اربعین 2020

السلام وعلیکم
‏‎ بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ‎

اربعین کے موقع پہ ہم سب رسول اللَّه صلی اللَّه علیہ وآلہ وسلم، خانوادہ رسول ص، خصوصا اپنے وقت کے امام صاحب العصر وزمان عج، تمام علماۓ حق ، مومینن و مومنات اور یہاں پہ تمام دوستوں کو دلی تعزیت پیش کرتے ہیں۔
پروردگار سے دعا ہے کہ ہم سب کو جلد از جلد اربعین پہ زیارت امام حسین علیہ السلام پہ جانے کی توفیق عطا کرے
اور جلد از جلد اس وباء (COVID-19) کا خاتمہ ہو آمین

‎یہ اربعین و مجالس ہیں یاد بنتِ علی
‎جو کربلا سے گئیں کوفہ , اور شام تلک

(ایک گزارش🙏
خدارا جلوس میں جائیں مگر SOP کا خیال رکھتے ہوئےکیونکہ یہ مراجع کا فتوی ہے اسکا خیال رکھنا واجبات میں سے ورنہ کوئی ہماری وجہ سے اس بیماری کا شکار ہوکے مرا تو یہ قتل ہوگا اور اگر ہم خود مرے تو یہ خودکشی ہوگی
خدارا ان باتوں کا بہت خیال رکھیں 🙏)

اربعین حسینی کی کیا اہمیت ہے؟

اربعین حسینی کی اہمیت اس لئے ہےکہ اربعین میں امام حسین (ع) کی شہادت کی یاد زندہ ہو گئی اور یہ بہت اہم بات ہے۔
ہم غور کریں کہ اگر بنی امیہ، امام حسین (ع) اور انکے اصحاب با وفا کو صفحہ ہستی سے مٹانے میں کامیاب ہوجاتے اور ان کی یاد اس زمانے کے انسانوں اور آئندہ نسلوں کے ذہن سے مٹا دیتے،
کیا ایسی صورت میں یہ شہادت عالم اسلام کےلئے مفید ہوتی؟
اگر اس زمانے کےلئے موثر بھی ہوتی تو کیا یہ واقعہ تاریخ میں آیندہ نسلوں کےلئے، مشکلات میں، تاریکیوں میں، ظلمتوں میں اور تاریخ میں ظاہر ہونے والے یزیدیوں کا گریبان چاک کرتا اور واضح طور پر اثر انداز ہوتا؟
اگر امام حسین (ع) شہید ہوجاتے، لیکن اس زمانے اور آئندہ نسلوں کو اس کا علم نہيں ہوتا کہ حسین شہید ہو گئے تو یہ واقعہ قوموں، معاشروں اور تاریخ کے ارتقاء، تعمیر اور ہدایت میں کتنا موثر ہوتا؟
ہاں بےشک امام حسین (ع) شہید ہوجاتے اور وہ خود خدا کی خوشنودی اور رضا کے بلند درجات پر فائز ہوجاتے، وہ شہید کہ جو پردیس میں اور تنہائی میں خاموشی سے شہید ہو گئے، آخرت میں انہیں ان کا اجر ملےگا،
وہ کتنا نمونہ عمل قرار پاتے؟
وہ شہید مشعل راہ بنتا ہےکہ جس کی شہادت اور مظلومیت کو اس کی ہم عصر نسلیں اور آئندہ نسلیں یاد رکھتی ہیں،
وہ شہید نمونہ عمل بنتا ہےکہ جس کا خون اچھل کر تاریخ پر محیط ہوجاتا ہے،
ایک قوم کی مظلومیت اس وقت ظلم و بربریت کے کوڑوں سے لہولہان قوموں کے جسموں پر مرہم رکھ سکتی ہےکہ یہ مظلومیت ندا بن جائے،
یہ مظلومیت دوسرے انسانوں کے کانوں تک پہنچے، یہی وجہ ہےکہ آج عالمی طاقتیں ایک دوسرے کی آواز سے آواز ملا کر چلا رہی ہیں تاکہ ہماری آواز نہ سنی جا سکے، یہی وجہ ہےکہ خزانوں کے منہ کھولنے کےلئے آمادہ ہیں کہ یہ آواز دب جائے۔
اس وقت بھی استعماری طاقتیں آمادہ ہیں کہ جو کچھ ہے وہ لٹا دیں تاکہ امام حسین (ع) اور خون حسین کا نام و نشان اور عاشور اس زمانے اور آئندہ آنے والی قوموں کےلئے ایک سبق کی صورت میں باقی نہ رہ سکے اور اس کی شناخت مٹ جائے؛
تاہم آغاز میں لوگوں کو نہیں معلوم تھا کہ یہ واقعہ کتنا عظیم ہے، جیسے جیسے وقت گزرتا گیا لوگ اس کی عظمت سے واقف ہوتے گئے۔
بنی عباس کی حکومت کے وسطی دور میں یہاں تک کہ امام حسین علیہ السلام کے روضہ مبارک کو تباہ کیا گیا، قبر مطہر پر پانی ڈالا گیا، وہ چاہتے تھےکہ قبر کا نام نشان مٹ جائے۔
شہیدوں اور شہادت کی یاد کا کردار یہ ہے،
شہادت بغیر تذکرہ،
بغیر یاد کے،
شہید کے خون میں جوش و خروش کے بغیر اپنا اثر نہیں دکھاتی ہے اور
” اربعین "
وہ دن ہےکہ جس دن واقعہ کربلا کے پیغام کا پرچم لہرانا شروع ہوا اور اس دن شہدا کی یاد جاوداں ہو گئی۔

اس طرح کا اہم دن ” اربعین ” کا دن ہے۔
امام حسین (ع) کا قیام عدل و انصاف قائم کرنے کےلئے تھا:
بنیادی طور سے اربعین کی اہمیت اس لئے ہےکہ
اس دن، اہل بیت پیغمبر (ص) کی خداداد حکمت عملی سے امام حسین (ع) کے قیام کی یاد ہمیشہ کےلئے زندہ ہو گئی اور اس کی بنیاد رکھی گئی۔
اگر شہدا کے ورثاء اور اقربا نے مختلف واقعات میں، جیسے کہ واقعہ کربلا کی یاد باقی رکھنے کےلئے کمر نہیں کسیں تو آئندہ نسلیں شہادت سے زیادہ فیضیاب نہیں ہو سکیں گی۔
یہ صحیح ہےکہ خداوند عالم شہداء کو اس دنیا میں بھی زندہ رکھتا ہے اور شہید تاریخ و لوگوں کے اذہان میں بھی زندہ ہے، لیکن تمام کاموں کی طرح خداوند عالم نے اس کام کےلئے بھی طبیعی آلات و وسائل مقرر کئے ہیں، یہ وہی چیز ہےکہ جو ہمارے اختیار اور ارادے میں ہے۔ ہم ہی ہیں کہ جو صحیح اور بروقت فیصلوں سے شہدا کی قربانیوں کی یاد اور شہادت کے فلسفہ کو زندہ رکھ سکتے ہیں۔
(حوالہ:-رہبر انقلاب آیت اللہ خمینی رح)

‎میرا سلام ہو تم پر میری شریکِ سفر
‎کہ تیرے حوصلے نے ، ہے عجب یہ کام کیا
“ارم ”

الله تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
"آمین یا رب العالمین "

وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ "47”
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

تبصرہ کریں