(ہم سے دو دن سے مسلسل ماہ صفر کے متعلق سوالات ہورہے ہیں الگ الگ سب کے جوابات دینے کے بجائے یہ پوسٹ کررہے ہیں)
“صفر کا مہینہ”
ہمارے معاشرے میں بدفالی ،نحوست اور توہّم پرستی جہاں دیگر امور میں سمجھی جاتی ہے، وہاں ماہِ صفر کے متعلق عموماً لوگ بے شمار غلطیوں ،ضعیف الاعتقادی ، بدفالی اور توہّم پرستی کا شکار نظر آتے ہیں، جس کا حقیقت اور اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔
“صفر المظفر” اسلامی سال کا دوسرا مہینہ ہے، اسلام کی آمد سے قبل بھی اس مہینے کا نام صفر ہی تھا۔ اسلام نے اس کے نام کو برقرار رکھا۔
اس بارے میں خودساختہ تمام نظریات قرآن وسنّت کے منافی ہیں، احادیثِ نبویؐ میں کسی شے کے متعلق بدفالی، نحوست اور توہّم پرستی کی سختی سے تردید کی گئی ہے
اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ اسلام سے قبل اس مہینے کے بارے میں کئی باتیں مشہور تھیں،
مثلاًلوگوں کا خیال تھا کہ اس مہینے میں آسمان سے بلائیں اور آفتیں نازل ہوتی ہیں، لہٰذا وہ اس مہینے میں سفر وغیرہ نہیں کرتے تھے۔ وہ اسے جنگ وجدال کا مہینہ شمار کرتے تھے اور جوں ہی محرم کا مہینہ ختم ہوتا ، آپس میں جنگ شروع کردیتے تھے۔
اسلامی تعلیمات سے دوری کے سبب آج کے مسلمانوں میں ایسی بہت سی باتیں رواج پا چکی ہیں، جن کا نہ صرف یہ کہ سنت و شریعت سے کوئی ثبوت نہیں ملتا، بلکہ وہ شریعت و سنت کی تعلیمات سے سراسر متصادم بھی ہیں۔عموماًمعاشرے میں صفر المظفر کی ابتدائی تیرہ تاریخوں کو منحوس تصور کیا جاتا ہے
اب رفتہ رفتہ پورے صفر کے مہینے کا نام ہی تیرہ تیزی رکھ دیا گیا ہے اور پورے مہینے کو منحوس سمجھ کر اس میں کسی بھی نئے کام کا آغاز نہیں کیا جاتا۔
اہل سنت کے ہاں اس کی بظاہر وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ ان تیرہ دنوں میں رسول اللّٰہ کے مرض الوفات میں شدت آگئی تھی، لہٰذایہ نظریہ اپنا لیا گیا کہ صفر کے ابتدائی تیرہ دن اور ان کی وجہ سے پورا مہینہ منحوس اور ہر قسم کی خیر و برکت سے خالی ہے۔ اسی طرح ان میں مشہور ہے کہ صفر کے آخری بدھ کو رسول اللّٰہ کی بیماری میں افاقہ ہوگیا تھا اور آپ نے غسل صحت فرمایا تھا، پھر تفریح کے لیے گھر سے باہر تشریف لے گئے تھے، اسی بناء پر لوگوں میں مختلف رسمیں مشہور ہیں
اور اہل تشیع میں اسیرانِ کربلا کے قافلے شام میں آمد اور قید خانہ میں جانے کی وجہ سے اسکو منحوس کہا جانے لگا اگر ہم اس ماہ کو منحوس کہیں تو اس سے زیادہ تو محرم کا مہینہ منحوس ہوگا جب آلِ رسولْ کا پورا گھر برباد ہوگیا۔۔
پھر آہستہ آہستہ محرم کے سوگ کی وجہ سے اور اربعین کی وجہ سے اور گیارہویں امام کی شہادت آٹھ ربیع الاول کی وجہ سے بڑھاتے بڑھاتے یہ سلسلہ آٹھ ربیع الاول تک ملا دیا گیا
جبکہ اس میں کسی چیز کی شریعی ممانعت نہیں ہے لیکن ایام عزاء کا نام دے کے اس پورے دو مہینے کو اس میں شامل کردیا گیا
ہمارے آئمہْ کا فرمان ہے ہمارے شیعہ ہماری خوشی میں خوش ہوتے ہیں اور ہمارے غم میں افسردہ ہوتے ہیں اور ان کی خوشی ولادت اور غم شہادت ہے۔
تو کیا اللّٰہ کو نہیں پتا تھا کہ صفر کا مہینہ غم کا اور نحس مہینہ ہے؟
سات صفر کو کربلا کے واقعے کے بعد ہمارے ساتویں امام موسی کاظم علیہ السلام کی ولادت ہوئی-
جہاں تک دعائیں پڑھنے کی باتیں ہیں تو وہ ہر اس دن پڑھی جاسکتی ہے جب ہم سے کوئی برا کام کریں
امام ع کی حدیث ہے کوئی دن نحس نہیں ہے
جس دن ہم کوئی نیک کام انجام دیں وہ دن نیک ہے اور جس دن برا کام انجام دیں وہ دن ہمارے لئے بد ہے۔
اسی طرح صدقے کی بات ہے تو صدقہ تو روز ہی نکالنا چاہئے ردِ بلا ہے
اللّٰہ تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین "
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
