“خشیت الہی”
خشیتِ الہی درحقیقت سعادت مندی، اہل تقوی کی خوبی،
قلبی اطمینان، گناہوں کی مغفرت، داخلۂ جنت، فتنوں سے نجات، اور دل گدازی کا ذریعہ ہے
تنہائی میں اللّٰہ تعالی سے ڈرنا صفتِ احسان کا تقاضا ہے،
اور احسان کا مطلب یہ ہے کہ ہم اللّٰہ تعالی کی بندگی ایسے کریں کہ گویا ہم اللّٰہ تعالی کو دیکھ رہے ہیں
اور اگر ہم اللّٰہ تعالی کو نہیں دیکھ رہے
تو وہ ہمیں دیکھ رہا ہے.
دل میں یہ احساس پیدا ہونا خشیتِ الہی کا لازم ہے
کہ اللّٰہ ہمارا نگران ہے،
اور اس بات کا علم ہو کہ اللّٰہ ہر چیز پر گواہ ہے،
لوگوں کے دلوں اور ان کے اعمال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے،
وہ آنکھوں کی خیانت اور سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے، اور اس کے بندے جہاں بھی ہوں وہ ان کے ساتھ ہے.
ارشاد باری تعالی ہے:
مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَٰثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَآ أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَآ أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا۟ ۖ
.کہیں بھی تین آدمی سرگوشی کریں تو وہ چوتھا ہوتا ہے اور پانچ کریں تو وہ چھٹا ہوتا ہے، اس سے کم لوگ کریں یا زیادہ لوگ وہ ان کے ساتھ ہی ہوتا ہے، چاہے وہ جہاں بھی ہوں[المجادلہ: 7 آیت کا حصہ]
جو شخص یہ جان لے کہ اللَّه تعالی اسے ہر جگہ دیکھ رہا ہے،
اللَّه اس کے ظاہر و باطن، خفیہ اور اعلانیہ ہر چیز سے واقف ہے، اور یہی بات خلوت اور تنہائی میں بھی اجاگر رہے
تو تنہائی میں بھی انسان گناہوں سے پاک ہو جاتا ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ
(سورہ الملک/12)
بیشک جو لوگ بغیر دیکھے اپنے پروردگار کا خوف رکھتے ہیں ان کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے
تنہائی میں اللّٰہ سے سرگوشی
دنیا کے غموں سے دور کر دیتی ہے
اور سکون کے ثمرات کی لذت کا مزہ ملتا ہے
کوئی جنت تو کوئی قربِ خدا مانگتا ہے
تیرا درویش مگر، تیری رضا مانگتا ہے
(اویس)
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
