“صؤتی رابطہ /Phone call “
دنیا کے پہلے موبائل/سیل فون کا بنیادی کام صرف کال کروانا تھا، اور موبائل کی اس پہلی نسل کو 1G یعنی فرسٹ جنریشن کا نام دیا گیا۔ اور اس موبائل میں کال کرنے اور سننے کے سوا کوئی دوسرا آ پشن نہیں ہوتا تھا۔
پھر جب موبائلز میں SMS یعنی پیغام بھیجنے ( Sent message ) کا آپشن ایڈ ہوا،
تو اسے 2G یعنی سیکنڈ جنریشن کا نام دیا گیا ۔
پھر جس دور میں موبائلز کے ذریعے تصاویر بھیجنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی گئی
تواس ایج کے موبائلز کو 3G یعنی تھرڈ جنریشن کا نام دیا گیا ۔
اور جب بذریعہ انٹرنیٹ متحرک فلمز اور مویز بھیجنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی گئی
تو اس ایج کے موبائلز کو 4G یعنی فورتھ جنریشن کا نام دیا گیا۔۔۔
اور ابھی جب موبائلز کی دنیا 5G کی طرف بڑھ رہی تو اس وقت تک دنیا کی ہر چیز کو موبائل میں شفٹ کر دیا گیا ہے۔
آج دنیا کا شاید ہی کوئی ایسا کام ہو گا جو موبائل سے نہ لیا جا رہا ہو۔
مگر حیرت 🤔 ہے کہ اتنی ترقی کرنے اور نت نئے مراحل سے گزرنے کے باوجود یہ موبائل آج بھی اپنا بنیادی کام نہیں بھولا۔
ہم کوئی گیم کھیل رہے ہوں یا فلم دیکھ رہے ہوں، انٹرنیٹ سرچ کر رہے ہوں یا وڈیو بنا رہے ہوں ۔۔۔ الغرض موبائل پر ایک وقت میں مثلا 10 کام بھی کر رہے ہوں۔۔۔۔
لیکن
جیسے ہی کوئی کال آئے گی موبائل فوراً سے پیشتر سب کچھ چھوڑ کر ہم کو بتاتا ہے کہ کال آرہی ہے یہ سن لیں۔ اور وہ اپنے اصل اور بنیادی کام کی خاطر باقی سارے کام ایکدم روک دیتا ہے۔(اقتباس)
لیکن
ہم انسان جسے اللّٰہ نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (سورہ الذاریات/56)
اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے
اور ساری کائنات کو اس کی خدمت کے لیے سجا دیا،
لیکن ہم
اللّٰہ کی کال پر دن میں کتنی بار اپنے کام روک کر مسجد یا جائے نماز کی طرف بڑھتے ہیں؟
مسجد کی طرف بڑھنا تو درکنار
اب اللّٰہ کی کال یعنی اذان پر ہم اپنی گفتگو بھی روکنا مناسب نہیں سمجھتے۔
😢
روزِ محشر کہ جاں گداز بود
اولیں پرسشِ نماز بود
رسول اللَّه صلی اللَّه علیہ و آلہ وسلم نے اِرشاد فرمایا کہ
أَوَّلُ ما يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ :::
سب سے پہلے بندے کا حساب اس کی نماز کے بارے میں ہو گا
امام باقر(ع)فرموده است:
« إِنَّ أَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ الصَّلَاةُ فَإِنْ قُبِلَتْ قُبِلَ مَا سِوَاهَا».
«نخستین چیزی که بنده در مورد آن حسابرسی می شود نماز است.اگر نماز پذیرفته شد سایر اعمال او پذیرفته می شود».
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ھے:
”سب سے پہلے (روز قیامت) بندوں سے نماز کے بارے میں سوال ہوگا اگر نماز قبول ہے تو دوسرے اعمال بھی قبول ہیں“۔
[اصول کافی / الکلینی ۳:۲۶۸/۴،التہذیب / شیخ طوسی ۺ ۲:۲۳۹/۹۴۶۔]
عبادت ہر انسان اور نماز ہر مسلمان کی زندگی کا بنیادی جز ہے جس کی موت تک کسی صورت میں بھی معافی نہیں۔
کاش ہم موبائل سے اتنا سا ہی سبق سیکھ لیں
جسے ہم نے خود ایجاد کیا اور ایک لمحہ بھی خود سے جدا نہیں کرتے وہ اپنا بنیادی کام نہیں بھولا
بےشک ہم دنیا کے سب ہی کام کریں
مگر خدارا اپنی پیدائش کا بنیادی مقصد
یعنی اللّٰہ کی عبادت کو کبھی فراموش نہ کریں۔
اذان ہوتے ہی سب کچھ روک کر مسجد / نماز کی طرف چلیں
اور اللّٰہ کی کال پر لبیک کہیں۔
کیونکہ اللّٰہ نے نماز میں سستی کرنے والوں کو دین کا انکار کرنے والوں کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔
ٱلَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (سورہ الماعون /5)
جو اپنی نمازوں سے غافل رہتے ہیں۔۔
لغزش بہت بڑی ہے اگر رہ گئی نماز
پُرسش بہت کڑی ہے اگر رہ گئی نماز
چھوٹی خطا نہ جان ُتو ترکِ نماز کو
سب سے یہی بڑی ہے اگر رہ گئی نماز
“عرشی”
الصَّلاةُ عِمادُ الدِّينِ .
نماز ، ستون دين ہے
قَالَ رَبِّ اشۡرَحۡ لِیۡ صَدۡرِیۡ ﴿ۙ۲۵﴾ وَ یَسِّرۡ لِیۡۤ اَمۡرِیۡ ﴿ۙ۲۶﴾
وَ احۡلُلۡ عُقۡدَۃً مِّنۡ لِّسَانِیۡ ﴿ۙ۲۷﴾ یَفۡقَہُوۡا قَوۡلِیۡ ﴿۪۲۸﴾
(سورہ طہ)
اے میرے رب؛ میرے سینہ کو کشادہ کردے اور میرے کام کو آسان کردے، اور میری زبان کی گرہوں کوکھول دے تاکہ وہ میری بات کو سمجھ سکیں۔،،
🤲🤲
اللّٰہ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ کرے اور ہدایت فرماتا رہے
آمین یا رب العالمین ….!!!!
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”
