“نعمت”
(حصہ اول )
ہر نعمت کے حقیقی شکر کے لئے چار چیزیں ضروری ہے
1- نعمت کی معرفت:
2- نعمت دینے والے کی معرفت:
3- اس کا شکریہ اور سپاس:
4- نعمت کو نعمت دینے والے کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا
1- نعمت کی معرفت:
اللّٰہ تعالیٰ کے اسما، صفات اور افعال کے ذریعے اللّٰہ تعالیٰ کی معرفت کا حصول ہوتا ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ محبت، تعظیم اور توحید کے اقرار کا باعث ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ’الوہاب‘ اور اس کی ایک صفت ’الکرم‘ ہے۔ اسی صفت کے ساتھ اللّٰہ تعالیٰ لوگوں کو نعمتیں عطا فرماتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ انسانوں کو ایسی نعمتوں سے بھی سرفراز فرما دیتا ہے جو وہ مانگتے ہیں اور ایسی نعمتیں بھی عطا کرتاہے جواس نے مانگی بھی نہیں ہوتیں۔
اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد
فرمایا:
“وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ ۚ“
اور جو کچھ تم نے مانگا اس میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیا(ابراہیم : 34)
“وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا ۗ”
اور اگر تم اس کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو گے تو ہرگز شمار نہیں کرسکتے (ابراہیم : 34)
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ۖ فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللَّهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
اللّٰہ کی نعمتوں کو یاد کرو کہ شاید اسی طرح فلاح اور نجات پاجاؤ
(الاعراف : 69)
صدا لگاؤ کہ آنکھیں عجیب نعمت ہیں
انہیں یقین دلاؤ کہ روشنی کم ہے
(شاد عارفی)
2- نعمت دینے والے کی معرفت:
انسانی تکامل میں معرفت پروردگار کا بنیادی کردار ہے،
اگرچہ اللّٰہ کا وجود انسانی فطرت کی صدا ہے، مگر فطرت، اجمالی طور پرفقط ایک کامل و اکمل ذات کی نشاندہی کرتی ہے جو اس عالم ہستی کی خالق اور مدبر ہے
اگر انسانی ذہن کسی معبود کے تصور سے خالی ہو تو نہ اطاعت کا سوال پیدا ہوتا ہے اور نہ کسی آئین کی پابندی کا۔ کیونکہ جب کوئ منزل سامنے نہیں ہوگی تو منزل کی سمت بڑھنا بے معنی ہوگا، اور جب کوئ ہدف پیش نظر نہیں ہوگا تو اس کےلۓ تگ ودو کرنے کا کیا مطلب ہے؟
البتہ جب انسان کی عقل و فطرت، اس کا رشتہ کسی مافوق فطرت طاقت سے جوڑ دیتی ہے اور اس کا ذوق پرستاری و جذبہ عبودیت اسے کسی معبود کے آگے جھکا دیتا ہے تو وہ من مانی نہیں کرتا اور اپنے آپ کو قانون کے دائرہ میں محدود کرلیتا ہے، اسی قانون کا نام دین ہے۔ جس کا نقطہ آغاز خالق کی معرفت ہے۔
رسول اکرم (ص) کا یہ فرمان اسی حقیقت کی طرف اشارہ کررہا ہے:
“ما عرفناک حق معرفتک”
خدایا تیری معرفت کا جیسا حق ہے تجھے، نہیں پہچان سکے.
حضرت امیر المومنینْ نے فرمایا:
“اول الدین معرفتہ”
دین کی ابتدا اس کی معرفت ہے ۔
اسی سلسلہ میں آپ نے ایک اور مقام پر فرمایا:
“من عرف اللّٰہ کملت معرفتُہ”
یا فرمایا
“معرفة اللّٰہ سبحانہ اعلی المعارف”
جس نے اللّٰہ کو پہچانا اس کی معرفت کامل ہوئ۔
اللّٰہ تعالی کی معرفت سب سے برتر معرفت ہے۔
امام علی علیه السلام نے فرمایا:
“لا یدرکہ بُعد الھمم و لا ینالہ غوص الفطن”
نہ بلند پرواز ہمتیں اسے پا سکتی ہیں، نہ عقل و فہم کی گہرائیاں اس کی تہہ تک پہنچ سکتی ہیں.
سخنوری سے ہے مقصود معرفت فن کی
میں بے ہنر ہوں تلاش ہنر میں رہتا ہوں
(سلطان رشک)
اس کی ذات کے کمالات کی کوئی حد معین نہیں ہے۔جب اولیاۓ الہی اور کامل و اکمل ہستیاں حقیقتِ ذات کی شناخت سے اظہار عاجزی کرتے دکھائ دیتے ہیں تو عام انسانوں کا مقام معرفت واضح ہوجاتا ہے .
اقتباس
(باقی آئندہ)
"وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
"روبی عابدی”

سخنوری سے ہے مقصود معرفت فن کی
میں بے ہنر ہوں تلاش ہنر میں رہتا ہوں
(سلطان رشک)
عمدہ
پسند کریںLiked by 1 person