امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت

25محرم حضرت علی ابن الحسین امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت کے موقع پہ رسول اللّٰہ ص خانوادہ رسول ع اور خصوصاً وقت کے امام۔ امام زمانہ عج کو اور تمام مومنین و مومنات و مسلمین و مسلمات کو تعزیت پیش کرتے ہیں

سب کے سب ترے کنبے کی جلالت پہ گواہ
سنگِ اسود ہو، صفا ہو کہ مروہ سجادٌ
پائی اسلام نے آکر ترے دامن میں پناہ
تو نے قرآں پہ کیا دھوپ میں سایہ سجادٌ
بار وہ تونے اٹھایا جو کسی سے نہ اٹھا
ہے رسولوں سے بڑا تیرا کلیجہ سجادٌ
وہاں ایوب بھی ہوتے تو جگر پھٹ جاتا
جہاں آیا نہ ترے رخ پہ پسینہ سجادٌ
(نيّر جلالپوری)

طاؤس یمانی نے روایت کی ہے کہ:-
حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ایک رات خانہ کعبہ کے حجرہ میں تشریف لے گئے اور بہت نمازیں پڑھیں، پھر سجدہ کیا، رخسار مبارک خاک پر رکھے اور ہتھیلیاں آسمان کی طرف بلند کیں،میں نے سنا کہ آہستہ سے اس ذکر میں مشغول تھے:

“إلَهِى عُبَیْدُکَ بِفِنَآئِکَ، مِسْکِینُکَ بِفِنَآئِکَ، فَقِیرُکَ بِفِنَآئِکَ، سَآئِلُکَ بِفِنَآئِکَ”
(یعنی پروردگار، تیرا چھوٹا سابندہ تیرے حضور حاضر ہے،تیرا مسکین تیری خدمت میں حاضر ہے،تیرا فقیر تیری آستان پر حاضر ہے،تیرا گدا تیری چوکھٹ پر حاضر ہے)

طاؤس کا کہنا ہے کہ :میں نے یہ دعا یاد کرلی،پھر مجھے جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تھی،میں اسی دعا سے خداوندمتعال کو پکارتا تھا اور وہ میری ہر مشکل حل فرمادیتا تھا۔
(امام سجاد علیہ السلام جمال نیایشگران ص۶۴ از سیر اعلام النبلاء ج۴ ص۳۹۳۔۳۹۴، از احقاق الحق ج۱۲،ص۲۶۔)

"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں