان اور اقامت کے بعد
نیت۔
لازم ہے کہ نماز کو قربت کی نیت قربتہ الی اللّٰہ یعنی اللّٰہ کی بارگاہ میں تذلّل (عاجزی و انكساری) اور بندگی کا اظہار کرنے کے لیے بجالائے اور ضروری نہیں ہے کہ نیت کو دل سے گزارے یا مثلاً زبان سے کہے: چار رکعت نماز پڑھتی ہوں قربۃً الی اللّٰہ ۔
صرف ارادہ ہی نیت ہے
نیت کے بعد بالکل سیدھے کھڑی ہوجائیں اور اپنے دونوں پیر ملا کے رکھیں ان میں فاصلہ نہ ہو
نظر سجدہ گاہ پہ ہو اور ہاتھ سامنے کی طرف زانو پہ رکھا ہو
خواتین کےلیے نماز میں مردوں کی بنسبت زیادہ ستر کا اہتمام کرنا اور سمٹ کر نماز ادا کرنا مستحب ہے
تکبیرۃ الاحرام۔
اس میں پہلے ساکن حالت میں ہاتھ کو کان تک لے جائیں دونوں ہاتھ کی چھوٹی انگلی کان کی لَو کے پاس ہو اور ہتھیلی سامنے کی طرف اور بالکل ساکن پھر ” اللّٰہُ أَكْبَر” کہنا ہے واجب اور رکن ہے اور ضروری ہے کہ موالات کی رعایت کریں
پھر
قیام نماز کے چار حصوں میں اگر ممکن ہو تو واجب ہے:
ا۔ تکبیرۃ الاحرام کہتے وقت قیام
2۔ رکوع سے پہلے قیام کہ اسے قیام متصل بہ رکوع کہا جا تا ہے
3۔ قرائت کے وقت قیام (حمد سورہ اور تسبیحات اربعہ پڑھتے وقت)
4۔ رکوع کے بعد قیام
پہلے اور دوسرے مقام میں قیام واجب ہونے کے علاوہ رکن بھی ہے لیکن تیسرے اور چوتھے مقام میں قیام گرچہ واجب ہے لیکن نماز کا رکن نہیں ہے اور اگر کوئی بھول كر ترک کر دے تو اس کی نمازصحیح ہے۔
قیام میں ہاتھ زانو پہ ہوگا اور نگاہیں سجدہ گاہ پہ بدن ساکن
پھر اسی حالت میں قرآت (سورہٴ حمد اور اس کے بعد ایک دوسرا سورہ پڑھے اور احتیاط واجب كی بنا پر جو سورہ پڑھے کامل سورہ ہو اور سورہٴ (الضحیٰ) اور (الم نشرح) اور اسی طرح سورہٴ (فیل) اور (قریش) احتیاط كی بنا پر نماز میں ایک سورہ شمار ہوں گے اور ساتھ میں پڑھے جائیں گے)
یہ پڑھ کے پھر رکوع ہے
رکوع میں خواتین کے لئے زیادہ جھکنا ضروری نہیں ہے جیسا کہ مردوں کا حکم ہے کہ پشت سیدھی ہو
خواتین کے لئے اپنی انگلیاں گھٹنوں سے اوپر رکھیں اور اس حالت میں جتنا جھک سکیں لیکن اپنے گھٹنوں کو پیچھے دھکا نہیں دینا ہے اور نگاہیں پیر کے دونوں انگوٹھوں کے بیچ میں ہوں گی اور بالکل ساکن ہوگے ذکر پڑھنا
رکوع کی حالت میں نماز گزار کا بدن ثابت اور ساکن ہونا چاہیے اور اپنے بدن کو اختیاری حالت میں اس طرح حرکت نہ دیں کہ ثابت اور سکون کی حالت سے خارج ہو جائیں، یہاں تک احتیاط واجب کی بنا پر اس وقت بھی جب واجب ذکر پڑھنے میں مصروف نہ ہو اور اگر جان بوجھ کر اس ساکن (بے حرکت)ہونے کی رعایت نہ کرےتو احتیاط واجب کی بنا پر نماز باطل ہے۔ یہاں تک کہ اگر ذکر کو بدن کے ساکن(بے حرکت) ہونے کی حالت میں دوبارہ کہے۔
پھر کھڑے ہوکے ساکن ہوکے نظریں سجدہ گاہ کی طرف کرکے سمع اللّٰہ پڑھنا پھر تکبیر پڑھ کے
سجدے میں جانا سجدے میں خواتین کے لئے جتنا ممکن ہو اپنے کو سمیٹ کے رکھیں سجدے کے وقت پیشانی دونوں ہتھیلیاں، دونوں گھٹنے، دونوں پیر کے انگوٹھے لازمی زمین سے لگے ہوں دونوں پیر کے انگوٹھے کو زمین پر رکھیں لیکن انگوٹھے کا سرا زمین پر رکھنا لازم نہیں ہے بلکہ اگر اوپری یا نچلا حصہ بھی رکھیں تو کافی ہے۔
