سورہ الحجرات کی آیت نمبر 12 میں ارشاد پروردگار ہے
وَ لَا یَغۡتَبۡ بَّعۡضُکُمۡ بَعۡضًا
تم میں سے کوئی بھی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے۔
حدیث نبوی میں غیبت کی یہ تعریف آئی ہے
ھل تدرون ما الغیبۃ فقالوا اللہ و رسولہ اعلم۔ قال ذکرک اخاک بما یکرہ۔
(بحار الانوار 72: 222)
کیا تم جانتے ہو غیبت کیا ہے؟
لوگوں نے عرض کیا اللّٰہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔
آپٌ نے فرمایا: غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ایسی باتوں کے ساتھ ذکر کرو جو اسے ناگوار گزریں۔
مروی ہے کہ حضرت ابوذرؓ نے پوچھا
یا رسول اللّٰہ! غیبت کیا ہے؟
آپٌ نے فرمایا
ذکرک اخاک بما یکرہہ۔ قلت یا رسول اللہ فان کان فیہ ذاک الذی یذکر بہ۔ قال اعلم اذا ذکرتہ بما ھو فیہ فقد اغتبتہ، و اذا ذکرتہ بما لیس فیہ فقد بھتہ۔۔۔۔
( الامالی للطوسی ص 537)
غیبت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی کا ایسی بات کے ساتھ ذکر کرو جو اس کو ناگوار گزرے۔
عرض کیا: اگر وہ بات اس میں موجود ہو تو بھی؟
آپٌ نے فرمایا اگر وہ بات موجود ہو تو یہ غیبت ہے
اگر وہ بات اس میں موجود نہیں ہے تو یہ بہتان ہے۔
ایک مرد حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا:
میں ابھی ابھی فلاں آدمی کی محفل سے اٹھ کر آرہا ہوں اور وہ آپ کو کہہ رہا ہے : علی بن الحسین (ع) گمراہ شخص اور بدعت گزار ہیں (نعوذ باللّٰہ )
امام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:
وہ باتیں جو خصوصی محفل میں کہی گئی ہیں، امانت ہیں اور تم نے اس شخص کی محفل کے حقوق کی رعایت نہیں کی! اور ہمارے حق کی بھی رعایت نہیں کی کیونکہ
(میرے بھائی) کی ایسی بات بتائی ہے کہ جس کی مجھے خبر نہیں تھی۔
(الاحتجاج طبرسی ج۲ ، ص۱۳۸)
یعنی غیبت یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے مومن بھائی کے کسی ایسے راز کو فاش کرے یا عیب کا ذکر کرے جس کا ذکر کرنا اسے پسند نہیں ہے۔
غیبت سے انسان کا وقار مجروح ہوتا ہے۔ ہر شخص کی زندگی میں ناہمواریاں پیش آتی ہیں۔ ان ناہمواریوں میں لغزشیں سرزد ہوتی ہیں جن سے دوسرے لوگ واقف نہیں ہوتے صرف اپنا مہربان رب واقف ہے۔ رب کی مہربانی ہے کہ وہ خود ستار العیوب ہے، اپنے بندوں سے بھی فرمایا ہے کہ وہ بھی دوسروں کے عیوب فاش نہ کریں۔
یعنی جو عیب و نقص انسان میں موجود ہے اس کا ذکر کرنا غیبت ہے۔ اگر وہ نقص یا گناہ جو اس سے سرزد ہوا ہے وہ دوسروں کو معلوم نہیں ہے ہم نے بیان کیا تو ہم نے اس کا راز فاش کیا ہے جس سے اس کا وقار مجروح ہوا۔ اگر وہ نقص ایسا ہے جو راز نہیں ہے جیسے لنگڑا، اندھا، بہرا ہے تو ان عیوب کا ذکر اس مومن کی توہین اور تذلیل ہے۔
محسوس بھی ہو جائے تو ہوتا نہیں بیاں
نازک سا ہے جو فرق گناہ و ثواب میں
(شاد)
پروردگار ہمیں غیبت جیسے گناہ سے محفوظ رکھ
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
