سادات کی فضیلت پہ بہت سی روایات نقل کی جاتی ہیں اور سوالات ہوتے ہیں اس سلسلے میں عرض ہے کہ جو بھی روایات قرآن اور حدیث (رسول اللّٰہ کا فرمان ) سے ٹکرائیں انہیں ہمارے ہاں دیوار پہ مارنے کو کہا جاتا (یعنی ایسی روایات کو قبول نہیں کیا جاسکتا)
کسی قوم اور برادری میں پیدا ہونا کسی کی بزرگی یا سعادت کی بنیاد نہیں۔
بزرگی و شرافت کی اصل بنیاد اخلاقی فضیلت ہے۔
کسی شخص کا کسی قوم میں پیدا ہونا اس کے لئے اتفاقی امر ہے۔ اس کا اپنا اس میں کوئی اختیار نہیں لہٰذا شرف بزرگی کا اصل سبب سادات سے متعلق ہونا نہیں بلکہ اس کی ذاتی اخلاقی خوبیاں ہیں۔
جو شخص اللّٰہ سے زیادہ ڈرتا ہے، اس کے احکام کا پابند ہے، اس کی رضا کا متلاشی ہے، وہ عظیم ہے، شریف ہے، بزرگ ہے اور قابل تکریم و تعظیم ہے،
کوئی رتبہ تو کوئی نام نسب پوچھتا ہے
اب جہاں میں کوئی کردار کا کب پوچھتا ہے
(نایاب)
اسلام نے رنگ ونسل، قومیت ووطنیت، اور اونچ نیچ کے سارے امتیازات کا یکسر خاتمہ کرکے ایک عالمگیر مساوات کا آفاقی تصور پیش کیا اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُمْ مِنْ ذَكَرٍ وَأُنْثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
“اے انسانوں ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخیں اور قبیلے قرار دیئے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو بیشک تم میں سے اللّٰہ کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگارہے اور اللہ ہر شے کا جاننے والا اور ہر بات سے باخبر ہے۔”
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللّٰہ کے یہاں برتری کا معیا ر
خاندان ، قبیلہ اور نسل ونسب نہیں ہے جوکسی انسان کے اختیار میں ہی نہیں ہے ۔
بلکہ یہ معیار تقوی ہے جس کا اختیار کرنا انسان کے ارادہ واختیار میں ہے ۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللّٰہ نے جو بے نظیر خطبہ دیا، جسے انسانی حقوق کا اولین منشور کہیں تو بے جا نہ ہو گا
خُطبہ الوداع میں انسانی عظمت و اقدار کے منافی تمام پہلووں کو منسوخ کردیا گیا اور وہ تمام جاہلانہ رسمیں جو کہ قبل از اسلام انسانیت کے منافی تھیں سب کو موقوف کردیا گیا
اسی لیے یہ خطبہ مکمل طور پر انسانیت کے تحفظ کیلئے بہترین ضابطہ حیات کی حیثیت رکھتا ہے، اور ایک اچھی زندگی گزارنے کیلئے ایک مکمل ضابطہ حیات اور انسانی عظمت کا منشور ہے.
اس خطبۂ ميں آپؐ نے ارشاد فرمایا:
"يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَلَا إِنَّ رَبَّكُمْ وَاحِدٌ وَإِنَّ أَبَاكُمْ وَاحِدٌ أَلَا لَا فَضْلَ لِعَرَبِيٍّ عَلَى أَعْجَمِيٍّ وَلَا لِعَجَمِيٍّ عَلَى عَرَبِيٍّ وَلَا لِأَحْمَرَ عَلَى أَسْوَدَ وَلَا أَسْوَدَ عَلَى أَحْمَرَ إِلَّا بِالتَّقْوَى”،
«اے لوگوں !تمہارا رب ایک تمہارا باپ آدم ہے۔ کسی عربی کو کسی عجمی پر ،کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی گورے کو کالے پر، کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی برتری نہیں ہے ، فضلیت کا معیار صرف تقوی ہے۔»
مسلمانوں میں حسب نسب خاص طور پر ذات برادری اشراف و ارذال در اصل بر صغیر ہند میں ہندو سماج سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے۔
آج کےدور میں بھی عرب قوم و قبیلے کے نام سے متعارف ہوتے ہیں، عرب ممالک میں قیام کے دوران یہی پایا۔ بلکہ بعض نے تبصرہ بھی کیا کہ جتنے سادات ہمارے ہند و پاک بنگلہ دیش میں پائے جاتے ہیں یا ناموں کے ساتھ لگاتے ہیں شاید اس کے عشر عشیر بھی عرب میں نہیں ملتے۔
اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ذات برادری ہندوانہ نظام درجہ بندی یعنی سب سے اعلیٰ برہمن ( مذہب) نمبر دو پر کشتریہ (چھتریہ دفاع) نمبر تین ویسیہ (تجارت) سب سے ادنی شودر جو گندی اٹھانے کے کام پر مامور ہوتے ہیں،
ایسا کسی نظام کا وجود عرب قوم میں نہیں ہے۔
روشن ضمیر آج بھی ظلمت نصیب ہیں
تم نے دیے ہیں پوچھ کے نام و نسب چراغ
“شکیب جلالی”
اب آخیر میں ایک وضاحت ساداتی ہونے پہ فخر کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ سب سے بڑی اور کٹھن ذمہ داری ان سادات کی ہے کیونکہ رسول اللّٰہ سے نسب کی بنیاد پہ ان کے چھوٹے سے گناہ پہ سب سے زیادہ باز پرس ہوگی
چاروں طرف پھیلی ہوئی گمراہی میں ان کی پکڑ پہلے ہوگی کہ اس خاندان سے ہونے کے باوجود گمراہی کا قلع قمہ نہیں کیا
تو خدارا 🙏 ہم ذات برادری سے نکل کے صرف مسلمان بن جائیں اور پھر اپنے تقوی پہ کام کریں
مومن بننا آسان ہے متقی بننا بہت مشکل عمل ہے
پروردگار ہم سب کو اصلی مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے
اور سب کی توفیقات میں اضافہ کرے
آمین یا رب العالمین
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