سجدے کی حالت میں ہاتھ کی انگلیاں ایک دوسرے سے ملاکر کانوں کے برابر اس طرح رکھیں کہ انگلیوں كے سرے قبلہ رُخ ہوں كہنیوں اور شکم کو زمین سے چپکائے رکھیں (مطلب بالکل زمین سے نہ لگائیں بلکہ جتنا زمین سے قریب ہوں بہتر ہے) اور بدن کے اعضا کو ایک دوسرے سے ملا کر رکھیں۔
ذکر کے بعد سیدھے بیٹھیں سجدے کے بعد بائیں ران پر بیٹھے اور دائیں پیر کے اوپری حصے کو بائیں پیر کے تلوے پر رکھے کہ اس طرح بیٹھنے کو تورّک کہتے ہیں۔
ہر سجدے کے بعد جب بیٹھیں اور بدن سکون کی حالت میں ہو جائے تو تکبیر کہیں۔
پہلے سجدے کے بعد اور بدن کے سکون کی حالت میں ہونے کے بعد "اَستَغفِرُ اللهَ رَبِّی وَاَتُوبُ اِلَیه” کہیں۔
بیٹھتے وقت ہاتھوں کو ران پر رکھیں اور نگاہیں سجدہ گاہ پہ
پھر پہلے کی طرح دوسرا سجدہ کریں
سجدہ کے بعد کی رکعت کے لیے کھڑے ہوتے وقت ہاتھوں کو زانو کے بعد زمین سے اٹھائیں کھڑے ہوتے وقت "بِحَولِ للهِ وَقُوَّتِهِ” پڑھیں
پھر پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت کی قرآت پڑھیں اس کے بعد قنوت،
تمام واجب اور مستحب نمازوں میں دوسری رکعت کے رکوع سے پہلے مستحب ہے قنوت پڑھا جائے مستحب ہے قنوت سے پہلے تکبیر کہیں اور قنوت میں ہاتھوں کو چہرے کے مقابل میں اور ہتھیلی کو آسمان کی طرف رکھیں انگوٹھے کے علاوہ باقی انگلیوں کو ملاکر رکھیں اور ہتھیلی پر نگاہ کریں بلکہ احتیاط واجب کی بنا پر ضرورت کے علاوہ ہاتھوں کو بلند کئے بغیر قنوت صحیح نہیں ہے۔
پھر رکوع اور سجود پہلے کی طرح بجا لائیں پھر دوسرے سجدے کے بعد تشہد،
لازم ہے کہ انسان تمام واجب اور مستحب نماز کی دوسری رکعت اور نماز مغرب کی تیسری رکعت اور ظہر عصر اور عشا کی چوتھی رکعت میں دوسرے سجدے کے بعد بیٹھے اور بدن کے سکون کی حالت میں تشہد پڑھیں
ممکنہ صورت میں تشہد کے لیے جس طرح بھی بیٹھنا صدق كرے بیٹھیں اور ذکر پڑھتے وقت بدن کے ساكن ہونے کی رعایت کرے
تشہد کی حالت میں چند چیزوں کو مستحب شمار کیا گیا ہے:
مستحب ہے خواتین تشہد پڑھتے وقت دونوں پیر کی رانوں کو ملا کر رکھیں ۔
ہاتھوں کو رانوں پر رکھیں اور انگلیوں کو ایک دوسرے سے ملاکر رکھے ۔اپنے دامن پر نگاہ کریں اور تشہد پڑھیں
سب سے اہم بات نماز کے ہر لفظ کی ادائیگی کے وقت جسم بالکل ساکن ہو اکثر اللّٰہ اکبر پڑھتے ہوئے ہاتھوں کو ہلا کے پڑھا جاتا ہے
ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر ہاتھ اٹھا کے (تکبیر الاحرام کے علاوہ )جو بھی تکبیر ہے اس کو کہتے ہوئے ہاتھ کانوں تک ہو اور ساکن ہو کے اللّٰہ اکبر کہیں مکمل کرکے ہاتھ ہلائیں
دوسری صورت میں مستحب تکبیر کے لئے ہاتھ اٹھانا ضروری نہیں ہے صرف اللّٰہ اکبر کہہ دیں
(اگر کچھ سمجھ میں نہیں آیا ہے تو پوچھ لیا جائے کیونکہ غلطی کرنے سے بہتر ہے سوال کرنا اور اگر کوئی غلطی نظر آئے تو اصلاح کیجئے گا شکریہ )
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

سلام علیکم۔۔۔۔میں سعودیہ میں کسی بچی کو احکام شرعیہ پڑھا رہا ہوں تو مجھے اس کو وضو کا طریقہ سکھانا ہے تو آپ سے گزارش ہے وضو کے طریقے سکھانے کے انداز میں لکھ کریں سینڈ کرکے شکریہ کا موقع دیا جاۓ
پسند کریںLiked by 1 person
”خواتین کا وضو“
وضو میں واجب ہے انسان چہرہ اور ہاتھوں کو دھوئے اور سر کے اگلے حصّے اور دونوں پاؤں کے اوپری حصّے کا مسح کریں۔
