امام علی علیہ السلام کے القابات

امام علی علیہ السلام کے القابات

القابات کو سمجھنے کے لئے ہم سب سے پہلے اسداللَّه کو سمجھیں گے کہ مولا ع کا یہ لقب ان کی شجاعت سے مراد ہے یعنی انکی شجاعت فقط اللَّه کے لئے جب یہ سمجھ میں آجائے گا تو باقی القابات سمجھنا بھی آسان ہوگا عین اللَّه لسان اللَّه ید اللَّه وجہ اللّٰہ یہ سب تشبیہات ہیں

عین اللَّه کا مطلب یعنی جس مقصد کے لئے اللَّه نے انسان کو آنکھ دی ہے امام علی ع اس طرح دیکھتے ہیں جس طرح اللَّه پسند کرتا ہے

اسکا یہ مطلب نہیں کہ اللَّه کے بدن کا کوئی جز ہیں نہیں بلکہ آنکھ کا مقصد امام علی ع کے لئے ثابت کرنا ہے

اسی طرح ہاتھ کا مقصد امام علی ع کے لیے ثابت کرنا

وجہ اللَّه یعنی چہرہ کا جو مقصد ہے وہ امام علی ع کے لئے ثابت کرنا

مثال کے طور پر یہ حضرت علی علیہ السلام کو ید اللّٰہ کہا جاتا ہے وجہ اللّٰہ کہا جاتا ہے تو اس سے مراد یہ نہیں کہ اللّٰہ کا جسم ہے اللّٰہ کا چہرہ ہے اور حضرت علی علیہ السلام اللّٰہ کا ہاتھ ہیں، یہاں مراد یہ ہے کہ علی علیہ السلام قدرت الہیہ کا مظہر ہیں، کیونکہ ہاتھ طاقت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ چہرہ وجاہت و خوبصورتی کے لئے استعمال ہوتا ہے

وجہ اللّٰہ ھونے کے معنی یہ ہیں کہ حضرت علیْ پروردگار کی صفات و اسماء کے مظہر کے مکمل آئینہ ہیں، اور اگر چہ ہم امام علیࣿ کو اس دنیا میں حسی، طبیعی اور مادی لحاظ سے مادی جسم میں نہیں دیکھتے، لیکن روحانی اوروجہ اللّٰہہونے کے لحاظ سے دیکھتے ہیں

لسان اللَّه زبان کا مقصد جو ہے اللَّه کا وہ ثابت کرنا یعنی جب امام علی ع بولیں تو لگے اللَّه کی زبان بول رہی ہے

جیسے اللَّه سچا ہے ویسے ہی امام علی ع سچے ہیں جیسے اللَّه چاہتا ہے ویسے ہی امام علی ع بیان کررہے ہیں جتنا قرآن اہم ہے اتنا ہی امام علی ع کی زبان کا نکلا ہوا لفظ اہم ہے

ہر ایک چیز کا اپنا ایک مقصد ہے اسکو جس مقصد کے لئے بنایا گیا ہےاسکو جب امام علی ع کی طرف نسبت دیں گے تو کہیں گے کہ جو ہاتھ ہمارے لئے کام کرتا ہے امام علی ع کے ہاتھ اللَّه کے لئے حرکت کرتے ہیں

اسی طرح ہر وہ چیز جو ہمارے لئے کام کرتی ہے زبان، آنکھ،

امام علی ع کی زبان اور آنکھ وہی کام اللَّه کے لئے کرتی ہیں

جو القابات امام علی ع کے ہیں وہ اللَّه کے جزو کو ثابت نہیں کرتے کمالِ حیدریْ ع کو ثابت کرتے ہیں

بہت سی روایتوں میں انبیاءْ اور ائمہ معصومینْ کووجہ اللّٰہکہا گیا ہے،

   امام رضاْ ابا صلت سے فرماتے ہیں:“ وجہ اللّٰہانبیاءْ رسلْ اور حجت خدا ہیں کہ ان کے وسیلہ سے لوگ اللہ کی، دین اور معرفت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے:“ کل شیء ھالک الا وجھہ”(مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، ج4، ص 3، طبرسی، مؤسسة الوفاء بیروت، لبنان، 1404ق.)

مُرسلِ حق کرد نامش بُو تراب

حق ید اللہ خواند در امّ الکتاب

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی

سورہ طہ "47”

التماسِ دعا

"روبی عابدی"

تبصرہ کریں