سب سے پہلے نیت قربتہ الی اللّٰہ پھر
چہرہ لمبائی میں پیشانی کے اوپر اس جگہ سے لے کر جہاں سر کے بال اگتے ہیں ٹھڈی کے آخر تک دھونا ضروری ہے اور چوڑائی میں بیچ کی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان جو حصہ آجائے اسے دھونا ضروری ہے، اگر انسان اس مقدار کا ذرا سا حصہ بھی چھوڑ دے تو اس کا وضو باطل ہے۔ اور اگر انسان کو یقین اور اطمینان نہ ہو کہ مکمل طور پر دھویا ہے تو ایسی صورت میں لازم مقدار کے دھونے کے بارے میں یقین اور اطمینان پیدا کرنے کے لیے تھوڑا اطراف میں بھی دھوئیں۔ اسی طرح چہرہ کو دھونے میں احتیاط واجب کی بنا پر ترتیب کی رعایت کرنا یعنی اوپر سے نیچے دھونا ضروری ہے اِس طرح کہ عرف میں کہا جائے کہ اوپر سے نیچے دھویا ہے تو کافی ہے
چہرہ اور ہاتھوں کو اس طرح دھونا چاہیے کہ پانی بدن کی جلد تک پہونچ جائے اور اگر کوئی مانع ہو تو اس کو برطرف کرنا ضروری ہے یہاں تک کہ اگر احتمال ہو کہ اس کی ابرو، آنکھ اور ہونٹ کے کنارے میل یا کوئی دوسری چیز ہے جو جلد تک پانی کے پہونچے میں مانع ہے اگر اس کا یہ احتمال لوگوں کی نظروں میں درست (معقول احتمال) ہو تو اسے وضو سے پہلے تحقیق کرنی چاہیے اور اگر کوئی چیز ہو تو اس کو دور کرنا چاہیے۔
چہرہ کو دھونے کے بعد پہلے داہنے ہاتھ کو اور اس کے بعد بائیں ہاتھ کو کہنی سے انگلیوں کے سرے تک دھوئیں اور اگر کوئی انسان شک کرے کہ مکمل طور پر کہنی کو دھویا ہے یا نہیں تو لازمی مقدار کے دھونے کے بارے میں یقین پیدا کرنے کے لیے کہنی سے اوپر کا کچھ حصہ دھوئیں ۔ خواتین ہاتھ کو اندورنی طرف سے پہلے دھوئیں پھر پورے ہاتھ کو آگے پیچھے۔
چہرہ کو دھونے سے پہلے کسی نے اپنے ہاتھوں کو کلائی تک دھویا ہو تو وضو کرتے وقت انگلیوں کے سرے تک دھونا ضروری ہے اور اگر صرف ہاتھوں کو کلائی تک دھوئے تو اس کا وضو باطل ہے۔
ترتیب کی رعایت کرتے ہوئے ہاتھوں کو اوپر سے نیچے کی طرف دھونا چاہیے اور اگر اس طرح دھوئے کہ عرفاً کہا جائے کہ اوپر سے نیچے دھویا ہے کافی ہے
دونوں ہاتھ کو دھونے کے بعد سر کے اگلے حصّے کا مسح کرنا وضو کے اس پانی کی تری سے جو ہاتھ میں باقی ہے لازم ہے اور سر کے مسح میں دونوں ہاتھ جو وضو میں دھوئے جاتے ہیں کہنی سے انگلیوں کے سر ے تک اس کے کسی بھی حصّے سے سر کا مسح کرنا جائز ہے۔
گرچہ احتیاط مستحب ہے کہ داہنے ہاتھ کی ہتھیلی سے مسح کرے اسی طرح احتیاط مستحب ہے کہ مسح اوپر سے نیچے کی طرف کرے۔
سر کے مسح کے بعد واجب ہے کہ وضو کے پانی کی اس تری سے جو ہاتھ میں باقی بچی ہے (مسح کرنا وضو کے اس پانی کی تری سے جو ہاتھ میں باقی ہے لازم ہے ) پاؤں کی کسی ایک انگلی سے لے کر پاؤں کی ابھری ہوئی جگہ تک مسح کرے بلکہ احتیاط واجب یہ ہے کہ جوڑ تک بھی مسح کریں
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
پسند کریںپسند کریں
سلام: سجدے میں جاتے ہوئے پہلے گھٹنے رکھنا ضروری ہے یا پہلے ہاتھ کا سہارہ لے سکتے ہیں؟
پسند کریںپسند کریں
سجدے میں جاتے وقت مستحبات میں سے ہے کہ مرد پہلے ہاتھوں کو اور خاتون پہلے زانوؤں کو زمین پر رکھے۔ لیکن ہاتھ کا سہارہ بھی لے سکتے ہیں
پسند کریںپسند کریں